جنید:تیری جدائی میں سب رو رہے ہیں  از:نازش ہماقاسمی 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th December 2016, 12:04 PM | اسپیشل رپورٹس |

کچھ حادثے ایسے ہوتے ہیں جن سے لاکھ چاہتے ہوئے بھی انسان پیچھا نہیں چھڑاپاتا ہے۔ وہ حادثہ دل و دماغ کو ایک دم سے مفلوج کرکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفقود کردیتاہے اور ذہن بار بار اس حادثے کی نفی کرتا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہواہوگا۔ وہ اس حادثہ میں بچ گئے ہوں گے لیکن وہ رونما ہوچکا ہوتا ہے۔ جس سے انکار ممکن نہیں ہوتا۔ ایسا ہی ایک دل خراش و خونچکاں حادثہ گزشتہ روز پاکستان میں پیش آیا جب پاکستانی ایر لائنز کا طیارہ چترال سے اسلام آبادکی طرف پروازبھرااورحویلیاں کے قریب ایبٹ آباد کی پہاڑیوں سے ٹکڑا کر پاش پاش ہوگیا۔پاکستان میں ایسے حادثات عموماََ ہوتے رہتے ہیں یہ وہاں کی انتظامیہ کی کمزوری ہے لیکن جو حادثہ بدھ کے روز پیش آیا اس حادثے نے برصغیر ہندوپاک کے لاکھوں دلوں کو مغموم کردیا، کسی کو بھی یہ یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اس حادثے میں مداح رسول جنید جمشید شہید ہوگئے ہیں لیکن متواترخبروں اور ان کے اعزاء واقارب نے جب تصدیق کردی کہ وہ راہی اجل کو لبیک کہہ گئے تب جاکر دلوں پر غم والم کے بادل چھا گئے۔ہر آنکھ اشکبار ہوگئی، ہر کوئی جنید جمشید کے اخلاق حسنہ کو یاد کرکے رو پڑا، مولانا طارق جمیل جو جنید جمشید علیہ الرحمہ کے سب سے قریبی اور جنید کو ایک ”پاپ سنگر“ سے مداح رسول بنانے والے ہیں وہ بھی اپنے آنسوؤں کوضبط نہ کرسکے،روپڑے اورانہیں کہناپڑاکہ میراسب سے عزیز آج مجھ سے رخصت ہوگیا،ان کے ساتھ گزارے ہوئے حسین لمحات کو یاد کرکے مولانا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کہنے لگے مجھے کیا پتہ تھاکہ جنیدتواتنی جلدی چلاجائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کب کس کے دل کی دنیا بدل دے یہ کوئی نہیں جانتا ہے،اور ایسا ہی کچھ جنید جمشید کے ساتھ بھی ہوا۔پاکستان ایئرفورس کے گروپ کیپٹن جمشید اکبر کے گھر 3 ستمبر 1964 بمقام کراچی میں پیدا ہونے  والے اس شخص نے دنیا کی وہ رعنائیاں اور بلندیاں حاصل کی ہیں جس کی خواہش ہر نوجوان کے دلوں میں ہوتی ہے، ابتداءََ ایئر فورس میں کام کرنے کی خواہش،بعد ازاں لاہور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرکے سویلین کے طورپرکچھ دنوں تک کام کیا،نغمہ نگاری اورگلوکاری جنیدجمشید کے رگ رگ میں سمائی ہوئی تھی،کالج کے دنوں میں بھی کیمپس کے شوز میں ہمیشہ حصہ لیا کرتے تھے۔جنیدجمشیدکوشہرت کی بلندی اس وقت نصیب ہوئی جب اس کی ملاقات وائٹل سائنز  Vital Signs کے محرک راحیل حیات اور شہزاد حسن سے ہوئی۔ جنید جمشید کی آمد اس گروپ میں لیڈسنگرکی حیثیت سے ہوئی۔جنیدنے اپنی صلاحیتوں سے پاکستان میں پاپ میوزک کو بام عروج تک پہونچا دیا،اور یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے بیشتر افرادموسیقی کے اس اندازاور انوکھے فن سے لاعلم تھے۔1987کے بعد پاکستان کے گھر گھر میں جنید جمشید کا گایا ہوا نغمہ دل دل پاکستان سنا جانے لگا۔ حتی کہ پاکستان کا یہ ملی نغمہ آج بھی ملی پروگرامس اور یومِ آزادی کے موقع پر سنا جاتا ہے۔ بلندی کے اس مقام پر1994میں جنید جمشید نے اپنا پہلا سولو البم لانچ کیا جس نے پاکستان کے میوزک گروپ اور موسیقی کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ایک زمانہ تک نوجوان دلوں کی دھڑکن بنے رہنے والے جنید جمشید کے دل کی دنیا اس وقت بدل گئی جب اُن کی ملاقات مشہور مبلغ مولانا طارق جمیل صاحب سے ہوئی۔ مولانا سے ایک اتفاقیہ ملاقات کے بعد تو دل کی دنیاہی بدل گئی، فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھ کر اور پوری دنیا کے میڈیا پر چھا جانے والے جنید اچانک منظر سے اوجھل ہوگئے،گھرکے قریب واقع مسجد کے دروازہ پر دستک دینے کے بعد جو اسلام کی لذت حاصل ہوئی پھر اس بندہ نے کبھی دوبارہ عارضی دنیا کی فانی خوشی کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا،2004 کے بعد تبلیغی جماعت سے وابستگی نے تمام دنیا کے رازہائے سر بستہ کھول کر رکھ دیا،اچانک اپنے طویل اور مشہور پیشہ کو چھوڑ نے کی وجہ سے شروع میں کچھ پریشانی بھی آئی،اپنے اور پرائے کی طرف سے تنقید بھی ہوئی لیکن خدا کا یہ بندہ سجدہ کی لذت کو پالیا تھا، پھر کیسے ممکن تھا کہ وہ دنیا کی باتوں میں آجاتا،علماء سے اس قدر لگاو اور تعلق کہ جب بھی موقع ملتا ضرور اس بات کو کہتے کہ عوام جب تک علماء سے نہیں ملے گی تعلق نہیں بنائے گی، معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے  ۔ اللہ نے ایسا تواضع عطا فرمایا کہ کئی مرتبہ علی الاعلان اپنی کم علمی اور نادانی کیلئے رو رو کر معافی بھی مانگی تھی۔ لیکن اخلاق حسنہ کا یہ پیکر اتنی جلدی ہم سے جدا ہوجائے گا یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔لوگ صرف یہ سوچ سوچ کر غمزدہ ہیں کہ دل دل پاکستان  سے شروع ہونے والا سفر محمد کا روضہ قریب آرہا ہے   پرختم ہوجائے گا۔ آج جب کہ جنید جمشید ہمارے درمیاں نہیں رہے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے اخلاق حسنہ کو یاد رکھیں اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں کیو ں کہ انہوں نے جس طرح کی زندگی بسر کی ہے ہمارے لئے نمونہ ہے۔ کیوں کہ دنیاکی تمام ترنعمتوں شہرتوں کویکبار گی جوتے کی نوک پر رکھ کر مسجدوں کی چٹائیوں اور مدرسوں کی تپائیوں پر بیٹھ کر قرآن وحدیث کی باتیں کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ سے دعاء ہے کہ اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔ اورجو ان کی زندگیوں میں ان کے مخالف رہے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ان پر لعن طعن کر رہے ہیں انہیں صحیح سمجھ عطا کرے۔ ان کیلئے دعائے مغفرت کریں تاکہ ہمارے لئے بھی کوئی دعائے مغفرت کرسکے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...