سعودی عرب کا ریاض کے مضافات میں’’تفریحی شہر‘‘ بنانے کا اعلان

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 9th April 2017, 7:14 PM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

ریاض9اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض کے مضافات میں ایک تفریحی شہر قائم کیا جائے گا۔اس'شہر' کو سال 2022 میں کھولنے کا ارادہ ہے اور یہ سعودی حکومت کے 'ویڑن 2030' پلان کا حصہ ہے جس کے مطابق ملک میں نوجوانوں کو ملازمت کے نئے مواقعے فراہم کیے جائیں گے اور سعودی عرب کے سخت تاثر کو کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ 'تفریحی شہر' 334 مربعہ کلو میٹر کے رقبے پربنایا جائے گا اور اس میں کھیل، ثقافت اور تفریحی سہولیات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہاں پر سفاری پارک اورمشہورزمانہ سِکس فلیگ کی جانب سے تھیم پارک بھی بنایا جائے گا۔مملکت کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرے گا جس کی ابتدا اگلے سال ہوگی۔نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بیان میں کہا گیا کہ 'یہ شہر ہمارے ملک کی ثقافتی پہچان بن جائے گا اور مستقبل میں ہمارے ملک کی عوام کی تفریحی، ثقافتی اور سماجی ضروریات کوپوراکرے گا۔امریکی تفریحی کمپنی سِکس فلیگ نے گذشتہ سال جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی حکومت سے ملک میں ویڑن 2030 کے سلسلے میں تھیم پارکس قائم کرنے کے بارے میں گفتگوکر رہی ہے۔اس کے بعد کمپنی کے چیف ایگزیکیٹوجم ریڈ اینڈرسن نے کہاکہ ان کی کمپنی سعودی عرب میں 30 کروڑ سے 50 کروڑ کی لاگت کے تین پارک بنائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔