اسلامی تعاون تنظیم روہنگیا مہاجرین کے مسائل کے حل کی تگ و دو میں

Source: S.O. News Service | Published on 5th August 2017, 11:44 PM | خلیجی خبریں |

واشنگٹن،5اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اسلامی تعاون تنظیم((OICاور اقوام متحدہ بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ میانمار سے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے بحران کا حل ممکن ہو سکے۔اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ نے جمعے کے روز بتایا کہ روہنگیا مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے او آئی سی، اقوام متحدہ اور ڈھاکا حکومت ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
او آئی سی کے سربراہ یوسف بن احمد العثیمین نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے قریب واقع روہنگیا مسلمانوں کی ایک مہاجر بستی کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر مہاجرین سے کہا کہ وہ بنگلہ دیشی قوانین کا احترام کریں۔ اس مقام پر انہوں نے بنگلہ دیشی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے میانمار کے شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دی۔گزشتہ برس اکتوبر میں راکھین ریاست میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد جنسی زیادتیوں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد کرتے قریب 75ہزار روہنگیا افراد سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں۔ اکتوبر کی نو تاریخ کو میانمار کے سرحدی محافظوں پر ایک حملے کے بعد اس عسکری آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔
میانمار میں عمومی رائے یہ ہے کہ روہنگیا ملک کے شہری نہیں ہیں اور وہ بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے میانمار آنے والے وہ افراد ہیں، جو غیرقانونی طور پر میانمار میں رہ رہے ہیں، دوسری جانب بنگلہ دیش انہیں میانمار کا شہری قرار دیتا ہے۔ میانمار کی راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد قریب گیارہ لاکھ ہے اور ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ کئی نسلوں سے اسی ریاست میں آباد ہیں۔
57مسلم ممالک کی نمائندہ او آئی سی ایک طرح سے مسلم دنیا کی اجتماعی آواز قرار دی جاتی ہے۔ او آئی سی نے جنوب مشرقی ایشیا کے مسلم ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دینے میں فراغ دلی کا مظاہرہ کریں۔
العثیمین نے اپنے چار روزہ دورہ بنگلہ دیش کے دوران کہا، ہم میانمار میں بسنے والی روہنگیا مسلم اقلیت کے مسائل کا مستقل حل چاہتے ہیں۔اپنے دورہ بنگلہ دیش میں انہوں نے وزیراعظم حسینہ واجداور وزیرخارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

سعودی عربیہ کو الوداع کہہ کر وطن لوٹنے کے بعدساحلی علاقے میں ICSE اور انگریزی میڈیم اسکولوں میں بڑھ گئے بچوں کے داخلے 

سعودی عربیہ میں غیر وطنی باشندوں اور ملازمین کے تعلق سے نئے اور سخت قوانین سے پریشان ہو کر غیر رہائشی ہندوستانیوں کے وطن واپس لوٹنے کے بعد ان کے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے  کا مسئلہ بھی کافی سنگین ہوگیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کرناٹک کے کسی بھی اسکول میں داخل  کرنے کی ...

سعودی کے نئے قانون سے ہندوستانی عوام سخت پریشان؛ 15 ماہ میں 7.2 لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عربیہ کو کیا گُڈ بائی؛ بھٹکل کے سینکڑوں لوگ بھی ملک واپس جانے پر مجبور

سعودی عرب میں ویز ے کے متعلق نئے قانون کا نفاذ ہوتے ہی بھٹکل کے ہزاروں لو گ اپنی صنعت کاری، تجارت اور ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے وطن واپس لوٹنے پر مجبورہوگئے  ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے اس خوب صورت شہر بھٹکل کے  قریب 5000 لوگ سعودی عربیہ میں برسر روزگار تھے جن میں سے کئی لوگ واپس بھٹکل ...

بھٹکل مسلم جماعت بحرین کا خوبصورت عید ملین پروگرام 

بھٹکل مسلم جماعت بحرین نے 28/جون 2018ء کو عید ملن کی تقریب مشہور ڈپلومیٹ ریڈیشن بلو(Diplomat  Radssion  Blu) فائیو اسٹار ہوٹل میں بنایا۔ محفل کاآغاز تقریباً رات 10بجے عزیزم محمد اسعدابن محمدالطاف مصباح کی خوبصورت قرآن سے ہوا۔ محمد عاکف ابن محمد الطاف مصباح نے قرآن کاانگریزی ترجمہ پیش ...

بھٹکل :صحافتی میدان کے بے لوث اورمخلص خادم  ساحل آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر  ایوارڈ کے لئے منتخب

اترکنڑا ضلع ورکنگ جرنالسٹ اسوسی ایشن کی طرف سے دئیے جانےو الےمعروف ’’جی ایس ہیگڈے  اجِّبل ‘‘ ایوارڈ کے لئے اپنی جوانی کی ابتدائی  عمر سے ہی سوشیل میڈیا کے ذریعے صحافت کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے ایمانداری کے ساتھ قوم وملت کی بے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام دینے والے ساحل آن ...

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم

سعودی خواتین پر لگی ڈرائیونگ  کی پابندی ختم ہوتے ہی خواتین رات کے بارہ بجتے ہی جشن مناتے ہوئے  سڑکوں پر نکل آئیں اور کار میں بلند آواز میں میوزک چلاکر  شہروں کا چکر لگاتے ہوئے اس پابندی کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔