جن پولیس افسران کی6 ماہ کی ملازمت مدت باقی ہو، ان کے نام پر ہوڈائریکٹر جنرل کے عہدے کیلئے غور:سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th March 2019, 12:05 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے بدھ کو پولیس اصلاحات سے متعلق اپنے گزشتہ سال کے حکم کو بہتر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن افسران کی ملازمت کم از کم چھ ماہ باقی ہو، ان کے نام پر پولیس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے کیلئے غور کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ سنگھ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے پولیس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کیلئے سفارشات اور تقرری کیلئے فہرست تیار کرنے کا کام مکمل طور پر قابلیت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔عدالت عظمی نے اتر پردیش کے سابق ڈی جی پی پرکاش سنگھ کی درخواست پر یہ وضاحت دی۔سنگھ نے عدالت سے اپنے تین جولائی، 2018 کے حکم کو اصلاح کی درخواست کی تھی۔سنگھ نے الزام لگایا تھا کہ جولائی، 2018 کی ہدایات میں سنگھ پبلک سروس کمیشن کو صرف ان آئی پی ایس افسروں کے ناموں پر پولیس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے لیے غور کرنے کیلئے کہا تھا جن کی مدت دو سال باقی ہو۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومتیں اس ہدایات کا غلط استعمال کر رہی ہیں اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے لیے قابل سینئر افسران کو نظر انداز کر رہی ہیں۔عدالت نے جولائی میں پولیس اصلاحات کے بارے میں متعدد ہدایات دی تھی اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کی طرح اعلی عہدے پر تقرری کے معاملے میں تعصب اور بھائی پروری کے امکانات کو ختم کرنے کے ارادے سے عدالت نے کسی بھی پولیس افسر کو نگراں پولیس ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے سے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو روک دیا تھا۔کورٹ نے مرکز کے اس بیان کا نوٹس لیا تھا کہ کچھ ریاستوں نے خدمت مدت کے آخری دن افسر کو پولیس ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے کا طریقہ اپنا لیا ہے اور اس کی وجہ سے ایسا افسر ریٹائرمنٹ کی عمر پوری کرنے کے بعد بھی دو سال کے لئے خدمت میں بنا رہتا ہے۔عدالت عظمی نے یونین پبلک سروس کمیشن کو قابلیت اور تجربہ کو ترجیح دینے کے ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی تھی کہ پولیس ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے صرف انہی آئی پی ایس افسروں کے ناموں پر غور کیا جائے جن کے پاس کم از کم دو سال کی نوکری باقی ہے۔سنگھ نے نئی درخواست میں الزام لگایا کہ قابل اور ایماندار پولیس افسران کو ترقی دینے سے محروم کرنے کے لیے ریاستی حکومتیں اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے دو سال کی کم از کم مدت باقی رہنے سے متعلق واضح ہدایات کا استعمال کر رہی ہیں۔پرکاش سنگھ کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی تھی کہ اس کی وجہ سے مجاز حکام کے فروغ کے معاملے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پاس دو سال کی مدت باقی نہیں ہے اور یونین پبلک سروس کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ناموں پر غور نہیں کرے گا۔بھوشن نے اس سلسلے میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کی مثال دی اور کہا کہ انہوں نے استعفی دے دیا تھا اور وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے لیکن اب انہیں پولیس میں شامل ہونے کی اجازت دے کر پولیس ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا۔مرکز کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورٹ نے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ رہے پولیس افسران کو پولیس ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے کی کچھ ریاستوں کی روایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلاحکم منظور کیا تھا،کچھ ریاستوں نے تو پولیس اصلاحات کے بارے میں عدالت کے فیصلے کی روح کو درکنار کرتے ہوئے قائم مقام پولیس جنرل کی تقرری کی تھی جبکہ کچھ ریاستوں نے شروع میں کچھ افسران کو نگران پولیس ڈائریکٹر جنرل بنایا اور بعد میں ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی انہیں مستقل کر دیا جس کی وجہ سے وہ 62 سال تک خدمت میں رہے۔

ایک نظر اس پر بھی

وی وی پیٹ مشین کے تعلق سے عدالت اعلیٰ نے الیکشن کمیشن سے مانگا جواب 

سپریم کورٹ نے آج الیکشن کمیشن کوہدایت دی کہ 28مارچ تک سیمپلس کی تعدا د میں اضافہ کرے بارے میں جواب داخل کیاجائے اور فی اسمبلی حلقہ وی وی پی اے ٹی مشینوں کی تعداد میں اضافہ کے امکانات پر اظہار خیال کیاجائے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک مشرا پر مشتمل سپریم کورٹد کی بنچ نے ...

الیکشن جیتنے پر کانگریس کا اعلان ، غریب خاندان کو ملے گا سالانہ 72 ہزار روپئے 

ایک زبردست انتخابی تیقن دیتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج اعلان کیاکہ غریب ترین زمرہ سے تعلق رکھنے والوں کو فی کس 72,000روپئے سالانہ اقل ترین أجرت دی جائے گی بشرطیکہ ان کی پارٹی برسراقتدار آجائے ۔ نئی دہلی میں منعقد ہ ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرتے ہوئے کہاکہ 5کروڑ ...