ترکی: ایرانی اور کویتی تاجر استنبول میں پراسرار طور پر قتل

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 2nd May 2017, 10:54 AM | خلیجی خبریں | عالمی خبریں |

انقرہ،یکم مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ترکی کے شہر استنبول میں ہفتے کی شامل نامعلوم مسلح افراد نے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والی معروف ’جیم‘ ٹی وی کمپنی کے بانی اور چیئرمین سعید کریمیان کو اس کے کویتی ساتھی تاجر محمد متعب الشلاحی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ استنبول میں کویتی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ اس پراسرار قتل کی تحقیقات میں ترک پولیس کی مدد کررہا ہے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دہرے قتل کے واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تاہم جو گاڑی بظاہر ان کے قتل کے لیے استعمال کی گئی تھی اسے بعد میں جلی ہوئی صورت میں پایا گیا ہے۔واضح رہے کہ سعید کریمیان پر ان کی غیر موجودگی میں تہران کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گ?ا تھا اور انھیں ایران کے خلاف پروپگینڈا کرنے کے جرم میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ان کے کویتی شریک تاجر متعب الشلاحی بھی ترکی میں ایک مشہور شخصیت تھے۔ دونوں کو ہوٹل میں جاتے ہوئے گولیاں ماری گئیں۔ کویت کے ایک رکن پارلیمان ولید طبطائی کا کہنا ہے کہ متعب الشلاحی کی موت کھلم کھلا سیاسی قتل ہے۔

خیال رہے کہ جیم ٹی وی پر غیر ملکی اور مغربی شوز کو فارسی زبان میں ڈب کرنے کے بعد ایران کے لیے نشر کیا جاتا ہے۔جیم گروپ کو شروع میں لندن میں قائم کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس میں وسعت آئی اور اسے دبئی منتقل کر دیا گیا۔گروپ کے ویب سائٹ کے اعتبار سے اس کے تحت فارسی زبان کے 17 چینل چلتے ہیں اس کے علاوہ ایک ایک چینل کردش، آزری اور عربی زبان میں اپنی نشریات پیش کرتے ہیں۔کریمیان کے ایک دوست امیر عباس فخر آور نے کریمیان کی موت کا قصور وار ایران کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی رجیم بیرون ملک موجود اپوزیشن رہ نماؤں کو چن چن کر قتل کرنے پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ سعید کریمیان کے بہیمانہ قتل میں تہران سرکار کا ہاتھ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن:المخا کے محاذ پر حوثی باغی ڈھیر

یمن میں فوجی ذرائع نے ’العربیہ‘نیوز چینل کو باور کرایا ہے کہ المخا کے محاذ پر عرب اتحادی افواج کی معاونت سے سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد حوثی باغیوں بڑی حد تک ڈھیر ہو چکے ہیں۔