این آر سی فہرست سے کوئی بھی ہندوستانی شہری نہیں چھوٹے گا: مودی 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 12:22 AM | ملکی خبریں |

سلچر4 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو آسام کے سلچر سے لوک سبھا انتخابات کے لئے بگل پھونک دیا ہے۔ اس دوران انہوں نے جہاں ایک طرف اپنی حکومت کی کامیابیوں کو گنایا، تو وہیں عادتاً دوسری طرف کانگریس پارٹی پر جم کر حملہ بولا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یقین دلایا کہ این آرسی کی فہرست میں تمام بھارتی شہریوں کا نام شامل ہوگا ، اس سے کوئی بھی شہری نہیں چھوٹے گا۔ پی ایم مودی کی اس ریلی میں بڑی تعداد میں’’ لوگ‘‘ پہنچے تھے۔ سلچر میں مودی نے کہا کہ بی جے پی کا آسام میں کوئی وجود نہیں تھا، لیکن یہاں کے لوگوں نے ضلع کونسل میں بی جے پی اور اتحادی جماعتوں کو اپنا مکمل حمایت کی، جس کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی محبت کا قرض میرے اوپر ہے۔ میں ترقی کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم کے طور پر میں یہاں 16 بار آ چکا ہوں۔ اس سے پہلے آسام سے رہے وزیر اعظم بھی اتنی بار یہاں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بڑے فیصلے تو لیتی ہی ہے، ساتھ ہی سخت فیصلے بھی لیتی ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلانے آیا ہوں کہ این آ رسی کی فہرست سے کوئی بھی ہندوستانی شہری نہیں چھوٹے گا، این آر سی کی کاروائی کے عمل کے دوران آپ لوگوں کو کافی پریشانی ہوئی ہے، جس کا مجھے احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے رہتے ہوئے ملک کی یکجہتی اور خودمختاری سے سمجھوتہ قطعی نہیں ہو سکتا ہے۔ آسام صرف ایک علاقہ نہیں ہے، بلکہ بے پناہ امکانات اور ثقافتوں سے بھرا ہوا ہے۔بھارت حکومت کے لئے اپنے شہریوں کا تحفظ، عزت اور خوشحالی کے قطعی طور پر سنجیدہ ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،