نیشنل ہیرالڈ ہاؤس کیس: دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج، دو ہفتے میں خالی کرنے کا تھا حکم

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th January 2019, 7:16 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،06 جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) نیشنل ہیرالڈ کیس میں ایسوسی ایٹڈ جرنلس لمیٹڈ (اے جے ایل) نے سنگل بنچ کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ میں چیلنج کیا ہے۔سنگل بنچ نے دو ہفتے میں ہیرالڈ ہاؤس خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ڈبل بنچ میں کی گئی درخواست میں 21 دسمبر کے فیصلے پر فوری طور پر روک لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ساتھ ہی درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے مفاد میں عمارت خالی کرنے کے حکم پر روک لگانا ضروری ہے۔روک نہیں لگی تو یہ کبھی نہ پورا ہونے والا نقصان ہوگا۔ایسوسی ایٹڈ جرنلس لمیٹڈ کی درخواست پر 9 جنوری کو سماعت ہو سکتی ہے۔21 دسمبر کو ہیرالڈ ہاؤس کیس معاملے میں ایسوسیٹیڈ جرنلس لمیٹڈ کو بڑا جھٹکا لگا تھا۔دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل ہیرالڈ اخبار کے 56 سال پرانے دفتر ہیرالڈ ہاؤس کو دو ہفتوں کے اندر خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔یہ عمارت راجدھانی دہلی کے بہادر شاہ ظفر مارگ کے پریس ایریا میں واقع ہے۔جسٹس سنیل گوڑ نے کانگریس کے اخبار نیشنل ہیرالڈ کے پبلشر ایسوسی جرنلس لمیٹڈ (اے جے ایل) کو دو ہفتوں کے اندرہیرالڈ ہاؤس کو خالی کرنے کو کہا تھا۔ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ طے شدہ وقت کے اندر اگر ایسوسی جرنلس لمیٹڈ بلڈنگ خالی نہیں کرتی ہے تو اس پر کارروائی ہوگی۔غور طلب ہے کہ مرکزی شہری وزارت نے آئی ٹی او واقع ہیرالڈ ہاؤس کو 30 اکتوبر کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف اے جے ایل نے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔زمین اور ترقی کے دفتر نے ہیرالڈ ہاؤس کی 56 سال پہلے کی لیز منسوخ کر دیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے دلیل دی تھی کہ اس گھر سے 2008 کے بعد سے نیشنل ہیرالڈ اخبار کی اشاعت نہیں ہو رہی ہے۔ مہتا نے کورٹ میں کہا تھا کہ سال 2016 میں جب عمارت کا معائنہ کرکے نوٹس جاری کیا گیا، تب نیشنل ہیرالڈ کی دوبارہ اشاعت شروع کی گئی تھی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

چوکیدارکا ٹھپہ نہیں چاہتی پرائیویٹ سیکورٹی انڈسٹریز

قریب 80 لاکھ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز والی انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے ’چوکیدار‘ مہم سے بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے، البتہ وہ اپنی بہت مشکلات کو لے کر خود مرکزی حکومت سے لڑ رہی ہے۔سیکورٹی سروسز پر 18فیصد جی ایس ٹی کے خلاف برسرپیکار رہی کمپنیاں اب حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا ...

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔