راہل گاندھی کا طنز :چین پر بھی منکشف ہوگیا کہ مودی کا سینہ 56انچ کا نہیں صرف 4 انچ کا ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th February 2019, 8:35 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی7فروری (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے کانگریس نے اپنی حکمت عملی پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔جمعرات کو دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں کانگریس کا اقلیتی مورچہ کانفرنس ہوئی۔

اقلیتی مورچہ کی کانفرنس میں پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا۔راہل نے کہا کہ آج نریندر مودی کے چہرے میں گھبراہٹ دکھتی ہے، ان کے چہرے میں خوف دیکھنے کو ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی جی کو پتہ لگ گیا ہے کہ ہندوستان پر نفرت پھیلاکر راج نہیں کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم کو صرف ملک کو جوڑنے کا کام کرناہو گا، اگر ایسا نہیں ہوگا تو وزیر اعظم کو ہٹا دیا جائے گا۔کانگریس صدر نے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ مودی کا سینہ 56 انچ کا ہے اور وہ 15 سال تک راج کریں گے لیکن آج مودی کی ساکھ کی دھجیاں اڑگئی ہیں۔

راہل نے کہا کہ نریندر مودی کی حقیقت کانگریس کے کارکنوں نے ملک کے سامنے رکھی ہے۔2019 میں کانگریس پارٹی نریندر مودی، بی جے پی اور سنگھ کو شکست دے کر رہے گی۔راہل نے اس دوران چوکیدار چور ہے کے نعرے بھی لگوائے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے چوکیدار آج مجھ سے ناراض ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں بدنام کر دیا۔راہل نے کہا کہ ہم صرف ایک چوکیدار کی بات کرتے ہیں جو چور ہے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ جنگ دو نظریے کے درمیان ہے، ایک نظریہ کہتا ہے کہ یہ ملک سب کا ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ ملک صرف ایک کمیونٹی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد تھے، خلائی پروگرام کی بنیاد وکرم سارا بھائی نے رکھی تھی جو جین کمیونٹی سے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اقتصادی ترقی کی بات کریں تو منموہن سنگھ کی بات کرنی ہی پڑے گی۔راہل نے کہا کہ امت شاہ کہتے ہیں کہ یہ ملک سونے کی چڑیا ہے یعنی ان کے لئے ملک ایک پروڈکٹ ہے، اس سونے کا فائدہ ملک کے کچھ لوگوں کو ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ سنگھ کے لوگوں نے الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں میں اپنے لوگ گھسا دیئے ہیں اور ان کا مقصد انہیں ختم کرنے کا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ وہ ملک کو ناگپور سے چلانا چاہتے ہیں۔اس دوران راہل نے سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت پر طنز بھی کسا، راہل نے اپنی تقریر کے دوران عوام سے پوچھا،کیا نام ہے ان کے باس کا..موہن بھاگوت۔راہل بولے کہ موہن بھاگوت پورے ملک کو پیچھے سے چلانا چاہتے ہیں۔نریندر مودی چہرہ ہیں، یہ ریموٹ کنٹرول سے ملک کو چلانا چاہتے ہیں۔راہل نے کہا کہ مودی حکومت کے راج میں سپریم کورٹ کے جج پریس کانفرنس کرکے کہتے ہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔یہ سوچتے ہیں کہ ملک نیچے ہے اور یہ اوپر، لیکن تین مہینے میں ہی ملک انہیں سچ بتائے گا۔کانگریس صدر بولے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے بتایا کہ وہاں بی جے پی کے راج میں ایک وزارت بناکر 800 کروڑ روپے سنگھ کے لوگوں کو دئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے حکام کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ملک کے لئے کام کر رہے ہیں، نہ کہ سنگھ کے لئے۔راہل نے اس دوران نتن گڈکری کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے اچھی تقریر کی اور کہا کہ وہ سب کا کام کیا لیکن اس کے فورا بعد راہل نے کہا کہ گڈکری جی کی تصویر بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔آج بی جے پی کے وزیر بھی کہہ رہے ہیں کہ انہیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔راہل نے کہا کہ 2019 کے انتخابات میں ہم بیک فٹ پر نہیں فرنٹ فٹ پر کھیلیں گے۔کانگریس صدر بولے کہ آج نریندر مودی کھل کر بول بھی نہیں سکتے۔چین نے ڈوکلام میں نریندر مودی کو ٹیسٹ کیا، جس کے بعد چین جا کر پی ایم مودی بغیر کسی ایجنڈے کے بات کرتے ہیں۔چین کو بھی پتہ لگ گیا کہ نریندر مودی کا سینہ 56 انچ کانہیں، 4 انچ کا بھی نہیں ہے۔چین کے سامنے انہوں نے ہاتھ جوڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں مودی سے پانچ سال سے لڑ رہا ہوں، انہیں جان گیا ہوں،آج اگر انہیں میرے ساتھ اسٹیج پر کھڑا کر دو اور بحث کرا دو،یہ ڈرپوک شخص ہیں، یہ آدمی سے ڈرتے ہیں، جب ان کے سامنے کوئی کھڑا ہوتا ہے تو یہ ڈر جاتے ہیں۔راہل گاندھی نے اس کانفرنس میں کہا کہ سنگھ، بی جے پی، نریندر مودی اور ویر ساورکر سب کے ڈی این اے میں بزدلی ہے۔کانگریس پارٹی کا کارکن شیر کا بچہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مودی سے دو سوال پوچھوں گا امبانی کے بارے میں، رافیل کے بارے میں، اڈانی کے بارے میں لیکن وہ میرے سامنے اسٹیج پر کھڑے نہیں ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے مینی فیسٹو والوں سے کہا کہ مجھے ایسا کام بتاؤ جو ملک کو ہلا دے،ہم نے منریگا، کھانے کا حق جیسا کام کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات 2019: مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی نارائن رانے کا دعوی، اکیلے لڑیں گے عام انتخابات

لوک سبھا انتخابات میں چند ماہ کا وقت رہ گیا ہے، اور اتحاد کا بننا۔ٹوٹنا اس وقت عروج پر ہے۔ایک طرف پورا اپوزیشن وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے،