آپریشن کمل آڈیو کی گونج لوک سبھا میں،تمام اپوزیشن پارٹیوں کا دھرنا، کارروائی ملتوی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2019, 11:01 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12؍جنوری(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا کی طرف سے ایک جے ڈی ایس رکن اسمبلی کے فرزند کو رکن اسمبلی کی وفاداری کے عوض نقد رقم اور وزارت کی پیش کش پر مشتمل آڈیو کی گونج آج لوک سبھا میں بھی سنائی دی۔ اور یہ آڈیو آج پارلیمان کی کارروائیوں میں رخنہ اندازی کا سبب بنا۔

آج جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھرگے ، کے سی وینو گوپال اور جے ڈی ایس کے سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے یہ معاملہ کافی شدت سے اٹھایا ۔ پچھلے تین دنوں سے کرناٹک میں سیاسی طوفان کا موضوع بنی مبینہ آڈیو کلپ کا تذکرہ کرتے ہوئے ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ اس آڈیو کلپ میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ جمہوری طریقے سے قائم ریاستی حکومت کو گرانے کے لئے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ متحرک ہیں۔اس حکومت کو گرانے کی صورت میں پیش آنے والی عدالتی پیچیدگیوں سے مودی اور شاہ نپٹ لیں گے۔ کھرگے نے کہا کہ اس طرح کے تبصرے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مودی اور شاہ ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں جب سے کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت قائم ہوئی ہے بی جے پی کسی نہ کسی طریقے سے اس حکومت کو گرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔اراکین اسمبلی کو ان کی وفاداری کے عوض کروڑوں روپیوں کا لالچ دیا جارہاہے۔

کھرگے نے اسپیکر سمترا مہاجن سے مخاطب ہوکر مطالبہ کیا کہ یہ جانچ کی جائے کہ اراکین اسمبلی کو اتنی بڑی رقم ادا کرنے کے لئے پیسہ کہاں سے آرہاہے۔ کے سی وینو گوپال اور سابق وزیراعظم دیوے گوڈا نے بھی ملیکارجن کھرگے سے اتفاق کیا اور مطالبہ کیا کہ اس مبینہ آڈیو کی جانچ کی جائے۔ کے سی وینو گوپال نے مخاطب ہوکر کہاکہ بی جے پی کرناٹک میں اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت کا بازار لگانا چاہتی ہے، کرناٹک کے آپر یشن کمل میں وزیراعظم مودی اور بی جے پی ک قومی صدر امت شاہ راست طور پر شامل ہیں۔ جے ڈی ایس کے ایک رکن اسمبلی کو خریدنے کا لالچ دیتے ہوئے بی جے پی کے ایک سرکردہ رہنما کی آڈیو سی ڈی منظر عام پر آئی ہے، اس پر مرکزی وزیر سدانند گوڈا کی قیادت میں بی جے پی اراکین نے جب اعتراض کرنے کی کو شش کی تو کانگریس اراکین نے اراکین اسمبلی کی خریدوفروخت کا الزام لگاتے ہوئے اسپیکر کے روبرو جمع ہوکر دھرنا شروع کردیا اور بی جے پی کے خلاف نعروں پر مشتمل تختیاں دکھانے لگے۔ تیلگو دیشم اور ترنمول کانگریس کے اراکین بھی کانگریس کی حمایت میں دھرنے میں شامل ہوگئے، جس کی وجہ سے اسپیکر سمترا مہاجن کو لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ہندو لیڈر سورج نائک سونی نے اننت کمار ہیگڈے کو کہا،مودی حکومت کا داغدار وزیر؛ اُس کی مخالفت میں کام کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیم تیار

ضلع شمالی کینرا میں ایک نوجوان ہندو لیڈر کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے کمٹہ کے سورج نائک سونی نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چل رہی مرکزی حکومت میں اننت کمار ہیگڈے کی حیثیت ایک داغداروزیر کی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں ...

کرناٹک میں نوٹیفکیشن کے پہلے دن 6؍امیداروں کی نامزدگیاں داخل 

ریاست میں لوک سبھا الیکشن کے پہلے مرحلہ میں 14؍سیٹوں پر 18؍اپریل کو ہونے والے الیکشن کے لئے پرچہ نامزدگی کرنے کا آغاز ہوگیا ۔ پہلے دن چار حلقوں میں6؍ امیدواروں کی جانب سے 11؍ مزدگیاں داخل کئیں۔ یہ اطلاع ریاستی الیکشن افسر سنجیو کمار نے دی۔

بنگلورو کے تینوں پارلیمانی حلقوں میں ڈی سی پیز کی زیرنگرانی سخت بندوست لائسنس یافتہ 7؍ہزار ہتھیارات تحویل میں :پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار

پولیس کمشنر ٹی۔ سنیل کمار نے بتایا کہ بنگلور سنٹرل ،بنگلور نارتھ اور بنگلور ساؤتھ لوک سبھا حلقوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے پولیس افسروں کی نگرانی میں پولیس کا سخت بندوبست کیاگیا ہے۔