دفع شر کی خاطر بی جے پی لیڈر پرتاپ سمہا احتیاطاً حراست میں 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd December 2017, 9:01 PM | ریاستی خبریں |

میسور3 دسمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی کے ایم پی پرتاپ سمہا اور کچھ دیگرافراد کو ہنومان جینتی سے قبل میسور کے پاس ہون سور میں آج احتیاطاً حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے کل عید میلادا لنبی اور آج جلوس کے پیش نظر ہون سورمیں سیکورٹی کے وسیع انتظام کئے گئے تھے۔ ڈسٹرکٹ حکام نے منتظمین کو خاص راستہ کے ذریعے جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔حکام نے کہا کہ اگرچہ منتظمین نے راستے میں کچھ تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے اور پولیس اپیل کے باوجود انہوں نے اس کے ساتھ آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کی ہے ؛ لہٰذا متوقع شر انگیزی کے مد نظر احتیاطاً سمہا اور دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔لوک سبھا ایم پی سمہا نے ریاست میں کانگریس کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ انتظامیہ اور پولیس کی درخواست کے باوجود کسی خاص جگہ سے جلوس کو اجازت نہیں دی جا رہی ہے ، واضح ہو کہ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اس جلوس کے تحت عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا کار شر انجام دیتے ہیں ۔بنا بریں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے ۔ سمہا کی حراست کے مدنظر ان کے حامیوں اور آر ایس ایس کے کارکنان نے مظاہر ہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے علاقہ میں کشیدگی صاف دیکھی جا رہی ہے ۔تاہم. پولیس نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حالت میں صورتحال بگڑنے نہیں دیا جائے گا اگر کسی نے بھی انتظامیہ کے حکم کی خلاف ورزی کی تو اس کے ساتھ تادیبی امور کے تحت نمٹا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کیخلاف کانگریس کا جاری کردہ ٹیپ جعلی، کرناٹک کانگریس رکن اسمبلی کابیان، کانگریس پریشان 

بی جے پی کے خلاف کانگریس کے ایک جاری کردہ ٹیپ سے کانگریس کی ٹکٹ پر جیت درج کرنے والے یلاپور کے رکن اسمبلی شیورام ہیبار نے پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ٹیپ کو جعلی قرار دیاہے۔ اور اس بات کو غلط قرار دیا ہے کہ بی جے پی کی طرف سے انہیں رقم کی پیشکش کی گئی تھی اور وزارتی عہدہ دینے کا بھی ...

کرناٹک انتخابات:کانگریس کے ان لیڈروں نے بگاڑ دیا بی جے پی کا کھیل

کانگریس صدر راہل گاندھی کے پارٹی کے اندر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور انہیں آگے بڑھانے کی پالیسی اپنانے کے باوجود کرناٹک میں جنتا دل (ایس) کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے فارمولے کو انجام تک پہنچانے کی حکمت عملی میں پارٹی کے سینئر لیڈر ہی کام آئے۔