پاکستان الیکشن :خدشات سچ ثابت ہورہے ہیں، مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت گرانے والی جماعتیں کامیاب

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 29th July 2018, 2:23 AM | عالمی خبریں |

کوئٹہ :28/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عام انتخابات میں ان جماعتوں کو زیادہ نشستیں ملیں جنھوں نے اس سال کے اوائل میں بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔اس سال کے اوائل تک بلوچستان میں نون لیگ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم تھی۔ مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ن کی دو اتحادی جماعتیں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی شامل تھیں۔جن جماعتوں نے اس حکومت کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا تھا ان میں مسلم لیگ ن کے باغی اراکین، جمیعت علمائے اسلام(ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)، عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) شامل تھیں۔ مسلم لیگ ن کے باغی اراکین نے حکومت کے خاتمے کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کو بلوچستان اسمبلی کی 51نشستوں میں سے 50 پر ہونے والے انتخابات میں 15نشستیں ملی ہیں۔ اس لحاظ سے وہ بلوچستان اسمبلی میں بڑی پارٹی بن گئی ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے بعد اس کا حصہ ہے۔ صوبائی انتخابات میں ایم ایم اے نو نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سات نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔بلوچستان اسمبلی کے لیے پانچ اراکین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کو چار نشستیں ملی ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کو بلوچستان اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ پہلی مرتبہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی دو نشستیں ملی ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ نون اور جمہوری وطن پارٹی کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی۔25جولائی کو ہونے عام انتخابات میں بلوچستان سے نون لیگ اور اس کی دو اتحادی قوم پرست جماعتیں پشتونخوا ملی پارٹی اور نیشنل پارٹی ناکامی سے دوچار رہیں۔نون لیگ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو بمشکل ایک ایک نشست پر کامیابی ملی لیکن نیشنل پارٹی کوئی نشست حاصل نہیں کرسکی۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن صاف اور شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔محمود خان اچکزئی خود قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے انتخاب لڑ ے لیکن ان کو کسی بھی نشست پر کامیابی نہیں ملیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی۔سنہ 2013 کے عام انتخابات کی طرح سنہ 2018 کے عام انتخابات کے نتائج پر بھی بلوچستان میں عدم اطمینان کی فضا ہے۔جہاں ہارنے والی جماعتیں نتائج سے مطمئن نہیں وہاں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعتیں بھی ان پر معترض ہیں۔بلوچستان اسمبلی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے بھی دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے رہنما مولانا غفور حیدری نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ’بلوچستان میں جو دھاندلی کی گئی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کوریا جوہری ہتھیار تلف کرنے پر سنجیدہ لگتا ہے : امریکی خفیہ ادارہ

امریکی ذرائع ابلاغ سے موصولہ ا طلاع کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے کہا ہے کہ اسے ایسے اشارے ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار تلف کرنے پر واقعی آمادہ ہے

یہودی شرپسندوں کے طرف سے قبلہ اول پر مجرمانہ حملے جاری

فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں یہودی آبادکاروں کے دھاوے اور مقدس مقام کی مجرمانہ بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ کل سوموار کو90 یہودی آباد کار اور اسرائیلی فوجی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور قبلہ اول میں گھس کرنام نہاد مذہبی رسومات کی ...

چین پر امریکی محصولات کا سب سے بڑا پیکج نافذ العمل

امریکا میں چین سے درآمد کی جانے والی 200 ارب ڈالر کی اشیا پر 10% ٹیکس لاگو ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی نمو کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس ٹیکس کو پیر کے روز عائد کیا۔ توقع ہے کہ چین فوری جواب کے طور پر امریکا سے ہر سال درآمد کی جانے والی 60 ...

ایران نواز ملیشیائیں اسرائیل کی سرحد سے محفوظ مسافت پر ہیں: روس

روس کی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی ہمنوا فورسز اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ گولان کے پہاڑی علاقے سے اْتر کر شام کے اندر مشرق میں 140 کلومیٹر کی دْوری پر چلی گئی ہیں۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تقریبا 1050 عسکری اہل کار مذکورہ علاقے سے انخلا کے بعد اتنی مسافت پر چلے گئے ہیں ...