انضمام سے بینکنگ نظام درست ہوگا:ارون جیٹلی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 10:35 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 5 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )حکومت نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے بینکوں کے انضمام کا اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے اور یقین دہانی کی اس طریقے میں یہ یقینی بنایا جائیگا کہ اس کی وجہ سے کسی بھی فریق کو کوئی نقصان نہ ہو۔وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے جمعہ کو لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں سرکاری شعبہ کے 21بینک ہیں اور ان میں سے 11بینک قرض دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔اس صورت حال کی وجہ سے یہ بینک مقابلے میں کھڑے نہیں ہوپارہے ہیں اور اپنی حالت میں بہتری کے لئے کسی طرح کا قدم اٹھانا ان کیلئے ممکن نہیں تھا اس لئے کمزور بینکوں کا مضبوط بینکوں میں انضمام کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سلسلے میں انہوں نے حال ہی میں بینک آف بڑودا کے ساتھ دو دیگر بینکوں کے انضمام کی مثال پیش کی اور کہا کہ ان میں ایک بینک کی حالت بہت کمزور ہوگئی تھی۔اس کا انضمام دو مضبوط بینکوں میں کیاگیا ہے اور اس انضمام کے بعد بینک آف بڑودا ملک کا دوسرااہم بینک بن جائیگا۔انہوں نے یقین دلایا کہ انضمام کے عمل میں کسی کی بھی نوکری نہیں جائیگی اور نہ ہی کسی ملازم کے زون کو بدلاجائے گا۔وزیرخزانہ نے بینکوں کی غیر فعال اثاثوں(این پی اے)کے بڑھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہاہے کہ 2008سے2014 کے درمیان دیئے گئے قرض کی بہت بڑی رقم چھپائی گئی تھی۔اس کی وجہ سے بینکوں میں این پی اے ڈھائی لاکھ کروڑ روپیسے بڑھ کر ساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ روپے پہنچا ہے۔وراثت میں ہمیں بینکوں کی جو صورت حال ملی تھی اس کی وجہ سے بینکوں کی صحت بہت خراب ہوئی لیکن رفتہ رفتہ اس میں بہتری کا عمل شروع کیاگیا آج بینکنگ شعبہ میں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،