جعل سازی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کا رول سے متعلق قومی کانفرنس 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th March 2018, 11:52 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی12مارچ(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )حکومت ہندکی صنعت وتجارت کی وزارت کے صنعتی پالیسی اور فروغ کے محکمے کی زیر سرپرستی، کام کرنے والا ایک پیشہ ور ادارہ سیل فار آئی پی آرپروموشن اینڈ منیجمنٹ (سی آئی پی اے ایم) یعنی صنعتی پالیسی ، فروغ اور بندوبست سے متعلق سیل ، یورپی یونین (ای یو)کے اشتراک سے نئی دہلی میں 13 اور 14 مارچ 2018 کو جعل سازی اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے رول سے متعلق ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے۔ صنعت وتجارت کے و زیر سریش پربھو پربھاکر ڈی آئی پی پی کے سکریٹری جناب رمیش ابھیشیک کی موجودگی میں اس دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ جعل سازی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس کا اثر عالمگیر سطح پر پڑنے لگا ہے۔ جعل سازی سے ایک طرف جہاں برانڈ ویلیو، مینوفیکچرر اور صنعتی پیداواروں کے مالکان کی شہرت اور نیک نامی متاثر ہورہی ہے وہیں دوسری طرف اس کے نتائج سماجی اور اقتصادی شعبوں میں بھی سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس اور محصولات کے خسارے کی شکل میں زبردست مالی نقصان ہورہا ہے۔ اس کی وجہ سے ٹیکس اور محصولات وغیرہ سے جو رقوم حاصل ہوسکتی تھی وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف منتقل ہورہی ہیں۔ جعلی مصنوعات کا اثر صارفین کی صحت وسلامتی پر بھی پڑتاہے۔ پولیس، کسٹمز اور قانونی کارروائی کرنے والی اکائیوں جیسی قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کا دانشورانہ املاک حقوق کے مؤثر نفاذ میں اہم رول ہے۔ آئی پی آر اور جعل سازی کی خرابیوں کے تئیں ان ایجنسیوں کے اہلکاروں میں بیداری پیدا کرنے سے قانون کے نفاذ کے نظام کو تقویت حاصل ہوگی۔ اس سے روز مرہ کے اپنے کام کاج میں انہیں جعلی مصنوعات سے متعلق معاملات کو نمٹانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کانفرنس کا مقصد ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ وہ بہترین طور طریقوں کا آپس میں اشتراک کرسکیں جس سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں، قانونی ماہرین اور صنعتوں کے نمائندوں کو فائدہ ہو اور آئی پی آر تحفظ کے ماحول کو مزید مضبوط کرنے کے لئے تازہ تصورات سامنے آسکیں۔ اس سے اہلکاروں کو بھی ایک پلیٹ فارم ملے گا جہاں وہ اپنے تجربات مشترک کرسکیں اور جعل سازی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے مختلف ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوسکے۔ قانون کا نفاذ کرنے والی ایجنسیوں سے متعلق افراد کے علاوہ متعدد آئی پی پروفیشنلس، وکلاء ، ای- کامرس سے متعلق افراد اور صنعتی تنظیموں سے وابستہ لوگ بھی اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ حکومت نے آئی پی آر کے نفاذ میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہم رول کے تئیں ان میں بیداری پیدا کرنے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ گزشتہ برس وزارت نے ملک بھر میں پولیس اہلکاروں کے لئے ایک ٹول کٹ لانچ کیا تھا جس سے انہیں آئی پی جرائم بالخصوص ٹریڈ مارک کی جعل سازی اور کاپی رائٹس کی پائریسی کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ اگست 2017 میں دانشورانہ املاک حقوق (آئی پی آر) کے نفاذ سے متعلق ایک تین روزہ قومی ورکشاپ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ مزید برآں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے متعددتربیتی اجلاس بھی منعقدکیے گئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا نریندر مودی کا وعدہ بھی جملہ: کانگریس

وزیر اعظم نریندر مودی نے 'مودی ایپ' کے ذریعہ آج ملک بھر کے کسانوں کو خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے اپنی حکومت کو کسانوں کا ہمدرد بتایا۔ ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2022 تک ملک کے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے سمیت کئی بڑے وعدے کیے۔