اویسی کا مودی حکومت پرحملہ، کہا میانمار میں پھنسے ہندوؤں کو تو نکال لاؤ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 9:45 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)میانمار میں روہنگیامسلمانوں کی جاری نسل کشی کاشکاروہاں رہنے والے ہندؤں کوبھی ہوناپڑاہے۔بتایا جاتا ہے کہ میانمار میں رہنے والے کم از کم 86ہندوؤں کی اس تشدد میں موت ہو گئی ہے جبکہ 200ہندو خاندانوں کو برما آرمی اور اراکان روہنگیا سالویشن آرمی کے حملوں سے جان بچانے کے لئے جنگلوں میں بھاگنا پڑا ہے۔ہندوؤں پر ہونے والے اس ظلم کو لے کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت پر طنز کسا ہے۔اویسی نے اس خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا۔انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رججو کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ براہ مہربانی کم از کم ان 200خاندانوں کو تو ہندوستان لے آئیں۔اس کے بعد ایک سوالیہ نشان لگاتے ہوئے لکھاہے’’دیا‘‘۔

غور طلب ہے کہ میانمار میں ہندوؤں کے مارے جانے کی یہ خبر انگریزی اخبار ٹیلی گراف نے شائع کی ہے۔خبر کے مطابق میانمار سے بنگلہ دیش آتے ہوئے بھی کئی لوگ تشدد کا شکار ہوئے تھے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں، تقریبا 3لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں۔ 

بتادیں کہ وزارت داخلہ کے مطابق 14ہزار روہنگیا پناہ گزین قانونی طور پر ہندوستان میں رہ رہے ہیں،جبکہ 40ہزار سے زائد افرادایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر پناہ گزین ہیں۔بتادیں کہ ہندوستانی حکومت نے غیرقانون طورپررہ رہے روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کا فیصلہ کیاہے۔جب کہ وہاں سے کمیونٹی کے لوگوں پر ظلم کی تصاویرسامنے آرہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بہارمیں مورتی وسرجن پربی جے پی ،جدیومیں ٹھنی

محرم کے دن مجسمہ کابھسان نہیں کیا جانا چاہئے، مغربی بنگال حکومت کے اس حکم پروزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف سے تنقیدکی گئی ہے۔ اب اسی طرح کا حکم بہار کے وزیراعلیٰ نیتش کمار نے دیاہے۔

جتندر سنگھ نے کی جموں و کشمیر کے طلباء سے ملاقات

شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جتیندر سنگھ نے دارالحکومت کے دورے پر آئے جموں و کشمیر کے طلبہ کے ایک گروپ کے ساتھ آج بات چیت کی اور نوجوانوں پر مرکوز مرکزی حکومت کے بہت سے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔