محمد بن سلمان کا امریکہ کو کرارا جواب؛ کہا، ہم اسلحہ پیسوں سے خریدتے ہیں، بھیک نہیں لیتے

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 6th October 2018, 9:01 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے | خلیجی خبریں |

ریاض 6اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ ایس او نیوز) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم سعودی قوم کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیے کسی سے مفت میں یا بھیک میں کچھ نہیں لیتے اور اپنے دفاع کے بدلے میں کسی کو کچھ دیں گے بھی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی ہیں۔ سعودی عرب امریکا سے اسلحہ مفت میں نہیں لیتا بلکہ اپنے پیسوں سے خریدتا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل 'بلومبرگ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ 2021 تک سعودی عرب کی تیل کمپنی 'ارامکو' کے اثاثے ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔سعودی ولی عہد کے امریکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی بادشاہت ان کے دم سے قائم ہے اور امریکا اپنا ہاتھ کھینچ لے تو سعودی بادشاہت دو ہفتے بھی نہ ٹک پایے۔ اسی حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔

سعودی عرب 1744 یعنی امریکا کے قیام سے بھی 30 سال پہلےسے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما 8 سال تک اقتدار پر فائز رہے اور انہوں نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا۔  اس کے باوجود ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ نتیجتاً ہم کامیاب رہے اور امریکا ناکام ہوا۔ اس کی مثال مصر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غلط فہمیاں ہر جگہ پیدا ہوتی ہیں۔ ایک گھر میں بھی خانگی امور پر تمام افراد کا 100 فی صد اتفاق نہیں ہوتا۔ دوستوں کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے۔ ماضی کی نسبت سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات بہتر اور خوش گوار ہیں۔ جرمنی اور کینیڈا کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے واضح کیا کہ کینیڈا نے سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی اور ہم پر اپنا حکم چلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ صرف کینیڈا کا معاملہ نہیں۔ سعودی عرب کے حوالے سے کئی دوسرے ممالک کے ایسے خیالات ہوسکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے سختی کے ساتھ گریز کرنا چاہیے۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی قوم کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں تو ہمیں اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ایک سوال کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اپنے دفاع کے بدلے میں کسی کوکچھ نہیں دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا سے مفت میں کچھ نہیں لیتے۔ امریکا سے اسلحہ پیسوں سے خریدا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات صرف اسلحہ کی خریداری تک محدود نہیں۔دو سال قبل سعودی عرب دوسرے ممالک سے اسلحہ خریدتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہم نے اپنی اسلحہ پالیسی پر نظرثانی کی۔ آئندہ 10 سال تک ہم سعودی عرب کی ضرورت کا60 فی صد اسلحہ امریکا سے خرید کریں گے۔ اسی لیے ہم نے 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 99 فی صد امور درست ہوں اور فی صد پر آپ کو اعتراض ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔امریکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں بن سلمان نے کہا کہ ہم نے مشرق وسطیٰ میں بہت سے اہم مقاصد حاصل کیے ہیں۔ انتہا پسندانہ نظریات کو شکست دینے کے لیے ہماری کوشش کو کامیابی حاصل ہوئی اور دہشت گردی کو شکست کا سامنا ہے۔ داعش جیسا خون خوار بھیڑیا بھی تھوڑے ہی عرصے میں شام اور عراق سے غائب ہوگیا۔ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے کئی ممالک دو سال میں تباہ ہوگئے۔ ہم دہشت گردوں کو ختم کرنے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں ایرانی مداخلت کی روک تھام کررہے ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب نے ایران کو خطے سے بے دخل کرنے کے لیے کئی منصوبوں پر سرمایہ کاری کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے 50 ممالک نے مشترکہ اسٹریٹجی اختیار کی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

داعش کے ہاتھوں اغوا130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم "داعش" کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر "البحرہ" پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

ٹرمپ کا وزیر دفاع جم میٹس کو ہٹانے کا اشارہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وزیر دفاع جم میٹس کو بھی اْن کے عہدے سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز امریکی ٹیلی وژ ن چینل سی بی ایس کے پروگرام 60 Minutes میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اْنہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ جم میٹس عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔

ریاستی وزارت سے مہیش کا استعفیٰ منظور

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان مفاہمت کی کوشش ناکام ہوجانے کے نتیجے میں ریاستی کابینہ سے استعفیٰ دینے والے بی ایس پی کے وزیر این مہیش کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے میں جے ڈی ایس قیادت کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد آج وزیراعلیٰ نے مہیش کا ...

ای اسٹامپ پیپر اب آن لائن دستیاب ہوگا

کسی طرح کے دستاویزات تیار کرنے کے لئے درکار ای اسٹامپ کاغذ کی دستیابی اب تک ایک بہت بڑا مسئلہ ہوا کرتی تھی، 100 روپے کے اسٹامپ پیپر کے لئے بھی بھاری رقم ادا کرکے اسے حاصل کرنا پڑتا تھا،

ساحلی علاقے میں موسلادھار بارش۔ آسمانی بجلیوں سے نقصانات

ساحلی علاقے میں اور خاص کر جنوبی کینرا ضلع میں اتوار کی شام سے رات دیر گئے تک زبردست بارش ہوئی ہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بجلیوں کے کڑکنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بعض مقامات پر بجلی گرنے سے گھروں کونقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بھٹکل میں زائد منافع کالالچ دے کر 100کروڑ سے زائد رقم کی دھوکہ دہی کا الزام : کمپنی مالکان کے گھروں کا گھیراؤ اور احتجاج

شہر کے آزاد نگر میں واقع فلالیس نامی کمپنی کے مالکان  پر سو کروڑ سے زائد رقم لے کر فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سینکڑوں لوگوں نے آج اُن  کے مکانوں  کا گھیراو کیا اور اپنی رقم واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔  احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ   فلالیس نامی جعلی کمپنی ...

ایران میں گرفتار اُترکنڑا کے ماہی گیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹکا این آر آئی فورم کا دبئی میں ہندوستانی سفارت کار سے ملاقات

  ریاست کرناٹک کے ضلع اُترکنڑا کے 18 ماہی گیروں کی ایران میں گرفتاری کے بعد اُن کی رہائی کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس تعلق سے تازہ اطلاع یہ ہے کہ  دبئی میں موجود ماہی گیروں کے رشتہ داروں نے  کرناٹکا این آر فورم کے  اہم ذمہ دار اور قائد قوم جناب ایس ایم سید خلیل الرحمن صاحب سے ...