ایس پی۔بی ایس پی۔کانگریس کا اسمبلی سے واک آؤٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th February 2019, 12:57 AM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،06 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی حکومت پر گنا بقائے کی ادائیگی کرنے میں سنجیدہ رخ نہ اختیارکرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس نے بدھ کو ریاست اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔کانگریس لیڈر اجے کمار للو اور کچھ دیگر ارکان نے سوال کے دوران مذکورہ مسئلہ اٹھایا۔جواب میں گنا ترقی کے وزیر سریش رانا نے کہا کہ 6,054کروڑ روپے کی گنا کی ادئیگی واجب الادا ہے۔انہوں نے بتایا کہ2017-18کرشنگ سیشن کے لئے 97 فیصد ادائیگی کر دی گئی ہے اور اب 1,053کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔رانا نے کہا کہ ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت بننے کے بعد سے 34, 411کروڑ روپے کی ریکارڈ ادائیگی کی گئی ہے۔حکومت کسانوں کے مفادات کے لئے مصروف عمل ہے۔اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری اور بی ایس پی کے لال جی ورما نے جاننا چاہا کہ کسانوں کو پوری ادائیگی کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔جواب سے غیر مطمئن اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی پہلے چائے و الا، اب چوکیدار بن کر کر رہے تشہیر: مایاوتی

وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کی گئی’میں بھی چوکیدار‘ مہم پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے منگل کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں چائے والا اور اب چوکیدار...، ملک واقعی بدل رہا ہے،