نوٹ بندی کا مقصد بیکار ہو جائے گا پرانے نوٹ جمع کرانے کا دوبارہ موقع دینے سے حکومت کا صاف انکار،سپریم کورٹ میں داخل کیاحلف نامہ

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 17th July 2017, 9:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت نے پرانے نوٹ تبدیل کرنے کے لیے ایک اور موقع دینے سے صاف انکارکردیاہے۔سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں مرکز نے کہا کہ اگر 500اور 1000روپے کے پرانے نوٹ جمع کرانے کا دوبارہ موقع دیاگیاتوکالے دھن پر قابو پانے کے لئے کی گئی نوٹ بندی کا مقصد ہی بیکار ہو جائے گا۔ایسے میں گمنام لین دین اور نوٹ جمع کرانے میں کسی دوسرے شخص کا استعمال کرنے کے معاملے بڑھ جائیں گے اور سرکاری محکموں کو یہ پتہ لگانے میں دقت ہو گی کہ کون سے کیس حقیقی ہیں اور کون سے فرضی ہیں۔حکومت نے کہا کہ 1978میں ہوئی نوٹ بندی میں نوٹ جمع کرانے کے لئے صرف 6دن دیے گئے تھے جبکہ اس بار حکومت نے 51دن دیے جو کافی ہیں۔

نوٹ بندی کے وقت چھوٹ دیے جانے کی وجہ سے پٹرول پمپ، ریلوے، ایئر لائنز بکنگ اور ٹول پلازہ پر جم کر کالے دھن کا استعمال کیاگیا۔دراصل 4جولائی کومفادعامہ درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور ریزرو بینک سے پوچھا تھا کہ جو لوگ نوٹ بندی کے دوران دیے وقت میں پرانے نوٹ جمع نہیں کرا پائے ان کے لئے کوئی ونڈوکیوں نہیں ہوسکتی؟۔ کورٹ نے کہا تھاکہ جو لوگ جائز وجوہات کے چلتے روپے بینک میں جمع نہیں کرا پائے، ان کی جائیداد حکومت اس طرح نہیں چھین سکتی ہے۔ایسے لوگوں کو پرانے نوٹ جمع کرانے کا صحیح وجہ موجود ہے، انہیں موقع دیاجاناچاہئے۔کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی جیل میں ہے تو وہ کس طرح روپے جمع کرائے گا۔حکومت کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کے لئے کوئی نہ کوئی ونڈو ضرور دینی چاہئے۔مرکزی حکومت نے اس کے لئے دو ہفتے کا وقت مانگا تھا کہ کیا وہ 9نومبر، 2016سے 30دسمبر، 2016کے درمیان پرانے نوٹوں کو جمع کرنے کی کھڑکی ایک بار دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

سوشل میڈیا سے کیوں رہتے ہیں نتیش کماربرہم، اسٹیج پر کیا انکشاف، پہلے بخار وائرل ہوتا تھااب فرضی فوٹو اور ویڈیو وائرل ہوتے ہیں : نتیش کمار 

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سوشل میڈیا سے خفا ہیں، انہیں سوشل میڈیا نہیں راس آتا ہے ۔ سوشل میڈیا کے تئیں ان کی کیا رائے ہے اس سلسلے میں ا نہوں ا زخود اس کا خلاصہ کیا ہے ۔

آسارام کیس کے متعلق آنے والے فیصلہ کا لیڈران نے خیر مقدم کیا، اب وقت آگیا ہے کہ سچے اور ڈھونگی باباؤں کے درمیان تمیزکی جائے: اشو ک گہلوت 

سیاسی لیڈران اور سماجی کارکنوں نے نابالغ لڑکی کی عصمت دری کے معاملہ میں خود ساختہ بابا آسارام کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلہ کا استقبال کیا ہے

ہنس راج اہیر نے بائیں باز کی انتہا پسندی والے علاقوں میں موبائل رابطے کا جائزہ لیا 

امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب ہنس راج گنگا رام اہیر نے آج یہاں ملک کے بائیں کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع میں موبائل رابطے کے مسئلے کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔

کابینہ نے راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے اعلان کو منظوری دی 

مرکزی کابینہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں آئینی حکم (سی۔ او) 114 بتاریخ12فروری1981کورد کرتے ہوئے آئین ہند کی پانچویں فہرست کے تحت راجستھان کے معاملے میں درج فہرست علاقوں کے ا علان اورنئے آئینی حکم کی اشاعت کو منظوری دی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ گاندھی نگر میں مغربی زونل کونسل کی 23ویں میٹنگ کی صدارت کریں گے 

گجرات، مہاراشٹر، گوا کی ریاستوں اورمرکزکے زیر انتظام علاقے دمن و دیو اور دادرا و نگر حویلی پر مشتمل مغربی زونل کونسل کی23ویں میٹنگ کل گجرات کے شہر گاندھی نگر میں منعقد ہوگی ۔مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اس میٹنگ کی صدارت کریں گے۔