بی بی ایم پی کی نئی اشتہاری پالیسی جلد، اگلے میئر کا انتخاب سینیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا: جی پرمیشور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th August 2018, 10:51 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،27؍اگست(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کے اگلے میئر کا فیصلہ کارپوریٹروں سے مشورے کے بعد سینیارٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ بات آج نائب وزیراعلیٰ اور بنگلور ضلع کے انچارج ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہی۔

بنگلوروشہر کے ویسٹ آف کارڈ روڈ پر سگنل فری کاریڈور کے لئے تیار کئے گئے فلائی اوور کا افتتاح کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگلا میئر کون ہوگا اس سلسلے میں کارپوریٹروں سے مشوروں کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔

پارٹی اعلیٰ کمان کی منظوری کے بعد نئے میئر کے لئے پارٹی امیدوار کا اعلان ہوگا۔ ٹمکور ضلع کو پینے کے لئے ہیماوتی کا پانی مہیا کرانے ریاستی وزیر ریونا کے انکار کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کل ہی یہ پراجکٹ شروع ہوا ہے۔ اس کے لئے ترجیحی بنیاد پر پانی فراہم کیا جارہاہے، ویسے بھی ریونا نے یہ کہیں نہیں کہا کہ پانی فراہم نہیں کیا جائے گا۔ شہر میں جابجا فلیکس اور بینروں کی بھرمار پر ہائی کورٹ کی روک کے بعد شہر میں تشہیر کے لئے ایک واضح پالیسی کی ضرورت پر عدالت کے زور سے اتفاق کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ شہر کے لئے ایک نئی اشتہاری پالیسی جلد وضع کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ عدالت کے حکم کے بعد شہر بنگلور سے تمام فلیکس اور بینر ہٹا دئے گئے ہیں۔ حکومت کوخدشہ ہے کہ کچھ مشتہرین اپنے اشتہاروں کی نمائش یقینی بنانے عدالت سے رجوع ہوسکتے ہیں، اسی لئے حکومت جلد از جلد اشتہاری پالیسی وضع کرنے کے لئے مستعد ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کی طرف سے عنقریب ایسی پالیسی بھی وضع کی جائے گی کہ ترقیاتی کاموں کے لئے جو ٹنڈر جاری کیا جائے گا اس میں پراجکٹ کی جو لاگت طے ہوگی تکمیل تک اتنی ہی رقم کنٹراکٹر کو دی جائے گی۔ پراجکٹ میں تاخیر کے سبب لاگت میں اضافے کے رجحان کو ختم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پچھلے پانچ سال کے دوران بی بی ایم پی کو حکومت کی طرف سے 15 ہزار کروڑ روپیوں تک کا گرانٹ دیا گیا ہے تاکہ شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنایا جاسکے، لیکن بدقسمتی سے بیشتر پراجکٹس ادھورے پڑے ہوئے ہیں۔ بی بی ایم پی کی طرف سے جلد از جلد ان پراجکٹوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہاکہ شہر میں گندگی کی نکاسی، غیر قانونی طور پر کیبل بچھانے کے واقعات پر روک لگانے کے لئے سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی نے اپنی کارروائی میں شہر سے آٹھ ہزار کلو میٹر تک کے کیبل کاٹ دئے ہیں۔اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ کے ہمراہ رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر ہنومتیا ، میئر سمپت راج، راجہ جی نگر کے رکن اسمبلی سریش کمار ، بی بی ایم پی کمشنر منجو ناتھ پرساد، سابق میئر جی پدماوتی وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

گرفتاری کے خوف سے رکن اسمبلی جے این گنیش روپوش

بڈدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں ہوسپیٹ کے رکن اسمبلی آنند سنگھ پر حملہ کرنے والے رکن اسمبلی جے این ۔ گنیش کے خلاف بڑدی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر داخل کرنے کی خبر کے بعد سے گنیش لاپتہ ہیں ۔

وسویشوریا یونیورسٹی رجسٹرار پر200کروڑ کے گھپلے کا الزام گورنر نے چھان بین کے لئے وظیفہ یاب جج کو مقرر کیا ۔ تعاون کرنے ملزم کو ہدایت

وسویشوریا ٹکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے رجسٹرار اب مشکل میں پڑگئے ہیں۔ گورنر واجو بھائی روڈا بھائی والا نے جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں،200کروڑ روپئے تک کے گھوٹالے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لنگایت طبقہ کے مذہبی رہنما شیوکمارسوامی کی آخری رسومات ادا، اسلامی تعلیمات اوراردو زبان سے بھی تھی واقفیت

یاست کرناٹک کی ایک عظیم شخصیت، لنگا یت طبقہ کے مذہبی رہنما، شیوکمارسوامی جی کی آج آخری رسومات انجام دی گئیں۔ بنگلورو کے قریب واقع ٹمکورشہرمیں شیوکمارسوامی جی کولنگایت رسومات کے مطابق دفنایا گیا۔ سدگنگا مٹھ میں آج اورکل لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سوامی جی کا آخری ...

ملک کو ایک باضابطہ دانشمندانہ انتخابی نظام کی ضرورت ہے آئین جمہوریت کی حفاظتی حصار ہے۔ اقلیت واکثریت کے توازن کو برقرار رکھنے پر حامد انصاری کازور

سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامدانصاری نے کہا کہ ملک کو ایک باضابطہ سمجھدار انتخابی نظام کی ضرورت ہے ، شفاف انتخابی ماڈیول کو فروغ کی سمت بھی کوشش ہونی چاہئے ۔