انتظامی محاذپرناکامی کے الزام کاسامناکررہی یوگی حکومت نے جاری کیا نیا فرمان؛ 15 اگست کو مدارس میں ترنگا لہرانے اور ویڈیوگرافی کرنے کا دیا حکم

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 12th August 2017, 3:12 AM | ملکی خبریں |

لکھنؤ:11/اگست(ایس او نیوز /آئی این ایس انڈیا) ایک طرف ریاست  اُترپردیش میں لاء اینڈآرڈرکی صورتحال بگڑتی جارہی ہے۔ تو دوسری طرف  یوپی میں انتظامی بدحالی کی حدیہاں تک پہنچ گئی ہے کہ یوگی کے ہوم ضلع  کے ایک  اسپتال میں سرکار کی لاپروائی سے تیس  بچوں کی موت واقع ہوگئی ہے ان واقعات پر اپوزیشن یوپی کی بی جے پی حکومت کو گھیرنے میں لگا ہوا ہے لیکن ادتیہ ناتھ پر یوپی سرکارکی توجہ نام بدلنے اوردیگرامورپرہی مرکوزرکھنے کاالزام ہے ۔ یوپی میں اب بی جے پی کی حکومت ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ ہیں۔ایسے میں ریاست میں یومِِِِ آزادی کے لیے زور شور منانے کی تیاری جاری ہے اور اس دوران حکومت کی جانب سے مدارس کے لیے ایک حکم جاری کیا گیا ہے. بتایا جا رہا ہے کہ اس طرح کا حکم مدرسوں کو مسلسل وقتا فوقتا جاری کیے جاتے رہتے ہیں۔ اتر پردیش میں مدرسہ تعلیم کونسل کی جانب سے صوبہ کے تمام مدرسوں کو خط جاری کر یوم آزادی پورے اہتمام سے منانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔واضح ہوکہ مدارس میں اس کاعام طورپرپہلے بھی اہتمام ہوتارہاہے۔ کہاگیاہے کہ15 اگست کو مدارس میں ترنگا لہرایا جائے، قومی گیت بھی گایاجائے۔ یہ خط 3 جولائی کو اترپردیش مدرسہ تعلیم کونسل کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اسے سب ڈسٹرکٹ اقلیتی بہبودکے حکام کوبھیج دیاگیاہے۔خط میں 15 اگست کو صبح 8 بجے پرچم لہرانے اور قومی گیت گانے کاوقت دیاگیاہے۔ اس کے بعد 8.10 پر جنگ آزادی کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بات کہی گئی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی مشورہ دیاگیا ہے کہ پروگرام میں یوم آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے، مدارس کے طلباء کی طرف سے قومی نغمات پیش کیے جائیں۔مجاہدین آزادی اور شہیدوں کے بارے میں طلبہ کو معلومات دی جائیں، قومی اتحاد پر مبنی ثقافتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے۔خط میں تمام مدرسہ آپریٹرز کو پروگرام کی ویڈیو اور فوٹو گرافی کرانے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس پروگرام کے فوٹو گراف اور ویڈیو سے آنے والے وقت میں بھی ایسے ہی پروگرام کرائے جاسکیں گے۔یہ خط اترپردیش مدرسہ کونسل کے رجسٹرار راہل گپتا کی جانب سے جاری کیاگیاہے۔ خط جاری کرنے والے گپتا نے بتایاکہ یہ حکم صحیح ہے. اس طرح کا خط پہلی بار جاری نہیں کیاگیاہے۔ وقت وقت پر اسے جاری کیا جاتا ہے۔ میں مدرسہ تعلیم کونسل کارجسٹرار ہوں تو لیٹر جاری کرنا میری ذمہ داری ہے۔.اسے سیاست سے جوڑ کر دیکھنا درست نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر 2002 کا گجرات بن سکتا ہے

آخر کشمیر میں گونر راج نافذ ہو ہی گیا۔ کشمیر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہاں اب ساتویں بار گونر راج نافذ ہوا ہے ، ویسے بھی کشمیر کے حالات نا گفتہ بہہ ہیں۔ وادی کشمیر پر جب سے بی جے پی کا سایہ پڑا ہے تب ہی سے وہاں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ پہلے تو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی نے ...

راجستھان میں ’لو جہاد‘ کے نام پر ماحول خراب کرنے کی کوشش 

راجستھان کے ہنڈون میں لو جہاد کے نام پر بجرنگ دل پر ماحول بگاڑنے کا الزام لگا یا ہے، ہنڈون کے جس کانگریس کونسلر نفیس احمد پر بجرنگ دل نے لو جہاد کا الزام لگایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک من گھڑت کہانی ہے۔

چھتیس گڑھ میں مضبوط طاقت ہے کانگریس، اتحاد کی ضرورت نہیں :پی ایل پنیا

آل انڈیا کانگریس کمیٹی جنرل سیکریٹری اور چھتیس گڑھ کے پارٹی معاملات کے انچارج پی ایل پنیا کا کہنا ہے کہ کانگریس ریاست میں مضبوط قوت ہے اور اس کے اندر کسی اتحاد کے بغیر اسمبلی انتخابات جیتنے کی طاقت ہے۔

ایمرجنسی نے جمہوریت کوقانونی تاناشاہی میں بدل دیا: ارون جیٹلی

مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے آج یاد کیا کہ کس طرح تقریبا چار دہائی قبل وزیر اعظم اندرا گاندھی کی زیر قیادت حکومت کی طرف سے ایمرجنسی لگائی گئی تھی اور جمہوریت کو آئینی آمریت میں تبدیل کر دیا گیا۔

گنگامیں جمع گندگی کولے کرنتیش کمارکا مرکزی حکومت پرسخت حملہ

بہار کے وزیر اعلی نتیش کماران دنوں ہر روز اپنی بات کوبے باکی سے رکھ رہے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ہوئی نیتی آیوگ کی میٹنگ میں انہوں نے پی ایم نریندر مودی کے سامنے ریاست کے مسائل رکھنے کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن کو مشورہ دیا کہ دہلی واپس جاکر مرکزی سطح وزیر ...