محمداظہرالدین نے ٹی آرایس پربی جے پی سے ملی بھگت کاالزام لگایا

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 3rd December 2018, 2:14 AM | ملکی خبریں |

حیدرآباد: 2/دسمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و کانگریس کے سینئر لیڈر محمد اظہر الدین نے کہا ہے کہ تلنگانہ کی حکمران جماعت ٹی آرایس کو ووٹ دینا بی جے پی کے ووٹ دینے کے مترادف ہے کیونکہ ٹی آرایس نے جی ایس ٹی ، صدارتی، نائب صدر کے انتخابات میں بی جے پی کاساتھ دیاتھا۔اظہر الدین نے تلنگانہ میں عظیم اتحاد کی حلیف جماعت تلگودیشم کے امیدوار ناما ناگیشور راو کے ساتھ آج کھمم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹی آرایس نے اقلیتوں کو نظر اندا ز کردیا۔انہوں نے کہا کہ ٹی آرایس حکومت نے 12فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوسکا۔ یہ ٹی آرایس کا جھوٹا وعدہ ثابت ہوا اور جب وزیراعلیٰ سے اس تعلق سے پوچھا گیا تو ان سے سوال پوچھنے والے کو نامناسب جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ وہ اس سوال کرنے والے کے باپ کو بتائیں گے۔ وزیراعلی کے عہدہ پر رہنے والے شخص کو اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ عوام نے ان کو یہ عہدہ دیا ہے اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں۔کانگریسی لیڈر نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کی لاپرواہی کے سبب26 اقلیتی کالجس بند ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت ان کو فنڈس نہیں دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اقلیتی فنڈس واپس کردیا گیااور اس کا مناسب استعمال نہیں کیاگیا۔اردو اکیڈیمی کیلئے بھی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔وقف بورڈ کے دفتر کو کچھ عرصہ پہلے مقفل کردیاگیا تھا۔اظہرالدین نے اپیل کی کہ تلنگانہ کی اقلیتیں ریاست کی ترقی کیلئے متحد ہوکر عظیم اتحاد کے حق میں ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں اور ہر طبقہ کیلئے کام کریں گے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے وعدہ کے مطابق عوام کو ڈبل بیڈروم کے مکانات نہیں دیئے۔حکومت کو پانچ سال کیلئے رائے عامہ دیاگیا تھا لیکن 9ماہ پہلے ہی انتخابات کر وائے جارہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت وعدوں کو پورا نہیں کرپائی۔پروجیکٹس کو ری ڈیزائن کرتے ہوئے ان کے تخمینی مصارف میں اضافہ کردیاگیا۔یہ پروجیکٹس کانگریس کے ہی ہیں۔ شادی مبار ک اسکیم کی کئی فائلس زیرالتوا ہیں۔تین ایکڑ اراضی غریبوں کو دینے کا بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ٹی آرایس نے عوام سے جھوٹے وعدے کئے۔انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں ترقی نہیں ہوئی۔ہر خاندان کے ایک فرد کو ملازمت دینے کاوعدہ بھی پورا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں عظیم اتحاد کے قیام کے سلسلہ میں ناما ناگیشور راو کا بہت بڑا رو ل رہا۔

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔