مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک کے لئے مودی حکومت اور بی جے پی پر کڑی تنقید۔۔۔ نیویارک ٹائمز کا اداریہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 21st July 2017, 4:22 AM | اسپیشل رپورٹس | مہمان اداریہ |

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ بیف کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں سر زد ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز نے17جولائی کو جو اداریہ تحریر کیاہے اس کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

سال 2014 بھاری اکثریت کے ساتھ نریندر مودی نے بحیثیت وزیر اعظم جو جیت حاصل کی تھی اس کے پیچھے ان کے وہ وعدے تھے جس میں ملک کے معاشی ذرائع کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ایک روشن مستقبل تعمیر کرنے کی بات کی گئی تھی اور انہوں نے بی جے پی کے ہندو قومیت پرستی کے نظریے سے اپنی وابستگی کو کمزور کرکے دکھایا تھا۔

لیکن مسٹر مودی کی قیادت میں(ملک کی) ترقی کی رفتار کم ہوگئی ہے۔نوکریوں کا وعدہ حقیقت میں بدل نہیں پایا ہے۔اور جو کچھ کھل کر سامنے آیا ہے وہ زہرناک عدم رواداری ہے جو ایک سیکیولر ملک کی ان بنیادوں کو ہلاکر رکھنے والی ہے جو کہ اس ملک کے بانیوں کا تخیل ہے۔

جب سے مسٹرمودی نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے بیف کھانے والے یا ہندوؤں کی جانب سے مقدس مانے جانے والے جانورگائے کا احترام نہ کرنے والوں پر ہجوم کے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس میں زیادہ تر مرنے والے مسلمان ہیں۔ مسٹر مودی نے گزشتہ مہینے ہندوستانی حکومت کی طرف سے مذبح کے لئے گائیں فروخت کرنے پر پابندی جسے سپریم کورٹ نے معطل کردیا ہے، لگانے کے کچھ ہی دنوں بعد (انسانوں کو) قتل کیے جانے کے خلاف بیان دیا تھا۔ (مویشیوں کی فروخت پر) ایک ایسی پابندی جو ثقافتی رسوائی کا باعث ہے، وہ سب سے زیادہ مسلمانوں اور کم ذات کے ہندوؤں کے لئے مصائب کا سبب بن جاتی جو کہ روایتی طور پر گوشت اور چمڑے کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس سے مسٹر مودی کے ملازمتیں، معاشی ترقی اور بر آمدات کو بڑھاوا دینے کی مفروضہ ترجیحات کو بھی دھچکا لگتا ہے۔ 16بلین ڈالر کی اس انڈسٹری سے لاکھو ں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے اور گزشتہ سال(اس انڈسٹری سے) 4بلین ڈالر کی ایکسپورٹ آمدنی ہوئی ہے۔

زیادہ پریشان کن تو ان کی پارٹی کی طرف سے ایک جنگجو سادھویوگی آدتیہ ناتھ کو ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی اوربڑی تعداد میں مرکزی لیڈر شپ کے لئے افراد فراہم کرنے والی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے نامزد کرنے کا فیصلہ تھا۔مسٹر آدتیہ ناتھ نے مسلمانوں کے بارے میں کہاتھا:"دو پاؤں والے جانوروں کی فصل جسے ہمیں روکنا ہی ہوگا ۔"اور ایک ریالی کے دوران چیختے ہوئے کہا تھاکہ "ہم سب ایک مذہبی جنگ(دھرم یدھ) کی تیاری کررہے ہیں!"

اس صورتحال سے تجزیہ نگار نیرج چودھری کو یہ تبصرہ کرنا پڑا: "ہندوستان دائیں بازو (مذہبی شدت پسندی) کی طرف جارہاہے۔کیا ہندوستان مزید دائیں طرف آگے بڑھتا ہے اور مودی اعتدال پسند(ماڈریٹ) نظر آنے لگتے ہیں، میرے خیال میں یہ(آنے والا) وقت ہی بتانے والا ہے۔ منگل کے دن ہندوستان کے فلم سنسر بورڈنے جس کی قیادت بی جے پی کے ایک جغادری لیڈر کررہے ہیں، بظاہر مودی کو تحفظ دینے اور پارٹی کو تنقید سے بچانے کے لئے یہ فیصلہ دیا کہ ہندوستان کے مایہ  نازسپوت اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین پر بنی ڈاکیومنٹری فلم سے "گائے"، "ہندو انڈیا،"ہندتوا ویو آف انڈیا" مطلب ہندو نیشنلزم اور "گجرات " جہاں مودی وزیر اعظم رہتے ہوئے 2002 میں بھیانک مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جیسے الفاظ جب تک نکالے نہیں جائیں گے تب تک اسے عوامی نمائش کے لئے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ ہندو جنونیوں کی طرف سے ایک مضحکہ خیز اقدام لگ سکتا ہے۔ اگرچہ کہ یہ مودی کے انڈیامیں ہونے والے دیگر معاملات جیسا نہ ہو، اور اس کے اثرات (دیگر اقدامات کی طرح) ہندوستان کی جمہوریت کے لئے کپکپی طاری کرنے والے نہ ہوں۔لیکن یہی وہ مقام ہے مودی نے جہاں ملک کو لاکھڑا کیا ہے جو (اس بار) 15اگست کو اپنی آزادی کے سال پورے ہونے کا جشن منا رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

آخر اس  نظام ،انتظام کو کیا کہیں ،سمجھ سے باہر ہے! تعلیمی سال 2018-2019نصف گزر کر دو تین مہینے میں سالانہ امتحان ہونے ہیں۔ اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کو سرکاری شو بھاگیہ میسر نہیں ، نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ  سننے والا۔شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم شو، ساکس کی تقسیم کا ...

سوشیل میڈیا اور ہماراسماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از: سید سالک برماور ندوی)

اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔ جدید دنیا کی حیرت انگیزترقیات کا کرشمہ ہے کہ مہینوں کا فاصلہ میلوں میں اورمیلوں کا،منٹوں میں جبکہ منٹ کامعاملہ اب سیکنڈ میں طےپاتا ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور ...

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔