ایک بار پھر آپریشن کمل شروع، گیارہ اراکین اسمبلی کی وفاداری تبدیل کرنے بی جے پی کی کوشش تیز

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th January 2019, 2:17 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو 9جنوری (ایس او نیوز) ریاست کی مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایک بار پھر بی جے پی کی طرف سے آپریشن کمل شروع کئے جانے اور کانگریس کے 12 اراکین اسمبلی کو اپنے خیمے میں شامل کرنے کی کوشش تیز ہوگئی ہے۔

بتایاجاتاہے کہ دہلی میں مقیم ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا ان بارہ اراکین اسمبلی کو بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ سے ملانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن اب تک یہ ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ وزارت میں شمولیت کے مرحلے میں نظر انداز کئے جانے کے بعد سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے چیرمینوں کے تقرر کے دوران بھی نظر انداز کردئے جانے پر ناراض کانگریس اراکین اسمبلی نے آپریشن کمل کے تحت اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن کہاجارہاہے کہ مہاراشٹرا کے ایک طاقتور مرکزی وزیر کی نگرانی میں ان اراکین اسمبلی سے بات چیت کی گئی ہے۔ کہاجارہاہے کہ ان اراکین اسمبلی کی امت شاہ سے ملاقات کے بعد ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش میں اور تیزی لائی جائے گی۔ بلاری ضلع کے تین ، بلگاوی ضلع کے چار اور ہاویری و رائچور ضلع کے ایک ایک رکن اسمبلی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جارہاہے۔ سابق وزیر رمیش جارکی ہولی کی قیادت میں جن اراکین کو بی جے پی نشانہ بنانے کی کوشش کررہی ہے ان میں مہانتیش کمبتھ ہلی ،سری منت پاٹل ، بی سی پاٹل ، بی ناگیندرا ، آنند سنگھ ، گنیش ، پرتاب گوڈا پاٹل، بسوراج ددور ، آزاد اراکین اسمبلی آر شنکر اور ناگیش شامل ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

کاسرگوڈ میں جانور لے جانے کے الزام میں دو لوگوں پر حملہ؛ بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف معاملات درج کرنے پر مینگلور کے قریب وٹلا اور بنٹوال میں بسوں پر پتھراو

پڑوسی ریاست کیرالہ کے  کاسرگوڈ میں جانور لے جانے کے الزام میں دو لوگوں پر حملہ اور لوٹ مار کی وارداتوں کے بعد پولس نے جب  بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف معاملات درج کئے  تو  مینگلور کے قریب  وٹلا اور بنٹوال  میں  بسوں پر پتھراو اور توڑ پھوڑ کی واردات پیش آئی ہے۔ پتھراو میں   نو ...