نرملا سیتارمن نے کانگریس سے پوچھا، رافیل پر ایچ اے ایل کی اتنی ہی فکر تھی تو آگسٹا ویسٹ لینڈ سے سودا کیوں ہوا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 1:06 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی ،5 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) رافیل معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے کہا کہ چاہے اقتدار میں کوئی بھی ہو ملک کامفاد سب سے اہم ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ رافیل معاملے پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا جائے گا۔ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ والے رہے ہیں۔چین۔پاکستان کی بہتر تیاری ہے۔یو پی اے کے 10 سالوں کے دور حکومت میں کچھ نہیں ہوا ہے۔ہماری فضائیہ کے پاس جہاز کم ہوتے جا رہے تھے۔2006 کے بعد سے رافیل ڈیل پر جاری تعطل جاری تھا۔اس وقت صرف 18 طیاروں کی بات تھی لیکن 2014 تک بھی طیارے دستیاب نہیں ہو پائے تھے۔ہماری فوج کو ان طیاروں کی ضرورت تھی۔لہٰذا ہماری حکومت نے ان طیاروں کو فوری طور پر خریدنے کا فیصلہ کیا اور ڈیل کے مطابق پہلی ہوائی جہاز اس سال 2019 تک ملک کو دستیاب ہو جائے گی۔2022 تک تمام 36 رافیل طیارے ہندوستان کو دستیاب ہو جائیں گے۔نرملا سیتارمن نے کانگریس سے الٹا سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ حفاظت کے لئے سودا کرنا اور حفاظت کے نام پر سودا کرنے میں فرق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس بتائے کہ آخر منظوری ملنے کے بعد بھی رافیل طیارے سودا کیوں ملتوی کیا گیا۔وزیر دفاع نے کہا کہ کانگریس کا ان طیاروں کو خریدنے کا بھی ارادہ ہی نہیں تھا۔انل امبانی کا نام لے کر الزام لگانے پر نرملا سیتارمن نے رابرڈ واڈرا پر بھی اشاروں اشاروں میں نشانہ لگایا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایچ اے ایل کے نام پر کانگریس مگرمچھ کے آنسو بہا رہی ہے۔جس پارلیمانی کمیٹی نے کہا کہ 3 دہائی تک پارلیمانی کمیٹی ناکام رہی ہے اس کے رکن کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھڑگے بھی رہے ہیں۔ایچ اے ایل کو مسلسل مہلت دی جاتی رہی ہے۔کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ایک بھی طریقے کادیسی جہاز نہیں بنا پائی ہے ایچ اے ایل۔وزیر دفاع نے کہا کہ 2005 سے لے کر 2014 تک ایچ اے ایل پر کچھ نہیں ہوا۔اس کو ایک لاکھ کروڑ کے پروجیکٹ ہم نے دلائے۔8 سے 16 طیارہ بنانے کی صلاحیت موجودہ مرکزی حکومت کے وقت کی گئی۔نرملا سیتارمن نے پوچھا کہ اگر رافیل پر ایچ اے ایل کی اتنی ہی فکر تھی تو آگسٹا ویسٹ لینڈ کے ساتھ کیوں سودا ہوا۔اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع نے فرانس کے صدر کے ساتھ راہل گاندھی کی بات چیت کی سرکاری کاپی بھی پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کر ڈالا۔انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ملک اور ایوان کو گمراہ کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے