نوٹ بندی،سفاک سیاست اورجانوں کازیاں از:نایاب حسن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th November 2016, 3:36 PM | اسپیشل رپورٹس |

جب سے مرکزی حکومت نے پانچ سو اور ہزارروپے کے پرانے نوٹوں پرپابندی کا اعلان کیاہے،تب سے پورے ملک میں گویانفسی نفسی کا عالم ہے،ہر چہارجانب افراتفری مچی ہوئی ہے،لوگ اپنے دوسرے سارے مسائل اور پریشانیوں کوبھول کر اپنے کمائے ہوئے پیسوں کوبدلوانے کے لیے جہاں تہاں صف بستہ کھڑے ہیں،ہمارے ملک میں ایک عام آدمی پورے دن کام کرتاہے تواسے شام کے وقت پانچ سویاہزارروپے حاصل ہوتے ہیں،ہندوستانی آبادی کی اکثریت کاگھرانہ اسی دن بھرکی کمائی سے چلتاہے،اب ایسے لوگ جب اپنے ہی پیسوں کوحاصل کرنے کے لیے صبح آٹھ سے چھ بجے شام تک لائنوں میں لگے ہوئے ہیں،توان کے گھروں کاکیاحال ہوگا؟ان کے بیوی بچوں کے گزرانِ معیشت کاسامان کیسے ہورہاہوگا؟مودی کے ہزارلالچ دلانے کے باوجوداب بھی کم و بیش اسی فیصد ہندوستانیوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں،یعنی وہ لوگ اپنے سارے معاملات نقد روپوں کے ذریعے کرتے ہیں اوران کے پاس جوکچھ بھی ہوتاہے وہ ان کی جیبوں میںیاگھروں میں ہوتاہے ،اب ہم بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایسے لوگ ابھی کس حال میں ہوں گے اور مودی حکومت کے ڈکٹیٹرانہ،جاہلانہ اور احمقانہ فرمان کی وجہ سے کتنے لاکھوں،کروڑوں ہندوستانیوں پر قیامت گزررہی ہوگی۔

یہ نہایت ہی افسوس اور حیرت؛بلکہ سرپیٹنے کامقام ہے کہ حکومت کی عاقبت نااندیشی کی سزاملک کے عوام کومل رہی ہے،کالے دھن پرروک لگانے کاقدم ڈھائی سالوں میں اٹھایانہیں گیا،لوک سبھاالیکشن کے دوران باہری ملکوں میں ذخیرہ کیے گئے کالادھن کوواپس لانے کی بات باربارکہی گئی تھی،جس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی؛بلکہ وجے مالیاجیسے لٹیرے انسان کی ملک سے بھاگنے میں حکومت نے مدد کی؛ لیکن اسی کالے دھن کے نام پر ملک کے سیدھے سادے اور بھولے عوام کی ایسی تیسی کی جارہی ہے،مودی جی اچانک ٹی وی پر نمودارہوتے ہیں اور چنگیزی فرمان سناتے ہیں کہ رات بارہ بجے سے پانچ سو؍ہزارکے نوٹ کالعدم کیے جاتے ہیں،پھرگواکی ریلی میں ملک بھرکے محنت کش عوام پر گزرنے والی مشقتوں کامذاق اڑاتے ہوئے یک قلم ان سارے لوگوں کوبدعنوانوں میں شامل کردیتے ہیں،جواے ٹی ایم مشینوں اور بینکوں کے باہر رات دن لائنوں میں کھڑے ہوکردھکے کھارہے ہیں اوراپنے ہی کمائے ہوئے پیسوں کوحاصل کرنے کے لیے انھیں خوارہوناپڑرہاہے۔

دراصل مودی اینڈکمپنی بہت بڑاگیم کھیل رہی ہے،اس حکومت نے اپنے دوست اور معاون پچاسوں کاروباریوں کے لاکھوں کروڑروپے معاف کردیے یابینکوں کے ذریعے کروادیے ہیں،جس کی وجہ سے بینکوں کاخزانہ خالی ہوتاجارہاتھا،اب اس کومتوازن بنانے کے لیے سارے ملک کے شہریوں کاپیسہ اندرکرنے کامنصوبہ بنایاگیاہے،گزشتہ چارسالوں میں بینکوں نے ساٹھ سے زائدکاروباریوں کے جوڈھائی لاکھ کروڑروپے سے زیادہ معاف کیے ہیں،ان کی بھرپائی کایہ بہت ہی کارگرفارمولامودی سرکارنے اختیارکیاہے۔یہ سب کھڑاگ بلیک منی پر روک لگانے کے نام پر رچاگیاہے،میڈیامیں بھی خوب واہ واہی بٹوری جارہی ہے،مگر دوسری جانب گزشتہ ہفتے بھرکے دوران بدعنوانی کے معاملوں میں وزیراعظم مودی کانام آنے کے ساتھ ان کی پارٹی کے مختلف لیڈران ،حتی کہ صوبائی وزیر بھی بدعنوانی میں ملوث نظرآئے،ان کے خلاف کسی قسم کے اقدام کی خبرنہیں آئی،کیجریوال نے ثبوتوں اور حوالوں کے ساتھ دہلی اسمبلی میں بتایاکہ مودی نے گجرات کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے اڈانی گروپ سے پچیس کروڑکی رشوت لی، انھوں نے بینک اسٹیٹ مینٹ دکھائی،گجرات میں ایک سرکاری افسرڈھائی لاکھ رشوت لینے کے معاملے میں پکڑاگیا،یہ سب نوٹ دودوہزارکے تھے،کرناٹک میں بی جے پی نیتاجناردن ریڈی کی بیٹی کی شادی میں پانچ سوکروڑروپے خرچ ہوئے،ظاہرہے کہ اس پر سوال اٹھناچاہیے؛کیوں کہ جب ملک بھرکے لوگوں کودوہزارروپے حاصل کرنے کے لیے دن بھرلائنوں میں لگناپڑرہاہے،ایسے میں اس لیڈرکے پاس اتنی بڑی رقم کیسے پہنچی،کس نے پہنچائی؟نریندرمودی،ان کی حکومت اوران کے وزراسب کے سب اصل صورتِ حال کو ان دیکھی کرتے ہوئے کذب بیانی سے کام لے رہے ہیں،سپریم کورٹ نے جہاں 15 تاریخ کواس معاملے پر سنوائی کرتے ہوئے سرکارکے اعلان کو’’کارپیٹ بمبنگ‘‘قراردیاتھا،وہیں 18تاریخ کوایک بارپھرسپریم کورٹ نے حالات کونہایت ہی اندوہ ناک قراردیاہے،عدالتِ عظمیٰ کاکہناہے کہ یہ صورتِ حال ملک میں فسادات کابھی سبب بن سکتی ہے،کولکاتاہائی کورٹ نے بھی مودی حکومت کوسخت سست کہاہے۔

یہ صحیح ہے کہ اپوزیشن میں کوئی دم خم نہیں ہے اورممتابنرجی یا اروندکیجریوال کی انفرادی کوششوں اور حکومت کے خلاف مورچہ آرائیوں سے کچھ خاص فرق نہیں پڑنے والا؛لیکن اپنے آپ کوغریبوں کامسیحاکہنے والے اورعوام کی خدمت کے لیے اپنے گھرباراورخاندان کوچھوڑدینے کی بات کہہ کرعوام کا جذباتی استحصال کرنے والے نریندرمودی آخرکیوں ملک کے اسی فیصدسے زائد عوام کی مشکلات سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں،گزشتہ تین چاردنوں سے پارلیمنٹ کا سیشن جاری ہے،راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈران و ممبران نے اپنے اپنے طورپرحکومت کوگھیرنے کی کوششیں کی ہیں،ان کا اصرارہے کہ مودی پارلیمنٹ میں آئیں اوراس معاملے میں اپناموقف واضح کریں،ملک کے عوام کوجواب دیں،مگرجومودی گوامیں،غازی پورمیں،حتی کہ جاپان میں سینہ پھلاپھلاکرتقریریں کرتے دیکھے گئے،جمعہ کے دن انھوں نے صدرجمہوریہ سے بھی ملاقات کی،مگروہ پارلیمنٹ میںآنے کوتیارنہیں ہیں،گویااسٹیج کے ذریعے عوام کوالوبنانے کاٹھیکہ انھوں نے لے رکھاہے اورپارلیمنٹ میں جواب دہی کے لیے اپنے منتریوں کو مقرر کردیا ہے۔مودی حکومت اور قومی میڈیاکاایک بڑاحصہ بھی یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ عوام مودی کے اس ناگہانی فیصلے سے پوری طرح خوش ہیں اور وہ چین کی نیند سورہے ہیں،حالاں کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ صبح سویرے جاکربینکوں کے باہرلائن میں لگ رہے ہیں اور شام چھ بجے ان میں سے اکثرخالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔مودی کایہ فیصلہ عوام پر کیسااثرڈال رہاہے،ہمارے ملک میں اس کاصحیح اندازہ لگانے کے لیے الیکشن کودرست پیمانہ کہاجاسکتاہے؛چنانچہ ابھی ہفتہ بھرکے دوران مہاراشٹراور گجرات کے لوکل؍ضلعی سطح کے انتخابات میں بی جے پی کوبری طرح شکست سے دوچارہوناپڑاہے،گجرات میں دیہی علاقوں کی31میں سے 20سیٹوں پرکانگریس کوکامیابی ملی ہے،جوگزشتہ دودہائیوں میں کانگریس کوحاصل ہونے والی سب سے زیادہ سیٹیں ہیں،اسی طرح مہاراشٹرمیں لوکل ایگری کلچرل باڈی کی کل 17سیٹوں پرہونے والی ووٹنگ میں بی جے پی کوایک سیٹ بھی نہیں مل سکی ہے۔ویسے یہ تومعمولی اور علاقائی سطح کے انتخابات ہیں،اصل مزاتویوپی الیکشن میں آنے والاہے،یہ دیکھنادلچسپ ہوگاکہ مودی کاکالے دھن پرہلہ بولنے کاحربہ کارگرثابت ہوتاہے یاعوام اُن مشکلات کوذہن میں رکھتے ہوئے ووٹنگ کرتے ہیں،جوانھیں رات دن اٹھانی پڑرہی ہیں۔

مرکزی حکومت کے اس فیصلے کاسب سے گھناؤنا،اندوہ ناک،شرمناک اور انسانیت سوزپہلووہ ہے،جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔کالادھن واپس لانے کی اس مبینہ مہم میں لوگوں کی جانیں بھی نہایت ارزاں ہوگئی ہیں،جس دن سے یہ فیصلہ نافذکیاگیاہے،تب سے لے کر اب تک ہندوستان بھرکے مختلف شہروں،اضلاع سے پچاس سے زائدلوگوں کے مرنے کی اطلاعات ہیں،ان میں سے کوئی اس وجہ سے جاں ہارہوگیاکہ اس کے پاس پوری زندگی میں کماکماکراکٹھاکی گئی لاکھ پانچ لاکھ کی رقم تھی اوراسے یکلخت یہ خبرسننے کوملی کہ وہ رقم غیر قانونی ہے،ا س کی کوئی ویلیونہیں اوراس نے صدمے میں خودکشی کرلی یا دل کادورہ پڑااوراس کی موت ہوگئی،کئی مہلوکین ایسے بھی ہیں،جودن دن بھرلائن میں لگے رہنے کی وجہ سے اچانک ہارٹ اٹیک کاشکارہوئے اورآناًفاناً چل بسے،کالے دھن پرقابوپانے کی یہ کیسی مہم ہے،جس میں اُن لوگوں کواپنی جانوں کی قربانیاں دینی پڑرہی ہیں،جوبے چارے پوری زندگی روزانہ کنواں کھودکرپانی پیتے اورخوشحالی کا صرف نام سنتے سنتے اس دنیاسے سدھارجاتے ہیں۔جانوں کے زیاں کے باوجودارون جیٹلی کایہ کہناکہ سب کچھ ٹھیک ہے اورعوام کوکوئی پریشانی نہیں ہورہی،سیاسی سفاکیت کی بدترین اور بیہودہ مثال ہے۔حکومت کے فیصلے کی وجہ سے لوگوں کی موت کا معاملہ اتناسنگین ہے کہ اس پرپورے ملک کے عوام کوسڑکوں پراترجاناچاہیے تھا۔غلام نبی آزادنے اگرراجیہ سبھامیں ان مہلوکین کاموازنہ اڑی کے شہیدوں سے کیا،تواس پرواویلامچانے والے بی جے پی کے وزرااورلیڈران آخران اموات کوکس نگاہ سے دیکھتے یادیکھناچاہتے ہیں؟آخران لوگوں کاقصورکیاتھا کہ پورے پورے دن لائنوں میں کھڑاکرکے ان کی جانیں لے لی گئیں؟ مودی نے کہاکہ یہ فیصلہ اچانک نہیں لیاگیا؛بلکہ اس کی پلاننگ کئی ماہ سے کی جارہی تھی،اگرایسا تھاتوپھراب تک تین لاکھ سے زائداے ٹی ایم مشینوں میں سے صرف بائیس ہزارکوہی اس قابل کیوں بنایاجاسکاکہ ان میں سے دوہزاراور پانچ سوکے نئے نوٹ نکل سکیں؟اگریہ فیصلہ لمبی پلاننگ کے بعدلیاگیا،توحکومت روزانہ کیوں نئے نئے قانون لارہی ہے؟

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...