کرناٹکا اردو چلڈرنس اکیڈمی کے زیرِ اہتمام شیمو گہ گڈ ول میں اجرا ئی تقر یب و مشاعرہ؛ کوئمپو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جو گن شنکر کی شرکت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 2nd September 2018, 10:21 PM | ریاستی خبریں |

شموگہ 2/ ستمبر (ایس او نیوز/پریس ریلیز)   گڈ ول کنو ینشن ہال شیمو گہ میں یکم ستمبر کو ڈاکٹر حافظؔ کر نا ٹکی کی صدارت میں شبینہ طلعتؔ کی کتا ب ’’بین السطو ر‘‘کی اجرا ئی تقر یب منعقد کی گئی ۔اس تقر یب میں مہما ن خصو صی کی حیثیت سے وا ئس چا نسلرکوئمپو یو نیو رسٹی پر و فیسر جو گن شنکر نے شر کت کی ۔ اور انہو ں نے ہی اپنے ہا تھو ں سے ’’بین السطو ر‘‘ کا اجرا کیا ۔ اس مو قع پر  ابو تراب خطا ئی ضا من کی کتا ب فن شا عر ی کا اجرا ڈاکٹر حافظؔ کر ناٹکی نے کیا ۔ مہما ن اعزازی کی حیثیت سے جنا ب شا د با گل کو ٹی ۔ پر و فیسر عبدالرب استا د ۔ڈاکٹر سہیل نظام ۔ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن ۔ڈاکٹر آفا ق عالم صدیقی۔ ڈاکٹر فرزانہ محتشم فرح اور دوسرے کئی اہم ادبا و شعرا اور دا نشورا ن علم وادب نے شر کت کی ۔

کتا ب کے اجراکے بعد وا ئس چا نسلر پر وفیسر جو گن شنکر نے خطا ب کر تے ہو ئے اردو زبان سے اپنے لگا ؤ اور چا ؤ کا اظہا ر کیا ۔ اور اس زبان کے سبھا ؤ اور ر کھ ر کھا ؤ اور شیرینی کی تعریف کی ۔ انہو ں نے حیران کر دینے وا لے انداز میں حافظؔ کر ناٹکی صاحب کی کئی کتا بو ں کے نام لیے اور ان کی خصوصیات کا بھی ذکر کیا ۔ با الخصوص سیرت النبیؐ کے حو الے سے حافظؔ کر نا ٹکی کی خد ما ت کو سر اہا اور کہا کہ ہما رے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ہما رے یہا ں اتنے بڑے بڑے فنکا ر مو جو د ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتنے سا رے لو گو ں کے در میان آج جس کتا ب کا اجرا ہو ا ہے ۔ میرا خیا ل ہے کہ یہ کتا ب بھی اہم ہی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے کہ ایک خاتون علم وادب اور تنقید کی دنیا میں آگے آرہی ہیں اور اپنی لیاقت کا ثبوت پیش کر رہی ہیں۔خواتین کو اسی طرح ہر میدان میں آگے آنا چاہئے ۔انہوں نے شا د با گل کو ٹی صاحب کے دو ہو ں کی بھی تعر یف کی ۔

ڈاکٹر حافظؔ کر نا ٹکی نے کہا کہ وا ئس چا نسلر پر وفیسر جو گن شنکر کا خمیر اس دھر تی سے اٹھا ہے جس کے ذرے ذرے میں اردو کی خو شبو بسی ہو ئی ہے ۔ان کا تعلق اس شہر سے ہے جسے اردو کا گہوارہ یعنی گلبرگہ کہا جاتا ہے ۔اس لیے وہ اردو زبان سے محبت کر تے ہیں ۔ڈاکٹر حافظؔ کر ناٹکی نے شعبہء اردو کی زبوں حالی کے درد سے مغلوب ہو کر وا ئس چا نسلر صاحب سے درخواست کی کہ آپ اپنی سطح سے شعبہ اردو کی بحا لی اور تر قی کے لیے ہر ممکن کو شش کیجئے اگر آپ اس طر ف خصوصی تو جہ کر یں گے تو یہ شعبہ جی اٹھے گا ۔ اور اردو زبا ن کامستقبل محفوظ ہو جا ئے گا ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہو ئے کہا کہ خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ، ہمارے ضلع سے ایک لائق و فائق خاتون نے اردو تنقید کی دنیا میں قدم بڑھایا، اور اپنی علمی بصیرت کا ثبوت ’’بین السطور‘‘ کی شکل میں پیش کیا ہے۔ لوگ اس ابھرتی ہوئی ناقد کو ڈاکٹر شبینہ طلعت کے نام سے جانتے ہیں، مجھے امید ہے کہ ان کی تنقیدی بصیرت سے فن اور فنکار کو تازہ ہوا کے جھونکے کا احساس ہوگا اور اردو زبان و ادب یونہی بہار دکھاتی رہے گی۔ میں انہیں ان کی کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر حافظؔ کر ناٹکی صاحب کی تقر یر سے وا ئس چا نسلر کو یمپو یو نیو رسٹی پر و فیسر جو گن شنکر کا فی متا ثر ہو ئے ۔ اورایک با ر پھر ما ئک پر تشر یف لا ئے اور اردو زبان سے اپنی محبت کا اظہا ر کیا اور یقین دہا نی کرا ئی کہ اردو کا جو حق ہے وہ اسے ہر حا ل میں ملے گا ۔ بس آپ لو گ دل وجا ن سے اس زبان کی خد مت پر آما دہ ہو جا ئیں ۔ اور زیا دہ سے زیا دہ طا لب علم کا داخلہ کر ائیں ۔

ڈاکٹر شبینہ طلعتؔ کی خدمت میں شاد باگل کوٹی صاحب نے منظوم تہنیت پیش کی تو پروفیسرشاہ مدار عقیل صاحب نے ڈاکٹر شبینہ طلعت ؔ کی خدمت میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔ اس موقع سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فرزانہ فرح نے ڈاکٹر شبینہ طلعتؔ کا خوب صورت خاکہ پیش کیا اور ان کی شخصی خوبیوں اور علمی کمالات کا خوب صورتی سے ذکر کیا۔معروف شاعر ناقداور محقق ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن نے بھی ڈاکٹر شبینہ طلعتؔ کی علمی فتوحات کا ذکر کیا اور ان کی تنقیدی بصیرت کو سراہا آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے تنقید کرنا اورسچی تنقید کو قبول کرنا ۔جو معاشرہ تنقید ی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔اس کی بنیادوں کو چاپلوسی اور خوشامد کی دیمکیں چاٹ جاتی ہیں۔ایسی صورت حال میں کوئی ہوس شیرہ وشہرت سے گریز کرکے تنقید کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو یقیناًہمیں اس کا استقبال کرنا چائیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موصوفہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے سسرال والے قدم قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

اس مو قع پر  تمام حاضر ین اور شر کا ء مجلس نے مٰولفہ کو ان کی پہلی کتا ب کی اشا عت پر دلی مبا رکبادپیش کی ۔ اور اس کے رو شن مستقبل کی دعائیں کی ۔ بعد ازا ں حافظؔ کر ناٹکی صاحب کی صدارت میں ایک شا ندار مشا عر ے کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں جنا ب شا د ؔ با گل کو ٹی شر الکپہ ۔ پرو فیسر عبد الرب استا د ؔ گلبر گہ ۔ ڈاکٹر سہیل نظام ؔ ہبلی ۔ڈاکٹر فرزانہ فرح محتشم بھٹکل ۔ ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن۔ سراج زیبا ئی وا نمبا ڑی ۔ غو ث پیر ہمد رد ؔ ۔ سا جد حمیدؔ ۔ یس یم عقیل ؔ ۔ پر وفیسر ریا ض محمود،م پ را ہی ؔ ۔ عابداللہ اطہرؔ ۔ علیم اللہ علیمؔ ۔ ارقمؔ مظہری ۔ سید ظہیر احمد فناؔ وغیرہ نے اپنا کلام سنایا ۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:آر ایس ایس پرچارک تربیتی کیمپ میں امیت شاہ کی شرکت۔ سرخ دہشت گردی ، رام مندر، سبریملا اور انتخابات پر ہوئی خاص بات چیت

ملک کی مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی مصروفیت کے باوجود بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے منگلورو میں آر ایس ایس ’ پرچارکوں‘ کے لئے منعقدہ 6 روزہ تربیتی کیمپ کے اختتام سے ایک دن پہلے ’سنگھ نکیتن‘ میں پہنچ نے کے لئے وقت نکالااور تربیتی کیمپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔

مشاعروں کو با مقصد بنا کر نفرت کے ماحول کو پیار اور محبت میں بدلا جاسکتا ہے : سید شفیع اللہ

مشاعرے اردو زبان اور ادب کی تہذیب کے ساتھ ساتھ امن اور اتحاد کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ملک اور سماج کے موجودہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ مشاعروں کا انعقاد کیا جائے۔ بنگلورو میں بزم شاہین کے کل ہند مشاعرے میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا۔

ٹیپوجینتی منسوخ کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے جواہر لال نہروکی جنم دن تقریب سے وزیراعلیٰ کااظہار خیال

کسانوں کی طرف سے حاصل کردہ زرعی قرضہ معاف کئے جانے کے سلسلہ میں شکوک وشبہات کا شکار نہ ہوں۔ قرضہ وصولی کیلئے کسانو ں کوغیر ضروری طور پر اذیت دی گئی تو بینک منیجرکو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔