پٹنہ بدھ گیا بم دھماکہ معاملہ،کمسن ملزم سزا پوری کرنے کے بعد بھی جیل کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th September 2017, 10:56 PM | ملکی خبریں |

ملزم کے والد نے چیف جسٹس آف انڈیاسمیت حقوق انسانی کو خطوط ارسال کئے
ممبئی ،11؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)بہارکی راجدھانی پٹنہ اور بدھشٹوں کے مذہبی مقام بدھ گیا میں ہونے والے بم دھماکہ معاملے میں گرفتار کیئے گئے ایک کمسن ملزم کو سزا پوری ہوجانے کے بعد بھی جیل سے رہا نہیں کیا جارہا ہے اور اسے ضمانت پر رہائی دینے میں جونائل جسٹس بورڈ ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہا ہے جس سے دل برداشتہ ہوکر ملزم کے والد نے چیف جسٹس آف انڈیا، چیف جسٹس آف پٹنہ ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ جج اور ڈائرکٹر جنرل آف ہیومن رائٹ کمیشن کو شکاتیں کی ہیں اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گذارش کی ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم توفیق انصاری کے والد تجمل انصاری نے متذکرہ حکام کو لکھے گئے خطوط میں بتایا کہ ملزم کو دو مقدمہ میں ملزم بنایا تھا اور ملزم کی گرفتاری جولائی ء کو ہوئی تھی تب سے اسے جونائل جسٹس ہوم (بچوں کی جیل) میں قید کرکے رکھا گیا ہے اور اس کے خلاف قائم مقدمہ جونائل جسٹس بورڈ(بچوں کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت) میں مکمل ہوچکی ہے لیکن بورڈ نے ابتک فیصلہ نہیں سنایا ہے جب کہ ملزم تین سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گذار چکا ہے۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ اگر ملزم پر الزام ثابت بھی ہوجاتا ہے تو اسے تین سال سے زائد کی سزاء نہیں ہوسکتی جبکہ ملزم نے ابھی تک تین سال سے زائد کا عرصہ جیل میں گذار چکا ہے لہذا ملزم کی غیرقانون تحویل کے خلاف حکام سے شکایت درج کرائی گئی ہے ۔گلزار اؑ ظمی نے کہا کہ دفاعی وکلاء نے جب پٹنہ ہائی کورٹ سے رجو ع کرنے کے لیئے مقدمہ کے دستاویزات طلب کیئے تو بورڈ نے دینے سے منع کردیا جس کی وجہ سے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی کوششوں کو بھی شدید دھچکہ لگا ہے۔

سربراہ گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہ اکتوبر ء کو پٹنہ کے مشہور تاریخی گاندھی میدان میں بم دھماکہ ہوا تھا جب وزیر اعظم ہند نریندر مودی ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے ،اس بم دھماکہ میں لوگ ہلاک اور1000فراد زخمی ہوئے تھے ، اسی طرح جولائی ء کو بدھ گیا میں واقع بدھشٹوں کے مندر میں بم دھماکے ہوئے تھے جس میں چند افراد زخمی ہوئے تھے ۔ بم دھماکوں کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی NIAکے سپرد کی گئی جس نے بہار، جھاکھنڈ اور آس پاس کی دیگر ریاستوں سے ۰۰ اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 307,326,212,121(A),120(B),34 ، دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 3, 5 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 16,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا جس کے بعد ملزمین کی پیروی کے لئے صدر جمعیۃ علماء ہندو مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ سید عمران غنی، ایڈوکیٹ رنجے کمار، ایڈوکیٹ واصف الرحمن خان، ایڈوکیٹ شریہ پرکاش سنگھ، ایڈوکیٹ مہیش کمار ودیگر کو مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں مقدمات میں سرکاری گواہوں کے بیانات کا اندراج مکمل ہوچکا ہے اور جلد ہی ملزمین کے بیانات کا اندارج شروع ہو گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بائیں بازو پارٹیاں 6 ڈسمبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی

  ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہادت واقعہ کے خلاف بائیں بازو پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد شہادت کی 25 ویں برسی کے ان تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی۔

اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا:ملائم سنگھ یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی)کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کو آج بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لئے تھے۔