سامنے آیا خط،مبینہ طورپر براہ راست وزیر اعظم کا دفترمداخلت کررہاتھا، منوہر پاریکر نے جواب دیاتھا،انکشاف کے بعدسیاسی گھمسان تیز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th February 2019, 12:18 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،9؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل سودے کا مسئلہ جمعہ کو لوک سبھا میں چھایا رہا جہاں متحد اپوزیشن نے ایک اخبار کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کیس کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرانے اور وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

وہیں حکومت نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کثیر القومی کمپنیوں اور مفاد سے وابستہ عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور اس کا کام گڑے مردے اکھاڑنے جیسا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ انگریزی اخبار’ دی ہندو‘ کی خبر کے مطابق وزارت دفاع تو سودے کو لے کر بات چیت کر ہی رہے تھے۔ اسی دوران وزیر اعظم کادفتر بھی اپنی طرف سے فرانسیسی طرف سے متوازی بات چیت میں لگا تھا۔ اخبار کے مطابق 24 نومبر 2015 کو وزارت دفاع کے ایک نوٹ میں کہاگیاہے کہ پی ایم اوکے دخل کے سبب بات چیت کر رہی ہندوستانی ٹیم اور وزارت دفاع کی پوزشن کمزور ہوئی۔وزارت دفاع نے اپنے نوٹ میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کی توجہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پی ایم اوکو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ کوئی بھی افسر بات چیت کر رہے ہندوستانی ٹیم کا حصہ نہیں ہے اس متوازی بات چیت نہیں کرنے کو کہا جائے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر کانگریس صدر راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں براہ راست پی ایم مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے اس میں گھوٹالہ کیا ہے۔ اس رپورٹ پر ایوان میں بھی ہنگامہ ہوا۔اس ہنگامے میں وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے اخبار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ایک اخبار نے سیکرٹری دفاع کی نوٹنگ کو شائع کیا، اگر کوئی اخبار ایک نوٹنگ کو چھاپتا ہے صحافتی اخلاقیات کا مطالبہ ہے کہ اس وقت کے وزیر دفاع کا جواب بھی شائع کیا جائے۔

دوسری طرف خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی پہنچ اس دستاویز تک بنی ہے، جس وقت وزیر دفاع منوہر پاریکر نے وزارت دفاع رافیل سودے سے منسلک عدم اطمینان نوٹ پر جواب دیا تھا۔سیکرٹری دفاع (جی موہن) کو وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے صلاح مشورہ کرکے اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔ سابق سیکرٹری دفاع جی موہن کمار نے بھی بیان دیا ہے کہ رافیل کی قیمت کو لے کر وزارت دفاع نے کوئی اعتراض نہیں ظاہر کیا تھا۔اسی طرح کے ایک جواب میں منوہر پاریکر نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے دفتر اور فرانس کے صدر کا آفس براہ راست اس معاملے میں نظر رکھ رہا ہے۔ 5 ویں آرٹیکل میں لکھی گئی ضرورت سے زیادہ رد عمل ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سیلاب اور بارش سے کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ بے حال، اَب دہلی پر منڈلایا خطرہ

ہریانہ کے ہتھنی كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے انتہائی سنگین بتائے جا رہے ہیں۔