اسرائیل اور اردن کی شام سے متصل سرحد پربفرزون کی کوششیں

Source: S.O. News Service | Published on 8th April 2017, 7:53 PM | خلیجی خبریں |

مقبوضہ بیت المقدس،8اپریل(ایس اونیوز/ آئی این ایس انڈیا)اسرائیل کے عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو شام کی سرحد پر بفر زون کے قیام کی کوششیں شروع کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردن اور اسرائیل کے درمیان بھی بفر زون کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد شام میں جاری خانہ جنگی کیدوران ایران ملیشیا اور حزب اللہ کو صہیونی ریاست کی سرحد سے دور رکھنا ہے۔اخباری رپورٹ میں مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاھو نے حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی انتظامیہ کے سامنے بھی شام کی سرحد پر بفر زون کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔
نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت متعدد ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اسرائیل کی وادی گولان سے متصل شام میں ایرانی فورسز اور حزب اللہ کی موجودگی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ اس ضمن میں اسرائیل نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ شام میں وادی گولان میں ایران نواز ملیشیا اور حزب اللہ کی موجودگی اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور اردن کی شام سے متصل سرحد پر بفر زون کے قیام سے اسرائیل کو حزب اللہ کی طرف سے درپیش خطرات کم ہوجائیں گے۔اس حوالے سے پیش آئند ایام میں اسرائیل مغربی ملکوں کے ساتھ بات چیت کرے گا۔ یہ بات چیت شام میں ادلب کے مقام پر ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بارے میں جاری بحث کے دوران کی جاسکتی ہے۔اسرائیلی کابینہ میں شامل وزراء اریہ درعی، موشے کحلون، نفتالی بنیت اوریسرائیل کاٹز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی پناہ گزینوں کی مدد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ خطرے سے دوچار بچوں کو اسرائیل لایا جائے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔