فرانسس نے 400میٹرمیں امریکہ کو دلایا سونا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th August 2017, 4:46 PM | اسپورٹس |

لندن،12/اگست (یو این آئی ) امریکہ کی فیلس فرانسس نے اولمپک چیمپئن بحرین کی شنی ملر یوبوکو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں خواتین کی 400 میٹر دوڑ کا طلائی تمغہ جیت لیا۔فرانسس 80 میٹر تک دوڑ میں کہیں سے بھی تمغہ کی قطار میں شامل نہیں تھیں لیکن اس کے بعد انہوں نے غضب کی واپسی کرتے ہوئے 49.92 سیکنڈ کا اپنا بہترین وقت نکالتے ہوئے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔بحرین کی 19 سالہ سلوا عید ناصر نے اس ہفتے اپنا تیسرا قومی ریکارڈ بناتے ہوئے 50.06 سیکنڈ کا وقت لے کر چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ چیمپئن امریکہ کی ایلیسن فیلکس بحرین کی ناصر سے صرف دو سیکنڈ پیچھے رہتے ہوئے 50.08 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ وہیں ریو اولمپک چیمپئن شنی ملر یوبو 50.49 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہیں۔فرانسس نے اس سنہری کامیابی کے بعد کہاکہ میں بہت پرجوش ہوں۔ یہ ایک شاندار تجربہ ہے ۔ عالمی چیمپئن بننا فخر کی بات ہے ۔ اس جیت کا ابھی تک مجھے احساس نہیں ہے لیکن یہ کل ہو گا جب میں نیند سے بیدار ہوں گی۔ ایلیسن اور شنی ملر نے شاندار طریقے سے دوڑ کا اختتام کیا، لیکن مجھے خود پر یقین تھا اور تحمل بھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ "ریو اولمپکس میں پانچویں مقام پر رہنے والی فرانسس نے کہاکہ جب میں اختتامی لائن پر پہنچی تو میں بہت حیران تھی اور خود کو دوسرے یا تیسرے نمبر پر سوچ رہی تھی، لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ پہلے نمبر پر ہیں. یہ انتہائی شاندار ہے ۔گزشتہ چیمپئن فیلکس نے کانسہ کا تمغہ جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنے خطابوں کی تعداد 14 تک پہنچا دی اور اسی کے ساتھ ہی انہوں نے جمائیکا کے یوسین بولٹ اور مارلین اوٹٹی کی برابری کر لی ہے ۔ انہوں نے کہا، "میں جھوٹ نہیں بول سکتی۔ طلائی تمغہ حاصل نہیں کرنے سے میں بہت مایوس ہوں. لیکن چیمپئن شپ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ناروے کے وارھوم 400 میٹر ہرڈل میں بنے عالمی چیمپئن فرانسس نے اس سنہری کامیابی کے بعد کہاکہ میں بہت پرجوش ہوں۔ یہ ایک شاندار تجربہ ہے ۔ عالمی چیمپئن بننا فخر کی بات ہے ۔ اس جیت کا ابھی تک مجھے احساس نہیں ہے لیکن یہ کل ہو گا جب میں نیند سے بیدار ہوں گی۔ ایلیسن اور شنی ملر نے شاندار طریقے سے دوڑ کا اختتام کیا، لیکن مجھے خود پر یقین تھا اور تحمل بھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ "ریو اولمپکس میں پانچویں مقام پر رہنے والی فرانسس نے کہاکہ جب میں اختتامی لائن پر پہنچی تو میں بہت حیران تھی اور خود کو دوسرے یا تیسرے نمبر پر سوچ رہی تھی، لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ ہلے نمبر پر ہیں. یہ انتہائی شاندار ہے ۔گزشتہ چیمپئن فیلکس نے کانسہ کا تمغہ جیتنے کے ساتھ ساتھ اپنے خطابوں کی تعداد 14 تک پہنچا دی اور اسی کے ساتھ ہی انہوں نے جمائیکا کے یوسین بولٹ اور مارلین اوٹٹی کی برابری کر لی ہے ۔ انہوں نے کہا، "میں جھوٹ نہیں بول سکتی۔ طلائی تمغہ حاصل نہیں کرنے سے میں بہت مایوس ہوں. لیکن چیمپئن شپ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی