شمالی کوریا جوہری اور میزائل تنصیبات معائنہ کاروں کے لیے کھولنے پر تیار ہے: پومپیو

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 8th October 2018, 8:29 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 8اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن بین الاقوامی معائنہ کاروں کو شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل تنصیبات میں داخلے کی اجازت دینے پر تیار ہیں۔ پومپیو جنہوں نے اتوار کو پیونگ یانگ کے مختصر دورے کے دوران کم جونگ سے ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ معائنہ کاروں کی ٹیم میزائلوں کے انجن ٹیسٹ کرنے کی تنصیب اور جوہری تجربات کے مقام 'بونجی ری' کا دورہ کرے گی۔ یہ دورہ فریقین کے بیچ لوجسٹک امور پر اتفاق رائے ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کم جونگ کی طرف سے گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی گئی دوسری سربراہ ملاقات کی تجویز پر عمل کے سلسلے میں دونوں ممالک 'اتفاق رائے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔اس سے قبل شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ کِم جونگ اْن نے اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو فائدے مند اور شان دار قرار دیا۔ادھر جنوبی کوریا میں صدارتی دفتر نے بتایا ہے کہ کم جونگ اور پومپیو جلد از جلد ممکنہ وقت میں شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات کے انتظامات پر متفق ہو گئے ہیں۔کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ نے مائیک پومپیو کے ساتھ مثبت انداز سے جزیرہ نما کوریا میں بدلتی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس دوران جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا معاملہ حل کرنے اور دو طرفہ اہمیت کے امور کے حوالے سے تجاویز تفصیلی طور پر زیر بحث آئیں۔اس سے قبل مائیک پومپیو نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کا پیانگ یانگ کا دورہ اور کِم جونگ سے ملاقات اچھی رہی ہے۔ ہم سنگاپور سربراہ اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتوں پر مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ میں اپنی اور اپنی ٹیم کی مہمان نوازی پر ان کا شکر گزار ہوں۔امریکی وزیر خارجہ کے وفد میں شامل ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ "شمالی کوریا کے دورے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اْن سے ملاقات ہوئی ہے لیکن ابھی مفید نتائج برآمد ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ مائیک پومپیو کا وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے سابق سربراہ کی حیثیت سے شمالیامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اْن بین الاقوامی معائنہ کاروں کو شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل تنصیبات میں داخلے کی اجازت دینے پر تیار ہیں۔ پومپیو جنہوں نے اتوار کو پیونگ یانگ کے مختصر دورے کے دوران کم جونگ سے ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ معائنہ کاروں کی ٹیم میزائلوں کے انجن ٹیسٹ کرنے کی تنصیب اور جوہری تجربات کے مقام 'بونجی ری' کا دورہ کرے گی۔ یہ دورہ فریقین کے بیچ لوجسٹک امور پر اتفاق رائے ہونے کے فوری بعد کیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کم جونگ کی طرف سے گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی گئی دوسری سربراہ ملاقات کی تجویز پر عمل کے سلسلے میں دونوں ممالک 'اتفاق رائے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔اس سے قبل شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ کِم جونگ اْن نے اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو فائدے مند اور شان دار قرار دیا۔ادھر جنوبی کوریا میں صدارتی دفتر نے بتایا ہے کہ کم جونگ اور پومپیو جلد از جلد ممکنہ وقت میں شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات کے انتظامات پر متفق ہو گئے ہیں۔کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ نے مائیک پومپیو کے ساتھ مثبت انداز سے جزیرہ نما کوریا میں بدلتی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس دوران جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا معاملہ حل کرنے اور دو طرفہ اہمیت کے امور کے حوالے سے تجاویز تفصیلی طور پر زیر بحث آئیں۔اس سے قبل مائیک پومپیو نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کا پیانگ یانگ کا دورہ اور کِم جونگ سے ملاقات اچھی رہی ہے۔ ہم سنگاپور سربراہ اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتوں پر مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔ میں اپنی اور اپنی ٹیم کی مہمان نوازی پر ان کا شکر گزار ہوں۔امریکی وزیر خارجہ کے وفد میں شامل ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ "شمالی کوریا کے دورے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اْن سے ملاقات ہوئی ہے لیکن ابھی مفید نتائج برآمد ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ مائیک پومپیو کا وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے سابق سربراہ کی حیثیت سے شمالی کوریا کے دارالحکومت کا یہ چوتھا دورہ تھا۔ انھوں نے اپنی مذکورہ ٹوئیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے لیڈر کِم سے جون میں سنگاپور میں پہلی ملاقات کا حوالہ دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سربراہان کی سطح پر یہ پہلا بالمشافہ ٹاکرا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی