گوری لنکیش کے قتل میں قانون کی ناکامی کا کتنا ہاتھ؟ وارتا بھارتی کا اداریہ ............ (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ )

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th September 2017, 10:08 PM | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس | مہمان اداریہ |

گوری لنکیش کے قاتل بہادر تو ہوہی نہیں سکتے۔ساتھ ہی وہ طاقتور اورشعوررکھنے والے بھی ہیں۔ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک تنہا اور غیر مسلح عورت پر سات راؤنڈگولیاں چلانے والے کس حد تک بزدل اورکس قسم کے کمینے ہونگے۔مہاتما گاندھی کو بھی اسی طرح قتل کردیا گیا تھا۔وہ ایک نصف لباس اور لوٹے والے فقیر تھے۔ صرف زبان پر رام نام کے علاوہ ان کے پا س کوئی بھی ہتھیار نہیں تھا۔سخت ضعیفی الگ تھی۔ایسی شخصیت کا مقابلہ فکر اور سوچ کی سطح پر کرنے کی طاقت نہ رکھنے اور انہیں گولی مارکر ہلاک کرنے والے گوڈسے کی نسل کے لوگ پورے ملک میں اسی بزدلانہ انداز میں پرتشدد سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دنیا کی کوئی بھی انتہا پسندتنظیم ہو،وہ ظالمانہ کارروائی انجام دینے کے بعداس کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا اعلان کرتی ہے۔لیکن بھارت میں پیدا ہونے والے انتہا پسند زہریلے سانپ ظلم ڈھانے میں اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔یہ دیش پریم ، کلچراور دھرم کا نقاب چہروں پر اوڑھے رکھتے ہیں۔انہوں نے ذلیل حرکتیں بہت ہی خفیہ انداز میں انجام دینے کے سوا اس کو قبول کرنے کی جرأت انہوں نے آج تک نہیں دکھائی ہے۔مکہ مسجد بم دھماکہ، مالیگاؤں بم دھماکہ،سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ خود انجام دے کر دوسروں کے سر منڈنے والے زہریلے سانپوں کے بل میں دھواں چھوڑ کر باہر لانے کا کام (ہیمنت) کرکرے نے کیا تھا۔اس کے ساتھ اس پولیس ٹیم کوہی پراسرار طریقے پر ہی ختم کردینا ایک تاریخ بن گیا ہے۔اتنا ہی نہیں، پانسارے، دابولکر جیسے بزرگ ترقی پسند مفکرین کوقتل کرکے روپوش ہونے والا بھی یہی انتہا پسند ٹولہ ہے۔فکری طور پر تنقید کرنے والوں،بدعقیدگی اورغیر مہذب عمل کے خلاف بولنے والوں کو دیکھتے ہی تھر تھر کانپنے والے ان لوگوں نے چوری چھپے انہیں قتل کرکے بتادیا ہے کہ ان کی تہذیب کیا ہے۔
دو سال قبل انہی بزدلوں نے کلبرگی کو قتل کردیا تھا۔ دو سال گزرنے کے باوجودپولیس سے یا تحقیقاتی ایجنسی سے کلبرگی کے قتل کا راز تلاش کرناممکن نہیں ہوپایا ہے۔اگر پانسارے اور دابولکر کے قتل کی تحقیقات پوری سنجیدگی سے کی جاتی اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہوتاتو پھر کلبرگی کا قتل نہیں ہوتا۔اگر کلبرگی کے قتل کی تحقیقات میں پولیس کامیاب ہوجاتی تو پھر گوری لنکیش آج زندہ ہوتیں۔سابقہ قتل کے معاملات میں ملزموں کا قانون کے ہاتھ سے بچ جاناہی انہیں ترقی پسند فکر رکھنے والوں کے تازہ قتل کے لئے ہمت دلاتا ہے۔لہٰذا گوری لنکیش کے قتل کو ہم صرف گوڈسے کی اولاد کے سر ڈال کر خاموش نہیں رہ سکتے۔قانون کی کمزوری ہی ان بزدلوں کو "جوانمردوں اور بہادروں"کے روپ میں ڈھالتی ہے۔قانون جب اپنی ذمہ داری بھول جاتا ہے تو پھر ایسی سماج دشمن طاقتیں ابھر کر آجاتی ہیں۔

گوری کے قتل میں بھی یہی ہوا ہے۔کچھ عرصے قبل ہی ریاست بھر میں کلبرگی کے قاتلوں کو تلاش کرنے کے لئے دباؤ بنانے کی مہم چلی تھی۔اس میں گوری لنکیش بہت ہی آگے آگے تھیں۔عجیب اتفاق ہے کہ کلبرگی کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے اصرار کرنے والی گوری لنکیش خود ہی قتل ہوگئیں۔قاتلوں نے اس طرح پورے سسٹم کے ساتھ مذاق کیا ہے اور اس پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔کم از کم اب تو اس سوال کو قبول کرتے ہوئے اس کا جواب دینے کی ذمہ داری ہمارے نظام قانون کی بن جاتی ہے۔
کلبرگی کا قتل ہونے پرکچھ لوگوں کی طرف سے اسے ذاتی معاملات کا نتیجہ قرار دینے اور تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش کو ہمیں یاد رکھنا ہوگا۔اب وہی کوشش گوری لنکیش کے معاملے میں بھی کی جارہی ہے۔لیکن ہمیں ایک بات یاد رکھنی ہوگی۔آج گوری کے قتل پر کون لوگ خوشی منارہے ہیں؟ آنند مورتی فوت ہونے پر پٹاخے چھوڑنے والے،کلبرگی کے قتل پر خوشی کا اظہار کرنے والے ہی اب گوری لنکیش کے قتل پر کھلکھلارہے ہیں۔سوشیل میڈیا پر غیر مہذب اورمنفی پیغامات پوسٹ کرکے  خوش ہورہے ہیں۔ گوری کو قتل کرنے کی ضرورت کس کو تھی، یہ بات ان تحریروں سے ہی ہم جان سکتے ہیں۔کلبرگی کا جب قتل ہواتھا تو ساحلی علاقے میں سنگھ پریوار کے ایک نوجوان نے نہ صرف جشن منایا تھابلکہ "ابھی بہت سے ترقی پسندوں کے قتل ہونے باقی ہیں "جیسی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔حالانکہ اسے گرفتار تو کیا گیا تھا مگر 24گھنٹے کے اندر اس کوضمانت پر رہا بھی کردیاگیا تھا۔لیکن اس رہائی کاآئندہ کتنا برا انجام ہونا تھا اس کامشاہدہ بھی ہم نے کرلیا۔اسی ملزم نے فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کے لئے ایک معصوم نوجوان کو چاقو مارکر ہلاک کرڈالا۔اس نے مسلم سمجھ کر ہریش پجاری نامی نوجوان کو قتل کرڈالاتھا۔اگر اسے سابقہ معاملے میں کچھ عرصہ جیل میں سڑنے دیاجاتاتو کیا وہ اس طرح کی کارروائی انجام دے سکتا تھا؟قانونی کی کمزوری نے اسے اور زیادہ سنگین جرم انجام دینے کی ہمت دلائی تھی۔

اب گوری کے قتل پر بھی سوشیل میڈیا پر کچھ زعفرانی انتہاپسندبے ہودہ قسم کے پیغامات پوسٹ کررہے ہیں۔جس سے ان کے قاتلانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ اس قتل سے انہی لوگوں کا تعلق بھی ہو۔اس لئے گوری کے قتل کے سلسلے میں اس طرح کے منفی پیغامات دینے والے ہر ایک ایک کی نشاندہی کرتے ہوئے پولیس کو خود ہی اپنے طور پر ان کے خلاف کیس درج کرکے انہیں جیل بھجوانا ضروری ہے۔بالفرض اگر ان کی طرف سے آنکھیں موند لی گئیں،توآج قتل کی حمایت کرنے والے کل خود ہی قاتلوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔اس لئے پولیس کوسب سے پہلے سوشیل میڈیا پر الگ الگ روپ میں دکھائی دینے والے قاتلانہ سوچ اور جذبات رکھنے والوں پر نشانہ سادھنا ہوگا۔اس کے ساتھ ہی گوری قتل کی تحقیقات اسی طرز پر نہیں ہونی چاہیے جیسے کہ کلبرگی قتل تحقیقات میں ہوا۔گوری کا قتل بنگلورو میں ہوا ہے۔پورے شہر میں سی سی ٹی وی ہونے کی وجہ سے اس کے ذریعے سراغ حاصل کرنا آسان ہے۔ریاست میں ترقی پسند وزیر اعلیٰ کے طور پر پہچانے جانے والے سدارامیا کی قیادت والی سرکار ہے۔اور اگر یہی حکومت قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو پھر دوسری حکومتوں سے انصاف ملنے کی توقع کرنا مشکل بات ہے۔ 

ایک بات تو طے ہے کہ قاتلوں کا مقصد ایک فرد کو قتل کرنا نہیں ہے۔بلکہ سوچ اور فکر کو قتل کرنا ہے۔ اس ملک میں ترقی کے حق میں، غریبوں کے حق میں بات کرنے، سائنسی انداز میں سوچنے،تجزیہ کرنے، ملک میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرست، فرقہ پرست،انتہاپسندوں کے خلاف آواز اٹھانے والے دل ودماغ رکھنے والوں کو قتل کرکے ملک کو صدیوں پیچھے کی طرف لے جانے کی یہ کوششیں ہیں۔اس وجہ سے قاتلوں کا پتہ لگاکر انہیں سزادلانے اورمستقبل کے بھارت کو بچانے کی ذمہ داری سدارامیا کی قیادت والی حکومت پر ہے۔

(بشکریہ؛  وارتھا بھارتی ، مورخہ  7/ ستمبر 2017،  اُردو ترجمہ:  ڈاکٹر محمد حنیف شباب  ۔۔۔ ساحل آن لائن)

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورومیٹرو برڈج میں خرابی کا نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے معائنہ کیا

شہر کے ایم جی روڈ پر ٹرینٹی سرکل کے قریب ایم جی روڈ بیپنا ہلی میٹرو روٹ کے پلر نمبر 155کے قریب ایک بیم میں دراڑ کا آج نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے معائنہ کیا اور کہاکہ اس سلسلے میں مرمت کا کام جاری ہے۔

زہریلے کھانے کا معاملہ، اعلیٰ سطحی جانچ کرانے سدارمیاکا مطالبہ

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور مخلوط حکومت کے کورابطہ کمیٹی کے صدر سدارمیا نے سُلوادی گاؤں کے مرمَّا مندر میں زہریلا کھانہ کھانے سے 11 عقیدتمندوں کی موت اور 80 افراد کے بیمار ہونے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔

بھٹکل میں آدھا تعلیمی سال گزرنے پر بھی ہائی اسکولوں کے طلبا میں نہیں ہوئی شو ز کی تقسیم  : رقم کا کیا ہوا ؟

آخر اس  نظام ،انتظام کو کیا کہیں ،سمجھ سے باہر ہے! تعلیمی سال 2018-2019نصف گزر کر دو تین مہینے میں سالانہ امتحان ہونے ہیں۔ اب تک بھٹکل کے سرکاری ہائی اسکولوں کو سرکاری شو بھاگیہ میسر نہیں ، نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ  سننے والا۔شاید یہی وجہ ہے کہ محکمہ تعلیم شو، ساکس کی تقسیم کا ...

سوشیل میڈیا اور ہماراسماج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (از: سید سالک برماور ندوی)

اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی انقلاب نے دنیا کو گلوبل ویلیج بنادیا ہے۔ جدید دنیا کی حیرت انگیزترقیات کا کرشمہ ہے کہ مہینوں کا فاصلہ میلوں میں اورمیلوں کا،منٹوں میں جبکہ منٹ کامعاملہ اب سیکنڈ میں طےپاتا ہے۔

جیل میں بندہیرا گروپ کی ڈائریکٹر نوہیرانے فوٹو شاپ جعلسازی سے عوام کو دیا دھوکہ۔ گلف نیوز کا انکشاف

دبئی سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت انگریزی اخبار گلف نیوز نے ہیرا گولڈ کی ڈائرکٹر نوہیرا شیخ کی جعلسازی کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ    کس طرح اس نے فوٹو شاپ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے بڑے ایوارڈ حاصل کرنے اور مشہور ومعروف شخصیات کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ...

کہ اکبر نام لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔!ایم ودود ساجد

میری ایم جے اکبر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔میں جس وقت ویوز ٹائمز کا چیف ایڈیٹر تھا تو ان کے روزنامہ Asian Age کا دفتر جنوبی دہلی میں‘ہمارے دفتر کے قریب تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ 2003/04 میں شاہی مہمان کے طورپرحج بیت اللہ سے واپس آئے تو انہوں نے مکہ کانفرنس کے تعلق سے ایک طویل مضمون تحریر ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...

حکومت کی ممبئی فراموشی کا نتیجہ 

ممبئی میں الفنسٹن روڈ اور پریل ریلوے اسٹیشنوں کو جوڑنے والے پل کی تنگی ، موسلادھار بارش ، شدید بھیڑ بھاڑ کا وقت، کئی ٹرینوں کے مسافروں کا دیر سے اسٹیشن اور پُل پر موجود ہونا،

گوری لنکیش کا نہیں ،جمہوریت کا قتل .. ۔۔۔ . روزنامہ سالار کا اداریہ

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی نفرت ، عدم رواداری اور عدم برداشت کی مسموم فضاؤں نے گزشتہ 3سال کے دوران کئی ادیبوں ، قلم کاروں اور سماجی کارکنوں کی جانیں لی ہیں اور اس پر مرکزی حکومت کی خاموشی نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔

اگست ،ستمبرمیں فلو کے خطرات اور ہماری ذمہ داریاں از:حکیم نازش احتشام اعظمی

لگ بھگ سات برسوں سے قومی دارلحکومت دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں ، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اورملک کے لگ بھگ سبھی صوبوں کو ڈینگو،چکن گنیا،اوراس کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر مہلک ترین فلوٗ نے سراسیمہ کررکھا ہے۔