وجئے پور چلو‘‘ تحریک ناکام۔ وجئے پور اور ببلیشور میں صورتحال کشیدہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th January 2018, 12:51 PM | ریاستی خبریں |

وجئے پور ،9؍جنوری (ایس او نیوز؍رفیع بھنڈاری) شہر وجئے پور اور ضلع نگراں کار وزیر ایم بی پاٹل کے اسمبلی حلقہ ببلیشور میں دو الگ الگ معاملات کو لے کر کشیدگی کے باعث پولیس اور ضلع انتظامیہ کو پوری طرح مستعد رہتے ہوئے امن وامان کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنی پڑی۔پچھلے ماہ یہاں دانما کی عصمت دری اور قتل معاملہ کو لے کردلت اور مختلف ترقی پسند تنظیموں کی جانب سے ’’وجئے پور چلو‘‘ احتجاج کی آواز دی گئی تو ضلع انتظامیہ اور پولیس نے یہاں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور معاملہ قدیم ہو کر تحقیق سی آئی ڈیکے حوالے کئے جانے کی وجہ سے وجئے پور چلو کے لئے اجازت نہیں دی۔ احتیاطی طور پر تحریک اصل رہنماؤں میں بھاسکر راؤ کو گرفتارکیاگیا اور دیگر کئی کارکنوں کو حراست میں لے کر شہر میں امتناعی احکامات نافذ کردئے گئے اور شہر بھر میں بالخصوص ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سرکل میں پولیس کے زبردست انتظامات کئے گئے تاہم امتناعی احکامات کے باوجود ایک گروپ نے امبیڈکر سرکل پہنچنے کامنصوبہ بنایا۔ مقامی پولیس نے شہر کے مختلف لاڈجوں میں ایک دن پہلے ریاست کے مختلف مقامات سے آئے رضاکاروں کو کمرے نہ دینے کے احکامات جاری کئے اور تحریک کو ناکام کیا۔ دریں اثناء خواتین کے ایک گروہ نے علامتی طور پرگاندھی چوک میں خاموشی کے ساتھ سیاہ پٹیاں باندھ کر دانما قتل اور عصمت دری کی مذمت کی۔ اس موقع پر سری دھر نے ضلع انتظامیہ اور پولیس پر الزام عائد کیاکہ وجئے پور چلو تحریک پرامن طور پر چلانے کا بھروسہ دلانے کے باوجود اجازت نہیں دی گئی برعکس اس کے رضاکاروں کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیاگیا۔ بتایاجاتا ہے کہ وجئے پور چلو تحریک میں مقامی دلت اور ترقی پسند تنظیموں کو دور رکھے جانے کے سبب یہاں رات دو گروہوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جس کا احساس کرتے ہوئے پولیس کومجبوراً امتناعی احکامات نافذ کرنا پڑا۔شہر بھر میں افواہوں کے پیش نظر تمام تعلیمی اداروں اور تجارتی اداروں کو بند کرنے کااعلان کیاگیا مگر پولیس کے بندوبست کے درمیان بند نہیں منایاگیا اور تمام ادارے کھلے رہے تاہم کشیدگی کاماحول دیکھنے کو ملا۔ اسی طرح ببلیشور میں دو الگ الگ پروگرام طے تھے جس میں ایک ہانگل کمارسوامی کی 150ویں جینتی، بسوا جینتی اور پنچ آچاچریہ اتواکاانعقاد کیاگیا ۔ یہ پروگرام ایم بی پاٹل کی جانب سے لنگایت دھرم کی ایک اہم کڑی کے طور پر کیاگیا۔اس کے جواب میں وزیر موصوف کے سیاسی حریف اوربی جے پی والوں نے بھی ایک مذہبی جلسہ کا انعقاد کیا جس سے پولیس والوں کوکافی محنت کرنی پڑی۔مگر ریزرو پولیس کی موجودگی اور سخت بندوبست سے دونوں اجلاس پرامن گزرے تاہم ببلیشور میں ماحول کشیدہ رہا۔

ایک نظر اس پر بھی

مندرمیں دئے گئے زہریلے پرساد سے ہلاکت کا معاملہ: پانچ گرفتار ، کلیدی ملزم مندر کے پجاری نے کیا ،زہر ملانے کا اعتراف

چامراج نگر کے ہانور تعلقہ میں آنے والے سلواڈی دیہات کے مارما مندر میں زہر آلود پرساد کی تقسیم دن بہ دن ایک نیا رخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس مندر کے بڑے پجاری ڈوڈیا نے آج پولیس کی پوچھ تاچھ کے دوران مندر میں دئے جانے والے کھانے کے پرساد میں زہر ملانے کا اعتراف کرلیا ہے۔

ْکرناٹک کی ریاستی حکومت نے کیا 9/اہم سرکاری محکموں کو سورنا سودھا منتقل کرنے کا فیصلہ

لگاوی کے سورنا سودھا کو سال بھر استعمال کرنے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے 9اہم محکموں کو سورنا سودھا منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ شمالی کرناٹک کے عوام کی یہ مانگ رہی ہے کہ کچھ اہم سرکاری محکموں کو بلگاوی منتقل کیا جائے تاکہ وہ بار بار سرکاری کاموں کے لئے بنگلور کا رخ کرنے ...

کرناٹکا کے کولار میں اسکول کی دیوار گرنے سے ساتویں جماعت کی طالبہ فوت

کولار ضلع کے ملباگل تعلق میں آنے والے گنا گنٹے پالیہ سرکل میں واقع مرارجی دیسائی اقامتی اسکول کے احاطے میں بیت الخلاء کی دیوار گرنے کے نتیجے میں ایک ساتویں  جماعت کی طالبہ کی موت واقع  ہوگئی۔ مہلوک کی شناخت جوسنا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کرناٹکا لیجسلیچر اجلاس کے تئیں حکمران اتحاد کے اراکین کی عدم دلچسپی

بلگاوی کے سورنا سودھا میں جاری لیجسلیچر کے سرمائی اجلاس کا اب جبکہ صرف ایک ہی دن باقی رہ گیا ہے، اجلاس کی کارروائیوں کے تئیں بیشتر اراکین اسمبلی کی عدم دلچسپی صاف ظاہر ہونے لگی ہے۔ حکمران کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے اراکین کی تعداد آج ایوان میں غیر معمولی طور پر کم رہی، حالانکہ ...

چامراج نگر زہریلے پرسادسے ہلاکتوں کا معاملہ: گروہی مفاد پرستی نے لی 15بے قصوروں کی جان۔ مندر کے پجاری نے دی تھی سپاری !

چامراج نگر کے سولواڈی گاؤں میں مندر کا زہریلا پرساد کھانے کے بعد ہونے والی15بھکتوں کی ہلاکتوں کے پیچھے اسی مندر کے چیف پجاری کی سازش کا خلاصہ سامنے آیا ہے۔ ...