بابری مسجد، طلاق ثلاثہ اور شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت قابل قبول نہیں؛ حیدر آباد میں منعقدہ پرسنل لاء بورڈ میٹنگ کے بعد ذمہ داران نےکی پھر وضاحت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th February 2018, 11:43 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد:12؍فروری  (ایس او نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد کے تعلق سے پھر ایک بار وضاحت کرتے ہوئے  کہا ہے کہ  مسجد شعائر دین میں سے ہے اور مسلمان اس سے کسی طرح بھی دستبردار نہیں ہوسکتا، اسی طرح بورڈ نے واضح کیا ہے کہ  مسلمان طلاق ثلاثہ اور شریعت پر  مداخلت کسی حال میں بھی برداشت نہیں کریں گے۔

9 فروری کو شروع ہونے والا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ۲۶واں سہ روزہ اجلاس 12 فروری کو اختتام پذیر ہوا۔ اس باریہ اجلاس  ملک کے تاریخی شہر حیدرآباد کے آڈیٹوریم سالار ملت کنچن باغ میں صدر بورڈ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے ۴؍سو سے زائد ارباب فکر و نظر، علماء، ماہرین قانون اور سیاسی و سماجی اہم شخصیتوں نے شرکت کی اور قانون شریعت کے تحفظ و بقا کے مختلف گوشوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں جن اُمور پر گفتگو ہوئی اور فیصلے کئے گئے، پریس ریلیز میں اُس کی تفصیلات اس طرح دی گئی ہے: 

 بابری مسجد شعائر دین میں سے ہے اور مسلمان اس سے کسی طرح بھی دستبردار نہیں ہوسکتا، ماضی میں بورڈ نے بابری مسجد کے متعلق جو قراردادیں منظور کی ہیں بورڈ دوبارہ ان کا اعادہ کرتا ہے کہ بابری مسجد، مسجد تھی، مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی، مسجد کو شہید کردینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہوتی، شرعی طور پر مسجد کی اراضی کو نہ فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی فرد و جماعت کو تحفہ میں دیا جاسکتا ہے۔ اسلئے کسی شک اور تذبذب کے بغیر مسجد کی حقیت کے لئے جدوجہد جاری رہے گی اور سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے بورڈ پوری طاقت و توانائی اور تیاری کے ساتھ ماہر وکلاء کے ذریعہ پیروی کررہا ہے اور کرتا رہے گا، بورڈ نے صاف کردیا ہے کہ  ہمیں اللہ کی ذات سے امید رکھنی چاہئے کہ سپریم کورٹ حقیقت حال کو سمجھے گی اور اس مقدمے میں بورڈ اور مسلمانوں کو کامیابی ملے گی۔ 

میٹنگ میں طئے پایا کہ  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پورے ملک میں جاری اصلاح معاشرہ کی تحریک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی تحسین کرتا ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں ریاستی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور مقامی ضلعی کنوینرس بھی بنائے جائیں اور ان کو مرکزی اصلاح معاشرہ کمیٹی سے جوڑدیا جائے۔

 طلاق ثلاثہ سے متعلق مرکزی حکومت کے مجوزہ بل پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا اور اجلاس کا یہ احساس رہا  کہ یہ مسلم خواتین کے لئے دشواریاں پیدا کرنے والا ہے، شریعت اور آئین ہند سے ٹکرانے والا ہے، اس بل کو راجیہ سبھا میں روکنے کی جو تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں ان کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ اجلاس کا یہ بھی احساس رہا کہ اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلائی جائے اور ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں سے رابطہ مضبوط کیا جائے کہ وہ راجیہ سبھا میں اس بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین میں دینی شعور بیدارکرنے کے لئے خواتین کے اجتماعات تسلسل کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں کئے جائیں۔

اس اجلاس میں بورڈ کی تمام کمیٹیوں کی کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل بھی بنایا گیا۔ گذشتہ اجلاس کلکتہ کے بعد جن ارباب فکر و نظر اور دانشوران قوم و ملت کی رحلت ہوئی ہے ان کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کیا گیا اور ان کی بلندی درجات کی دعا کی گئی اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا گیا۔ 

اس موقع پر صدر بورڈ نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایا کہ اسلام کے مذہبی قوانین اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن اور اس کے رسولﷺ کی سنت میں سے ماخوذ ہیں۔ اس طرح وہ آسمانی ہدایات ہیں اور اس کی بنا پر ناقابل تغیراور ناقابل تنسیخ ہیں، اس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے اس میں کسی طرح کی ترمیم کرنا یا ترمیم کا مشورہ دینا قابل قبول نہیں ہے اور ہندوستان کے دستور کے سیکولر ہونے کی بنا پر ان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں اور اس میں کسی کی مداخلت کو قبول نہ کیا جائے۔ موجودہ حالات میں بورڈاپنی توجہ امور ذیل پر مرکوز کرتا رہے گا۔ اصلاح معاشرہ میں خواتین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک، طلاق سے حتی الوسع بچنے اور مطلقہ عورتوں کے بارے میں ان کے خاندان کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر خصوصی طورپر توجہ دلائی جائے۔

۱۔ ایک تو طلاق کے مسئلہ میں جس پر حکومت مسلمانوں پر پابندی عائد کررہی ہے۔
۲۔ دوسرا مسئلہ بابری مسجد کا مقدمہ جس میں بورڈ اس کی بحالی کے معاملہ میں اپنی کوششیں صرف کررہا ہے۔
۳۔ تیسرا مسئلہ مسلمانوں کو شریعت کے احکام سمجھانے کا ہے، مسلمانوں کا پرسنل لا چونکہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اس طرح جب عبادات کی ادائیگی کے لئے اس کے طریقہ اور احکام معلوم کرناہوتا ہے اسی لحاظ سے ہم کونکاح و طلاق اور میراث و دیگر احکام کو جاننے اور اسکے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بورڈ شریعت کے مسائل و احکامات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی مہم بھی چلائے گا۔

جنرل سکریٹری بورڈ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے جنرل سکریٹری رپورٹ میں تفصیل سے گذشتہ اجلاس سے اب تک کی کارکردگی اور پیش رفت بیان فرمائی اور یہ پیغام دیا کہ ہماری اصل طاقت ملت کا اتحاد ہے اگر ہم نے اپنے آپ کو انتشار سے محفوظ نہیں رکھا اور مشترک مقاصد کیلئے مل جل کر کام کرنے کی کوشش نہیں کی تو ہمارے لئے اس ملک میں ایک باعزت قوم کی حیثیت سے باقی رہنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے موجودہ عالمی اور خاص کر ملکی حالات کے پس منظر میں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ہر قیمت پر ملت کے اتحاد کو باقی رکھیں، اختلافی مسائل میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں اور اپنی زبان و قلم کو امت کے درمیان افتراق و انتشار کا ذریعہ نہ بنائیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ چھبیسواں اجلاس عام حضرت صدر محترم مولانا سید رابع حسنی ندوی کی دعا پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
 

اجلاس میں  ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

 اس وقت ہمارا ملک تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے، اسکی جمہوری قدریں پامال ہورہی ہیں، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، شریعت اسلامی کے مختلف حصوں پر بھی پابندی لگانے یا ان میں ترمیم و تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان بجاطور پر اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں، کوئی شبہ نہیں کہ ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے تشویشناک ہیں۔ لیکن ان حالات میں بھی مایوس ہونے یا ہمت ہارنے  کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زندہ قوموں اور ملتوں پر مشکل حالات آتے ہیں اور وہ پورے عزم و حوصلہ اور ہمت و حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتی ہیں، ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانان ہند کو مایوسی اور پست ہمتی کا شکار ہونے کے بجائے اللہ پاک کی ذات عالی پر اعتماد اور بھروسہ کے ساتھ شریعت اسلامی پر عمل کا مزاج بنانا چاہئے۔ اور یہ یقین رکھنا چاہئے کہ صبر و تقوی کامیابی اور سرخروئی کے لئے شاہ کلید کا درجہ رکھتے ہیں، اور اچھے اوربھلے اعمال کے نتیجہ میں اللہ کی مدد اور نصرت اترتی ہے۔ اگر مسلمان اللہ کی طرف رجوع کریں۔ فرائض کا اہتمام کریں، اپنے اخلاق و کردار کو مضبوط بنائیں، اسلام کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ نظام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اور رحمت دوعالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تعلیمات و ہدایات پر عمل کریں شریعت کو اپنے اوپر رضاکارانہ طریقہ پر نافذ کریں صبر و حکمت سے کام لیں اور اشتعال سے بچیں تو بہت جلد حالات میں تبدیلی آئے گی، ظلم کا اندھیرا چھٹے گا اور انصاف کا سورج طلوع ہوگا۔

 قرآن مجید میں اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اختلاف و انتشار سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں۔ اختلاف و انتشار کے نتیجہ میں ناکامی و نامرادی کی وعید قرآن پاک میں سنائی گئی ہے اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ آپسی اختلاف کے نتیجہ میں مسلمانوں کا رعب جاتا رہے گا ان کی ہیبت ختم ہوجائے گی اور وہ اپنے دشمنوں کے لئے لقمہ تر بن جائیں گے اس وقت ملک کا جو منظرنامہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے اسے دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو آپسی اختلاف اور مسلکی انتشار میں مبتلا کرنے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں اور چن چن کر ایسے معاملات و مسائل سامنے لائے جارہے ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کے مختلف طبقات و مسالک کے درمیان دوریاں پیدا کردی جائیں، ایسے حالات میں تمام مسلمانان ہند کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور افتراق و انتشار سے بچتے ہوئے اللہ کی شریعت کی حفاظت اور مسلمان بھائیوں کی تقویت کے لئے متحد ہوجائیں۔

 اللہ پاک نے زندگی گذارنے کا جو پاکیزہ نظام شریعت اسلامی کی شکل میں عطا کیا ہے وہ ہر اعتبار سے معتدل اور متوازن اور مبنی بر انصاف ہے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ احکام شریعت کو جاننے اور اس پر عمل کی کوشش کرے، شریعت کے جتنے احکامات ہیں ان کے پیچھے بڑی زبردست حکمتیں اور خوبصورت مصلحتیں ہیں، اور ایسا توازن اور اعتدال ہے کہ جب ان کا علم انسان کو ہوتا ہے تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور اسکے یقین کی کیفیت میں اضافہ ہوجاتا ہے اس لئے شرعی احکامات کے حکمتیں اور مصلحتیں جاننے کی ضرورت ہے۔ خاص طریقے پر نکاح و طلاق، اور ازدواجی زندگی سے متعلق شرعی احکامات و ہدایات کی حکمتوں اور ان میں موجود حسن واعتدال کو سمجھنا اور غلط فہمی کا شکار ہونے والے غیرمسلم بھائیوں کو سمجھانا موجودہ حالات میں ہمارا ایمانی فریضہ ہے، بہت سے مسلمان بھائی احکامات شریعت کی حکمتوں سے ناواقفیت کی بنا پر شریعت کے بعض حصوں کے سلسلہ میں بے اطمینانی، شک اور تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں یہ چیز سخت نقصان دہ اور ایمان و یقین پر برا اثر ڈالنے والی ہے، یہ معاملہ فوری توجہ کا ہے اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے سلسلہ میں فکرمندی ہر صاحب ایمان کے لئے لازمی اور ضروری ہے۔

 ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں بڑی شدت کے ساتھ اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ بڑے پیمانے پر جو غلط فہمیاں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پھیلائی جارہی ہیں اور شریعت اسلامی کو جس طرح مسخ کرکے پیش کیا جارہا ہے اس کے ازالے کی بھرپور کوشش کی جائے، اس وقت جو لوگ ہمارے مقابل ہیں اور دانستہ یا نادانستہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تکلیف دہ باتیں کہہ اور لکھ رہے ہیں انہیں دین سے قریب کرنے اور حقائق سے واقف کرانے کے لئے بڑی تعداد میں ایسے مسلمان بھائیوں کی ضرورت ہے جو نفرت کا جواب محبت سے دیں اور صلہ کی تمنا اور ستائش کی آرزو کے بغیر، مال و جاہ کی طلب سے الگ ہوکر، پوری تندہی اور جانفشانی کے ساتھ مسلسل محنت کریں اور قرآنی و نبوی اصول دعوت کو اختیار کرتے ہوئے نور ہدایت کو عام کرنے کی فکر کریں، شریعت اسلامی پر کی جانے والی یلغار کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے بڑی ہمت اورحکمت ، اور پورے اعتدال و توازن کے ساتھ شرعی احکامات کی علت و مصلحت کو بیان کریں، انتقامی جذبات سے اوپر اٹھ کر پوری انسانی برادری کی خیرخواہی کے جذبہ کے ساتھ اپنے حسن اخلاق وکردار سے غیر مسلم بھائیوں کے دلوں میں گنجائش پیدا کریں، اور محبت اور ہمدردی کی راہ اختیار کرکے انہیں قریب کرنے کی کوشش کریں، اسی طرح وطن عزیز میں ظلم کا شکار ہونے والے دبے کچلے پسماندہ اور مظلوم طبقات اور دیگر اقلیتوں کو انصاف دلانے کے لئے آگے آئیں اور اپنے ستم رسیدہ وطنی بھائیوں کو ہمت اور حوصلہ بخشیں۔

 مسلمانان ہند کا سب سے متحدہ اور مشترکہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے جسے تحفظ شریعت اور اتحاد بین المسلمین جیسے اہم اور بڑے مقاصد کے پیش نظر قائم کیا گیا تھا، الحمد للہ ان دونوں مقاصد کی تکمیل میں بورڈ کامیاب ہے، بورڈ تحفظ شریعت اور اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمہ وقت فکرمند اور کوشاں ہے، بورڈ کی سب بڑی طاقت اس کا اتحاد ہے جس کی حفاظت ہر قیمت پر مطلوب ہے، ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر صاف طور پر محسوس ہوتاہے کہ بورڈ کی وحدت و اجتماعیت کو نقصان پہونچانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں، ان کوششوں کو ناکام کرنا اور بورڈ جیسے مثالی پلیٹ فارم کو محفوظ اور متحد رکھنا مسلمانان ہند کی ذمہ داری ہے، اس لئے ملک کے موجودہ حالات میں بورڈ پر زیادہ سے زیادہ اعتماد کا اظہار کیا جانا چاہئے، اس کے فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہئے اور جس مرحلہ میں بورڈ مسلمانان ہند سے جس قربانی کا مطالبہ کرے اس مطالبہ کی تکمیل کی فکر کی جانی چاہئے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھیم آرمی کے سربراہ کی مولانا ارشد مدنی سے خصوصی ملاقات؛ ریاستی سیاست میں ہلچل

جیل سے رہائی کے بعد بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد نے دیوبند پہنچ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔اس ملاقات کے بعد میڈیا سے صرف یہ کہا کہ دبے کچلے طبقات کو ایک ساتھ لانا اور انہیں متحد کرنا ان کا مقصد ہے اور اسی کے تحت وہ یہاں آئے ...