سعودی عرب کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 21st September 2018, 7:31 PM | خلیجی خبریں |

 ریاض 21ستمبر ( آئی این ایس انڈیا / ایس او نیوز)   پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے دورے کے دوران وہاں کی قیادت سے ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں میں بطور تیسرے شراکت دار شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ فواد چودھری نے کہاکہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی کی تجویز پر پاکستان اور سعودی کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا سعودی وفد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان پہنچے گا۔ جس میں سعودی عرب کے وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور تجارتی امور کے وزیر شامل ہوں گے۔

دورے کے دوران ان کے بقول سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک وسیع اقتصادی شراکت داری کی بنیاد رکھی جائے گی۔ واضح رہے کہ چین، پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے تحت پاکستان میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور یہ منصوبے 'بیلٹ اور روڈ' کے عنوان سے جاری چین کے وسیع منصوبے کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم ان منصوبوں میں اب تک سرمایہ کاری صرف چین کی طرف سے کی جارہی ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سعودی عرب کو دعوت دینے میں یقینی طور پر چین کی رضامندی شامل ہوگی۔ ممتاز ماہر معاشیات اور عالی بینک کے سابق نائب صدر شاہد جاوید برکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو شامل کرنے کا بنیادی مقصد اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے مزید سرمایہ کاری کا حصول ہے تاکہ صرف چین پر ہی اکتفا نہ کیا جائے۔ اْنہوں نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ نے جب اس ماہ کے شروع میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اْس وقت اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دوسرے ممالک کو بھی سرمایہ کاری کیلئے دعوت دی جائے۔

اس موقع پر طے کیا گیا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو سی پیک کے تحت قائم کئے جانے والے اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کا موقع دیا جائے۔ شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران امارات کو بھی اقتصادی راہداری منصوبے میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اور اگرچہ وہ اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم وہاں صورت حالقدرے پیچیدہ ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات گوادر کی بندرگاہ کو دبئی کی بندرگاہ کے ساتھ مقابلہ بازی کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ دبئی ایک قدرتی بندرگاہ نہیں جبکہ گوادر نہ صرف ایک قدرتی بندرگاہ ہے بلکہ وہاں بڑے جہاز بھی باآسانی لنگرانداز ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے خلاف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرف سے بڑے پیمانے پر پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے اور کچھ ممالک اس پروپیگنڈے کے زیر اثر مدافعتی پالیسی اپنانے پر بھی مجبور ہو گئے تھے۔ اْنہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملائشیا کے وزیر اعظم مآثر محمد نے اپنے گزشتہ دورہ چین کے دوران چینی سرمایہ کاری کے دو بڑے منصوبے منسوخ کر دئے تھے۔ یوں چین اب اس منصوبے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کی شمولیت سے اسے توسیع دینے کا خواہشمند ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر معاشیات اور بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی (IMF) کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ سعودی عرب کی اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت سے سعودی عرب کو چین کیلئے اپنی تیل کی برآمدات کیلئے گوادر کے ذریعے ایک نسبتاً سستا ترسیلی راستہ میسر آ جائے گا۔

اْنہوں نے کہا کہ سعودی عرب سمیت اس خطے کے ممالک تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کو توسیع دینے اور اسے دیگر شعبوں تک بڑھانے کے خواہشمند ہیں جس کیلئے ناصرف چین کو دیگر اشیا برآمد کرنے بلکہ چینی اشیا درآمد کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا ہے کہ اس وقت معاشی ترقی اور اقتصادی فوائد کے زیادہ مواقع ایشیا میں ہی ہیں اور سعودی عرب بڑے پیمانے پر اس خطے میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ قطر پہلے ہی سے چین اور جنوبی کوریا کو تیل برآمد کرتا ہے اور سعودی عرب سمیت اس خطے کے تیل اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کیلئے پاکستان کا راستہ استعمال کرنے سے لاگت میں خاصی کمی ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی کے دورہ پاکستان کے موقع پر چینی اور پاکستانی عہدیداروں کے درمیان چین پاکستان راہدری کے منصوبوں سے متعلق ہونے والے بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ اربوں ڈالر سے زائد مالیت کے سی پیک سے جڑے منصوبوں میں چین اور پاکستان کے مشترکہ دوست ممالک کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

دبئی کے قریب عجمان میں شروع ہورہا ہے نوائط پرئمیر لیگ کا شاندار کرکٹ ٹورنامنٹ؛ پہلے نام درج کرنے والی چھ ٹیموں کو ملے گا ٹورنامنٹ میں موقع

متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان میں جنوری 2019 کو نوائط پرئمیر لیگ (این پی ایل) کاشاندار کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کیا جارہا ہے ، جس  میں دبئی یا متحدہ عرب امارات کے شہروں میں مقیم  بھٹکل، شرالی، مرڈیشور اور منکی کے کھلاڑی اپنے جوہر دکھلا سکیں گے۔ اس بات کی اطلاع  این پی ایل کے کنوینر ...

ایران میں گرفتار اُترکنڑا کے ماہی گیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹکا این آر آئی فورم کا دبئی میں ہندوستانی سفارت کار سے ملاقات

  ریاست کرناٹک کے ضلع اُترکنڑا کے 18 ماہی گیروں کی ایران میں گرفتاری کے بعد اُن کی رہائی کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس تعلق سے تازہ اطلاع یہ ہے کہ  دبئی میں موجود ماہی گیروں کے رشتہ داروں نے  کرناٹکا این آر فورم کے  اہم ذمہ دار اور قائد قوم جناب ایس ایم سید خلیل الرحمن صاحب سے ...