کاروار: گوا حکومت کے نئے قانون سے کرناٹک کے مچھلیوں کے تاجر پھنس گئے مشکل میں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 28th October 2018, 3:36 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار28؍اکتوبر (ایس اونیوز)پڑوسی ریاست گوا میں مچھلیوں کے کاروبار کے لئے نیا قانون لاگو کیا گیا ہے جس کے تحت مچھلی کے تاجروں کو فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے پاس اپنا رجسٹریشن کروانا لازمی ہے۔

اس کا سیدھا اثر کرناٹکا سے گوا کے لئے مچھلیاں سپلائی کرنے والے کاروباریوں پر پڑا ہے۔ جس کا مظاہرہ سنیچر کی رات کو کرناٹکا گوا سرحد پر موجود چیک پوسٹ پرتفتیش کے لئے روکی گئی مچھلی سے بھری ہوئی گاڑیوں لمبی قطار کی شکل میں دیکھنے کوملا۔اڈپی، منگلورو، ملپے اور ساحلی پٹی کے دیگر علاقوں سے مچھلیاں بھر کر نکلی ہوئی پچاس سے زیادہ گاڑیاں چیک پوسٹ پر ہی کئی گھنٹوں تک روک لی گئی تھیں۔مچھلیاں سپلائی کرنے کے لئے ضروری اجازت نامے، گاڑیوں کے دستاویز، مچھلیاں بھرکر لے جانے کے لئے گاڑیوں کے اندر ضروری انتظامات وغیرہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے آدھی رات سے دوسرے دن دوپہر تک مچھلی بھری گاڑیوں کو چیک پوسٹ پر ہی انتظار میں رکے رہنا پڑا۔ بتایاجاتا ہے کہ بعض گاڑیوں میں فریزر کا مناسب بندوبست تھا، ان گاڑیوں کو گوا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔مگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے بہت سی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو گوا کی سرحد پر بھاگ دوڑ کرتے ہوئے دیکھاگیا۔

خیال رہے کہ گوا کے وزیر صحت وشواجیت رانے نے جمعرات کے دن پریس کانفرنس کرکے بتایا تھاکہ فارمولین استعمال کرنے کی وجہ سے بیرونی ریاست سے آنے والی مچھلیوں پر پابندی تو نہیں لگائی جارہی ہے،لیکن مچھلیوں کے کاروباریوں کو ایف ڈی اے میں رجسٹریشن کروانا لازمی ہوگا۔ اس کے لئے 15دن کی مہلت دی جائے گی۔ادھر گوا کے ایک دوسرے بہت ہی بااثر وزیر وجئے سردیسائی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بیرونی ریاست سے آنے والی مچھلیوں پر گوا میں لازمی طور پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔اب ان دونوں وزیروں کے بیچ چل رہے سنگرام کااثر کس انداز میں بیرونی ریاست کے مچھلی تاجروں کو بھگتنا پڑے گا یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔

ایف ڈی اے میں رجسٹریشن کے اس نئے قانون کا پہلا اثر تو یہ ہواہے کہ گوا میں بیرونی ریاست سے مچھلیوں کی سپلائی رک گئی ہے اورگوا کی مارکیٹ میں مچھلیوں کی قلت شروع ہوگئی ہے۔اس سے گوا کے ٹورازم انڈسٹری پربھی کافی منفی اثر پڑنے والا ہے۔دوسری طرف قانون لاگو ہونے میں ابھی 15دنوں کی مہلت رہنے کے باوجود گوا پولیس کی طرف سے چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی تلاشی او رمعائنے کے نام پوری پوری رات روکے رہنے سے مچھلیاں سڑنے لگی ہیں او ر اس سے تاجروں کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔