خوبصورت سیاحتی مقام مرڈیشورمیں عوام کا ہجوم مگر سہولیات نہ ہونے سے سیاح پریشان ؛ ضلعی انتظامیہ پر غفلت کا الزام

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 14th October 2016, 1:17 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:12/اکتوبر(ایس او نیوز) دنیا بھر میں سیاحت کے لئے مشہور مرڈیشورمیں اس وقت سیاحوں کا ہجوم جمع ہورہا ہے مگر سیاح یہاں پر سہولیات نہ دئے جانے اور ہوٹلوں میں ڈبل اور ٹریبل کرایہ وصول کرنے کی شکایتیں کررہے ہیں۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ یہاں بنیادی سہولیات نہیں کے برابر ہیں، جبکہ سیاحتی مقام میں ترقی کی امید بھی ماند پڑتی جارہی ہے۔

ملک وبیرون ملک کے سیاح اپنی چھٹیوں کا لطف لینے کے لئے مرڈیشور آتے ہیں، جہاں تہاں بدنظمی سے کھڑی ہوئی سواریاں پارک کرکے سیاح ہجوم میں گم ہوجاتے ہیں۔ سمندر کنارے کچروں کا ڈھیر دیکھا جاسکتاہے۔ ماہی گیروں کی کشتیوں کے اطراف سیاحو ں کی سواریاں کھڑی ہونے سے ماہی گیروں کے لئے کافی پریشانی لاحق ہے، ماہی گیروں کے جال ، بوٹ وغیرہ شرارتیوں کے لئے ایک مذاق بن گیا ہے۔ باکڑا وغیرہ نکال باہر کرنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی طرف سے خاص بندوبست نہیں ہونے کی وجہ سے باکڑا دوکان مالکان پیٹ کے لئے دوبارہ سمندر کنارے کا رخ کررہے ہیں، قریب 20-25لوگ نئے دوکان شروع کرتے ہوئے بیوپار شروع کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سمندر کنارے کو پاک صاف کرنے کے لئے جلد بازی میں کارروائی تو کی گئی لیکن کام آگے نہیں بڑھا ، بس آبی کھیلوں کے لئے ٹینڈر بلانے تک ہی محدود ہوگیا ہے ۔ بنیادی سہولیات کی طرف افسران بھی کوئی خاص توجہ دینا چاہتے ۔ سابق وزیر سیاحت آر وی دیش پانڈے نے بنیادی سہولیات کے لئے منظورکئے کروڑوں روپئے کہاں گئے ؟ باکڑا دوکانوں کی تعمیر کا معاملہ کیا ہوا؟ ۔ اس معاملےمیں جب رکن اسمبلی سے پوچھا گیا تو جوب ملا کہ ضلعی انتظامیہ ہمیں پوچھے بغیر ہی آبی کھیلوں کے لئے ٹینڈر بلائی ہے، اور جو رقم منظور ہوئی ہے وہ کچرانکاسی ، سڑک درستی کےلئے استعمال کئے جانے کی بات کہی اور بتایا کہ مجھ سے جو کچھ ممکن ہے وہ میں کررہاہوں اور کرونگا، سڑک درستی جاری رہنے کی بات کہی۔ دوسری طرف دباؤ شکار ہوئے ماہی گیر اپنے لنگر کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سیاحو ں کے قیام کے لئے کوئی مناسب رہائشی جگہ نہیں ملنے کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ اور کچھ لوگ کمانےکی لالچ میں اپنے گھروں کو ہی لاڈج میں منتقل کردئیے ہیں۔ سیاح کے لئے کوئی مناسب سہولیات نہیں ہونےکی وجہ سے سیاح ادھر ادھر مارے مارے پھرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تھوڑی سی خالی جگہ دیکھی تو وہیں ضروریات سے فارغ ہوگئے ۔ گڑھوں والی سڑک پر گزرنے والی سواریاں ماحول میں گدلا پن پیدا کرنا عام بات ہوگئی ہے۔ پولس بھی کوئی مناسب انتظام نہیں کرپانے کے الزامات بھی سنے جارہے ہیں۔ مرڈیشور میں مندر کو مرکز مان کر ہی ترقیات کے کام ہورہے ہیں، موجودہ صورت حال مندر کا ماحول اور سمندر کنارے کی سرگرمیاں ، دیگر معاملات کو کوئی تعلق ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ عوام اور سیاحوں کے سمجھ سے باہر ہے اور کوئی تجویز سوجھ نہیں رہی ہے کہ بدلتے  مرڈیشور کے متعلق کس سے پوچھیں ؟۔

مرڈیشور کی ترقی کے متعلق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے کہا کہ مرڈیشور سڑک ترقی کے لئے 4کروڑ روپئے کی لاگت سے کام جاری ہے۔ سڑک ، اندروانی نالیاں، روڈ لائٹ وغیرہ کے لئے 10کروڑ روپئے کی پیش کش کی گئی ہے، اور اعتماد بھی ہے کہ حکومت منظور کرے گی ، مرڈیشور میں ون وے کے لئے کوششیں جاری ہیں، آئندہ دنوں میں سڑک دباؤ کم ہونےکے امکانات ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

پتور: سڑک حادثے میں ولیج اکاؤنٹنٹ ہلاک

پتور کے پونجا گاؤں میں ولیج اکاؤنٹنٹ کے فرائض انجام دینے والاسدیش رائے بالنجا(32سال) اس وقت ہلاک ہوگیا جب وہ اپنی موٹر بائک پر کہیں جارہاتھا تو ایک کار نے اسے ٹکر ماردی۔

ساحلی علاقے میں موسلادھار بارش۔ آسمانی بجلیوں کے نقصانات

ساحلی علاقے میں اور خاص کر جنوبی کینرا ضلع میں اتوار کی شام سے رات دیر گئے تک زبردست بارش ہوئی ہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ بجلیوں کے کڑکنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بعض مقامات پر بجلی گرنے سے گھروں کونقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بھٹکل میں زائد منافع کالالچ دے کر 100کروڑ سے زائد رقم کی دھوکہ دہی کا الزام : کمپنی مالکان کے گھروں کا گھیراؤ اور احتجاج

شہر کے آزاد نگر میں واقع فلالیس نامی کمپنی کے مالکان  پر سو کروڑ سے زائد رقم لے کر فرار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سینکڑوں لوگوں نے آج اُن  کے مکانوں  کا گھیراو کیا اور اپنی رقم واپس دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔  احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ   فلالیس نامی جعلی کمپنی ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...