آرایس ایس کوآرٹیکل 370یادآیا،لیکن دفعہ کی حمایتی پی ڈی پی کے ساتھ سرکار؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2018, 10:57 AM | ملکی خبریں |

جے پور، 13جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آر ایس ایس نے ایک بار پھر ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔مکہ مسجد اورمالیگاؤں بم دھماکے کے ملزم اور آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے کہا کہ آرٹیکل 370کو ہٹانے سے ہندوستان کی ساکھ اور کامیابی میں اضافہ ہوگا۔ملک کا مستقبل بدل جائے گا اور یہ نئی راہ اور سمت کی طرف بڑھے گا۔سوال یہ ہے کہ بی جے پی پی ڈی پی کے ساتھ سرکاربنائی ہوئی ہے ۔جواس دفعہ کی حمایتی ہے ،تووہ اپنے اس انتخابی ایجنڈے پرکیسے آگے بڑھ سکتی ہے ۔جے پور میں یوم نوجوانوں کے موقع پراس نے نوجوانوں کو بتایا کہ آپ کو سوامی ویویکانندکے راستے پرچل کرآگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اس نے کہا کہ کشمیری مسئلہ بعض سیاسی خاندانوں کی دین ہے، جنہوں نے اپنے فائدے کیلئے وہاں کے لوگوں کو ہندوستان کے خلاف بھڑکایاہے۔اس نے کہا کہ پاکستان اسپانسر دہشت گردی سے ہندوستان جوجھ رہا ہے۔1972سے اب تک ہندوستان میں دہشت گردی کی وجہ سے 66ہزار افراد مر چکے ہیں۔اس کے باوجودہندوستان اور پاک سرحد پر بھی فائرنگ سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے،تاہم اس نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں نے دہشت گردانہ واقعات کو کم کر دیا ہے۔آرایس ایس کے رہنما نے کہا کہ بہت سے علیحدگی پسند جیل کی ہوا کھا رہے ہیں اور بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو ملکی دھاراسے جوڑاجارہاہے۔اس سے پہلے مودی نے ایک عوامی اجلاس میں کہا تھا کہ آرٹیکل 370پر بحث کی جانی چاہئے۔واضح رہے کہ بی جے پی نے انتخابی ایجنڈا میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کو ہٹانا بھی شامل کیاتھا۔واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 370کے تحت جموں و کشمیر کو ایک خصوصی خودمختار ریاست کادرجہ حاصل ہے۔ آرٹیکل 370 کاخاکہ 1947میں شیخ عبداللہ نے تیار کیا جنہیں وزیراعظم جواہر لال نہرو اور مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کا وزیراعظم مقرر کیاتھا۔شیخ عبداللہ نے آرٹیکل 370کے بارے میں یہ دلیل دی تھی کہ آئین میں اس کابندوبست عارضی طور پر نہ کیا جائے۔انہوں نے ریاست کے لئے مضبوط خودمختاری کا مطالبہ کیاتھا، جسے مرکزنے ٹھکرادیاتھا۔آئین کے آرٹیکل 370کی دفعات کے مطابق پارلیمنٹ کو جموں و کشمیرکے بارے میں دفاعی، غیر ملکی معاملات اور مواصلات سے متعلق معاملات سے متعلق قوانین کا حق ہے لیکن دوسری شعبے سے متعلق قانون کو نافذ کرنے کے لیے مرکزکو ریاست کی منظوری کی ضرورت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جموں کشمیر میں بی جے پی۔پی ڈی پی سرکار گرگئی؛ محبوبہ مفتی نے سونپا گورنر کو اپنا استعفیٰ

جموں کشمیر میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے جس کے ساتھ ہی ریاست میں تین سالوں سے چلی آرہی گٹھ بندھن سرکار ختم ہوگئی ہے۔ بی جے پی کے سرکار سے  الگ ہونے کی اطلاع کے فوری  فوری بعد محبوبہ نے گورنر این این بوہرا  کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا۔

ریاستی کانگریس لیڈروں کو نصیحت کرنے راہل گاندھی سے درخواست بہتر انتظامیہ کو یقینی بنانے دونوں پارٹیوں کے درمیان تال میل ضروری: ایچ ڈی کمار سوامی

ریاستی وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے آج دہلی میں کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کر کے ریاست کی سیاسی صورتحال سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ ا س ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے کمار سوامی کو مشورہ دیا کہ کرناٹک میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کا یہ ابتدائی دور ہے۔

کسانوں کا قرضہ معاف کرنے مرکزی حکومت سے تعاون کی اپیل 85لاکھ سے زائد کسان مشکلات کا شکار ہیں ، مصیبت کی گھڑی میں ہاتھ تھامنا مرکزی و ریاستی حکومت کاکام ہے: کمار سوامی

قرض کی دلدل میں پھنسے ہوئے کسانوں کو اوپر لانے کی خاطر کئے جارہے قرضہ معاف اسکیم کو مرکزی حکومت 50فی صد امداد فراہم کرے ، اس خیال کااظہار ریاستی وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کیا۔

اتر پردیش میں گئو کشی کی افواہ پر مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل

ملک میں گئو کشی روکنے کے نام پر غنڈہ گردی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ تازہ معاملہ اتر پردیش میں پلکھوا کے بچھیڑا خرد سے سامنے آیا ہے جہاں گوکشی کی افواہ پر کچھ شرپسندوں نے قاسم نامی نوجوان کو بری طرح مارا پیٹا اور قتل کر دیا۔

سکھ زائرین کی کار ٹرک سے جا ٹکرائی ایک بچہ، تین خواتین سمیت 7ہلاک 

پنجاب کے امرتسر کے پاس سموار اسپورٹس یوٹی لیٹی وہیکل کی ٹرک سے تصادم میں سات لوگ لقمہ اجل ہوگئے ۔واضح ہو کہ مہلوکین میں تین عورت سمیت ایک بچہ بھی ہے ۔ یہ تمام افرادامرتسر کے گولڈن ٹمپل کی زیارت اور پوجا ارچنا کرکے دہلی واپس آرہے تھے۔