ہاردک کی ’مودی ہراؤ، دیش بچاؤ‘ریلی میں جانے کے فیصلے کو نتیش نے ملتوی کیا

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2017, 11:10 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ، 11/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے 28/جنوری کو گجرات میں پاٹیدار ریزرویشن تحریک کے محرک ہاردک پٹیل کی مجوزہ’مودی ہراؤ، دیش بچاؤ‘ریلی میں شامل ہونے کے لیے گجرات جانے کا فیصلہ فی الحال ملتوی کر دیا ہے۔جد یو ذرائع کے مطابق اترپردیش کے انتخابات میں مصروفیت کی وجہ سے گجرات جانے کے فیصلے کو کمار نے فی الحال ملتوی کر دیا ہے اور اس کی معلومات ہاردک پٹیل کو دے دی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہاردک پٹیل نے گذشتہ دسمبر میں اپنے بہار دورے کے دوران نتیش کمار سے ملاقات کر کے انہیں گجرات میں منعقد ’مودی ہراؤ، دیش بچاؤ‘ریلی میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی جس پرکمارنے اپنی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔نتیش کمار نے بہار آنے پر ہاردک پٹیل کو سرکاری مہمان کا درجہ بھی دیا تھا۔وزیراعظم نریندر مودی کی مخالفت کرتے ہوئے ہاردک پٹیل 2017کے انتخابات میں بی جے پی کو اکھاڑپھینکنے کا اعلان کر چکے ہیں جس کے لیے وہ نتیش کمار کی حمایت حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔اس درمیان جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہاکہ اگر پٹیل11/مارچ کے بعد ریلی کرتے ہیں تو اس میں نتیش کمار کے شامل ہونے کا امکان بن سکتا ہے۔
3

ایک نظر اس پر بھی

ولکاتہ برمن اغواء معاملہ عمرقید کی سزاؤں کے خلاف کولکاتہ ہائی کورٹ میں اپیل داخل اپیل سماعت کے لئے منظور ہونے کے بعد ملزمین کی ضمانت عرضداشتیں داخل کی جائیں گی: گلزار اعظمی

۲۳؍جولائی ۲۰۰۱ء کو مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ کی مشہور جوتے کی کمپنی کے مالک روئے برمن کو اغواء کرنے والے معاملے میں نچلی عدالت سے ملزمین کو ملی عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جمعیۃ علماء کے توسط سے کولکاتہ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل داخل کردی گئیں

کولکاتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال پنچایت الیکشن کے لیے ازسر نو تاریخوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا

مغربی بنگال پنچایت الیکشن میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے گذشتہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ الیکشن کے لئے نامزدگی اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ریاست کے اتفاق رائے سے کرے۔

انڈین مجاہدین مقدمہ (گجرات) کیا واقعی بہت سارے گواہوں کی ضرورت ہے ؟ سپریم کورٹ کا استغاثہ سے سوال

انڈین مجاہدین (گجرات ) مقدمہ میں ماخوذ گذشتہ ۹؍ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیددو مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے استغاثہ سے سوال کیا کہ آیاواقعی انہیں ہزاروں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے ؟