کرناٹک انتخابات کے ختم ہوتے ہی تیل کمپنیوں نے بڑھائے پٹرول-ڈیزل کے دام

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 14th May 2018, 9:41 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی:14/مئی (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)کرناٹک اسمبلی انتخابات کے پیس منظر میں لیڈران کی ہذیان گوئی اور الزام تراشیوں کے ’ناٹک‘ کے بعد عوام کو اب پھر ایک با ر اپنی جیب ڈھیلی کرنی پڑرہی ہے۔واضح ہوکہ اسمبلی ا نتخابات کی ووٹنگ ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 17 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 21 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ تیل کمپنیوں نے تقریبا 20 دن بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کی ہے۔ پچھلی بار23اپریل 2018 کو تیل کمپنیوں میں پیٹروکیمیکل مصنوعات کے دام بڑھائے تھے۔نان برانڈیڈپٹرول کے بعد74.63روپے فی لیٹرسے بڑھا 74.80 روپے فی لیٹر کیا گیا ہے جبکہ نان برانڈیڈڈیزل کے دام 65.93 روپے فی لیٹرسے بڑھاکر66.14 روپے فی لیٹر کردیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی) کے چیئرمین سنجیو سنگھ نے کہا تھا کہ پٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں 24 اپریل سے نہ بدلنے کا مقصد مستحکم بنانے کے تحت اٹھایا گیا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے وقت یہ ہونا محض اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتیں مستحکم کرنے سے پہلے ہر روز یہ 25-35 پیسے گھٹ  بڑھ رہی تھی۔ اس سے ہر 15 دن میں ایندھن کی قیمتیں 2-3 روپے بدل جاتی تھیں۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ہمارا خیال ہے کہ یہ غیر حقیقی ہے۔ چنانچہ ہم نے اسے مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اتفاق سے یہ کچھ ریاستوں کے انتخابات سامنے آگئے، یہ طے نہیں ہے۔ قابل ذکرہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ نیوکلیئرمعاہدہ توڑنے کے اعلان کے بعدبدھ کوبرینٹ کروڈ کی قیمت فی بیرل77ڈالرسے زیادہ ہوگئی۔ یہ نومبر 2014 کے بعد پہلی بار ہے جب خام تیل کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوگئی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے والک آوٹ اور کافی ہنگامہ آرائی کے درمیان کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کماراسوامی نے اپنی اکثریت ثابت کرتے ہوئے فلور ٹیسٹ میں پائی کامیابی

کرناٹک ودھان سبھا میں فلورٹیسٹ کے دوران  کافی ہنگامہ آرائی اور بی جے پی اراکین کے والک آوٹ کے درمیان  کرناٹک کے نو منتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی نے  فلور ٹیسٹ میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔  کانگریس۔جے ڈی ایس گٹھ بندھن کو 117 ووٹ پڑے۔اس کے ساتھ ہی اب کرناٹک میں سیاسی ڈرامے بازی ...

گوا میں اتحادی جز گووا فارورڈ پارٹی کی دھمکی

بی جے پی کی قیادت والی گووا حکومت کا ایک جز گووا فارورڈ پارٹی نے آج کہا ہے کہ اگر ریاست میں جاری موجودہ کان کنی کے بحران کا حل نہیں ہوا تو وہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں زعفرانی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی۔