میانمار: روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی جانچ کرنیوالے 2صحافیوں کو 7برس قید

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th September 2018, 11:06 AM | عالمی خبریں |

ینگون، 4؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)میانمار کی ایک عدالت نے خبررساں ادارے رائٹرز کے دو صحافیوں کو ملکی رازوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے جرم میں 7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کی جانچ کے دوران ملکی راز کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

صحافی وا لون اور کیاو او کو سرکاری دستاویزات کے ساتھ گرفتار کیا گیا جو انہیں کچھ دیر قبل پولیس افسروں نے دی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور یہ کہ پولیس نے انہیں جال میں پھنسایا ہے۔ یہ دونوں صحافی گزشتہ سال دسمبر میں گرفتاری کے بعد سے قید میں ہیں۔ یہ دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

رائٹرز کے مدیر اعلی سٹیفن ایڈلر نے کہاآج کا دن میانمار، رائٹرز کے صحافیوں وا لون اور کیاو سیو او اور دنیا بھر میں پریس کی آزادی کے لیے غمناک دن ہے۔ 32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیاو سیو او شمالی رخائن کے گاؤں اندن میں فوج کے ہاتھوں 10 افراد کے قتل کے متعلق شواہد اکٹھا کر رہے تھے۔

رائٹرز کے مطابق میانمار میں برطانیہ کے سفیر ڈین چگ نے کہاہم اس فیصلے سے بہت مایوس ہوئے ہیں دونوں کو رہا کیا جائے۔ امریکی سفیر سکوٹ میرسیل نے بھی یہی تنقید کی اور کہا کہ عدالت کا فیصلہ ان سبھی کے لیے بہت زیادہ پریشان کن ہے جنہوں نے میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔میانمار میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور انسانی اقدار کے کوارڈینیٹر نٹ اوسٹبی نے کہا کہ صحافیوں کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپس آنے دینا چاہیے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلہ دیش انتخابات میں شیخ حسینہ کامیاب، اپوزیشن نے نتائج ماننے سے کیا انکار

خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکمران جماعت عوامی لیگ نے اتوار 30 دسمبر کو ہونے والے عام انتخابات میں اپوزیشن کے مقابلے میں بڑی برتری حاصل کر لی ہے اور حتمی نتائج میں عوامی لیگ کو کل 350 نشستوں میں سے 281 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت ٹوئٹراستعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممنوع ہے : امریکی سفیر

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ...