مہاتما گاندھی بھی آرایس ایس کے پروگرام میں شامل ہوئے تھے: پرچارک نریندر سہگل کا دعوی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th June 2018, 4:04 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی  دہلی7 جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آج  ناگپور میں ہونے والے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) کے پروگرام میں صابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کررہے ہیں۔ اس موقع پر وہ وہاں آرایس ایس کے لیڈران اور ممبران کوخطاب کریں گے۔پرنب مکھرجی  کا پس منظر ایک کانگریسی لیڈر کا رہا ہے۔ اس لئے ان کا آرایس ایس کے پروگرام میں جانا کانگریس سمیت کئی پارٹیوں کو پسند نہیں آرہا ہے۔

پرنب مکھرجی کے دورہ کو لے کر کئی لوگوں نے تبصرہ کیا ہے۔ اس درمیان آرایس ایس پرچارک رہ چکے صحافی اور رائٹر نریندر سہگل نے دعوی کیا ہے کہ مہاتما گاندھی 1934 میں آرایس ایس کے ایک پروگرام میں تشریف لاچکے ہیں۔

نریندر سہگل نے کہا کہ آرایس ایس کے پروگراموں میں مدن موہن مالویہ بھی آئے تھے۔ سبھاش چندر بوس نے1938 یا 1939 میں ناگپور میں پتھ تحریک دیکھی تھی۔ آرایس ایس کی دعوت پر اب پرنب مکھرجی آرہے ہیں۔ آرایس ایس کی پالیسی رہی ہے کہ ہم آہنگی، رابطہ اور بات چیت۔ یہ ہندوستانی ثقافت ہے. لوگ آرایس ایس میں آتے رہتے ہیں اوران سے گفتگو کرتے ہیں۔

ہندوستانی تحریک آزادی میں آرایس ایس کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان سہگل کی لکھی گئی کتاب ’’بھارت وش کی سروانگ سوتنرتا‘‘ اور ان کے بیان سرخیوں میں آگئے ہیں۔ سہگل کا دعوی ہے کہ کانگریس کی طرح ہی آرایس ایس کا بھی جنگ آزادی میں تعاون رہا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے اس سے منسلک تاریخ ایک خاندان کو دیکھتے ہوئے یکطرفہ لکھا گیا ہے۔طویل وقت سے ان الزامات سے جدوجہد کررہا ہے کہ جنگ آزادی میں اس کا کوئی رول نہیں تھا۔پنجاب میں آرایس ایس کے پرچارک رہ چکے سہگل کے مطابق میں نے  ایسا  نہیں کہا کہ جنگ آزادی میں آرایس ایس کا تعاون کانگریس سے زیادہ ہے، بلکہ  میں نے یہ کہا کہ کانگریس کی طرح ہمارا بھی تعاون ہے۔ میں نے اپنی کتاب میں ثبوتوں کے ساتھ بتایا ہے کہ کس طرح آرایس ایس کا تعاون رہا ہے۔

نریندر سہگل نے کہا کہ آرایس ایس اپنے نام سے کچھ نہیں کرتا تھا۔ اپنے نام اور ادارے کے نام سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد میں آزادی سے جڑی کانگریس کے سبھی تحریک میں آرایس ایس کے کارکنان نے حصہ لیاہے۔ آرایس ایس کے بانی ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگوار خود دوبار سال سال بھر کے لئے جیل میں رہے ہیں۔ پورے ستیہ گرہ کے اندر آرایس ایس کے 16 ہزار کارکن جیل میں تھے۔ 1942کے موومنٹ میں ہمارا سب سے زیادہ حصہ تھا، لیکن آرایس ایس کے نام سے نہیں تھا۔ آرایس ایس تو آج بھی اپنے نام سے کچھ نہیں کرتا ہے، وہ تو آج بھی وشو ہندو پریشد، مزدور سنگھ، بھارتیہ جنتا پارٹی اور ونواسی کلیان آشرم کے نام سے کام کرتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیراعظم مودی نے کابینہ سمیت سونپا صدرجمہوریہ کو استعفیٰ، 30 مئی کو دوبارہ حلف لینےکا امکان

لوک سبھا الیکشن کے نتائج کے بعد جمعہ کی شام نریندرمودی نے وزیراعظم عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ساتھ  ہی سبھی وزرا نے بھی صدرجمہوریہ کواپنا استعفیٰ سونپا۔ صدر جمہوریہ نےاستعفیٰ منظورکرتےہوئےسبھی سے نئی حکومت کی تشکیل تک کام کاج سنبھالنےکی اپیل کی، جسے وزیراعظم نےقبول ...

نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، امریندر سنگھ نے کابینہ سے باہرکرنے کے لئے راہل گاندھی سے کیا مطالبہ

لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس میں اب اندرونی انتشار کھل کرباہرآنے لگی ہے۔ پہلےسے الزام جھیل رہے نوجوت سنگھ سدھو کی مشکلوں میں اضافہ ہونےلگا ہے۔ اب نوجوت سنگھ کوکابینہ سےہٹانےکی قواعد نے زورپکڑلیا ہے۔

اعظم گڑھ میں ہارنے کے بعد نروہوا نے اکھلیش یادو پر کسا طنز، لکھا، آئے تو مودی ہی

بھوجپوری سپر اسٹار نروہوا (دنیش لال یادو) نے لوک سبھا انتخابات کے دوران سیاست میں ڈبیو کیا تھا،وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر یوپی کی ہائی پروفائل سیٹ اعظم گڑھ سے انتخابی میدان میں اترے تھے لیکن اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے سامنے نروہا ٹک نہیں پائے۔

مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کی بھاری اکثریت کے ساتھ جیت

مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات دینے والوں کو اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اترکنڑا لوک سبھا حلقے کے بی جے پی اُمیدوار اننت کمار ہیگڈے جنہوں نے کہا تھا کہ جب تک اسلام رہے گا دہشت گردی رہے گی،اسی طرح انہوں نے  دستور کی ...

ایچ کے پاٹل نے راہل گاندھی کو بھیجا استعفیٰ

ریاست میں کانگریس کے تشہیری مہم کمیٹی کے صدر ایچ کے پاٹل نے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔