ہندوستانی مسلمان قدیم روایتوں کو توڑ کر ایک نئی تاریخ رقم کریں میسور سٹی کارپوریشن کے انتخابی جلسہ سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا جذباتی خطاب

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 26th August 2018, 12:46 PM | ریاستی خبریں |

میسورو،26؍اگست (ایس او نیوز)میسورو کے بنی منٹپ میں واقع مسجد ٹیپوؒ ؒ کے قریب مورخہ 31اگست بروز جمعہ منعقدہونے والے میسور سٹی کارپوریشن کے انتخابات کے لئے وارڈ نمبر 8میں پارٹی کے امیدوار رفعت اللہ خان کے حق میں منعقدہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا انجمن مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ قربانی دین کا ایک اہم ستون ہے۔ہمیں سکھایا گیا ہے کہ دین کی راہ پر چلو اور صراط مستقیم کو اپنا ؤ۔ آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح دولت کی قربانی دے کر کورگ ضلع کے سیلاب کے متاثرین کی مدد کررہے ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مذہب اسلام کا آغاز قربانی سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے کہ میں بھڑکاؤ تقریر کرتا ہوں ۔ لیکن مجھے ان الزامات کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ مجھے سکھایا گیا ہے کہ جس کو اقتدار ملتا ہے اس پر بہت بڑا بوجھ رہتا ہے اور آخرت میں اللہ بھی اس سے پوچھے گا کہ اس اقتدار کو استعمال کس طرح کیا۔ مجھے منتری یا سنتری بننے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔ ہندوستان کے آئین نے ہمیں جو حقوق دےئے ہیں ہمیں ان کا استعمال کرتے ہوئے رہنے حقوق کے لئے لڑنا ہے۔ اور یہی میرا نصب العین ہے ۔ میں امن میں خلل ڈالنے کے لئے نہیں آیا ہوں۔جب حقدار کو اس کا حق ملے گاتو سارے دیش میں امن مضبوط ہوگا۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ سارے دیش میں نریندر مودی اور راہل گاندھی ہی دو انمول رتن ہیں اور میں ہی واحد گندہ آدمی ہوں ۔ ہماری لڑائی جمہوریت کے دائرہ میں رہ کر لڑنا ہے اور ہم نے ہمارے حقوق حاصل کرنے کے لئے کبھی بھی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا بلکہ امن کے ساتھ اپنی لڑائی کو جاری رکھا ہے۔ گزشتہ70برسوں سے ہندوستانی مسلمان کانگریس کا ساتھ دیتے آرہے ہیں کبھی نہرو کو ووٹ ڈالا۔ کبھی اندرا گاندھی کو اور بعد میں راجیو گاندھی اور اب راہل گاندھی کو ووٹ ڈالنے کی بات کی جارہی ہے۔ اس لئے ہندوستانی مسلمانوں کو قدیم روایت کو توڑ کر ایک نئی تاریخ رقم کرنا ہے ۔

اس موقع پر حضرت ٹیپوسلطان شہید ؒ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کا قول ہے کہ گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہترہے ۔ میں بھی اس قول پر عمل کرتا ہوں کسی کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا ۔ بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق اور انصاف کے لئے لڑتا ہوں۔ دلتوں کے ریزرویشن کے تعلق سے سپریم کورٹ کی جانب سے مورخہ 20 مارچ 2018کو دئے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات اور درج فہرست طبقے کے اتحاد کی وجہ سے مرکزی حکومت کو اپنا فیصلہ لینا پڑا لیکن ہم مسلمان چونکہ چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو لیکر تقسیم ہوگئے ہیں۔مرکزی حکومت نے طلاق کے معاملے میں ایک بل پیش کرکے بڑی ہی آسانی کیساتھ منظور کرالیا لیکن گزشتہ جس قومی پارٹی کا ساتھ مسلمانوں نے دیا تھا اس نے کچھ نہیں کہا اور نہ ہی اس بل کی مخالفت کی۔

آج سے 70سال پہلے ہی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈ کر نے کہا تھا کہ ہیرو ورشپ جمہوریت کے لئے خطرہ ہے اور آج وہی ہو رہا ۔ امبیڈ کر نے ہمیشہ سے مساوات کی وکالت کی تھی۔ہندوستانی مسلمان اس دیش میں بھیک مانگنانہیں چاہتے کیونکہ بھیک کے بدلے میں صرف ایک افطار پارٹی ہی نصیب ہوئی ہے۔ ہم مسلمان صرف اللہ کی غلامی کریں گے کسی سیاسی پارٹی کی غلامی ہمیں قطعی پسند نہیں ہے۔ آخر میں اویسی نے کہا کہ ہم حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کے جانشین ہیں ، سلطان شہید نے اپنی جان گنوا کر اس دیشن کو آزادی دلائی ہے اور یہ وطن ہمارا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے 72سال کے بعدبھی ہندوستانی مسلمانوں کی وفاداری کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور مسلم نوجوانوں کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے اور ان کی زندگیوں کو تباہ کردیا جاتا ہے۔ میں جب بھی یکساں حقوق کی بات کرتا ہوں تو مجھ پر فرقہ پرستی کا الزام لگایا جاتا ہے۔اس موقع پر میسور کے وارڈ نمبر 8کے آل انڈیا انجمن اتحاد المسلمین کے امیدوار رفعت اللہ خان، آل انڈیا انجمن اتحاد المسلمین کے میسور ضلع کے صدر نبیل محمد خان نے بھی خطاب کیا۔ نور محمد مرچنٹ نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ غفار سیٹھ بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

جمہوریت اوردستورکے تحفظ کے لیے ووٹر فہرست میں ناموں کا اندراج لازمی سی آر ڈی ڈی پی کی ملک گیر جدوجہد

مسلمانوں کے لیے ایوان میں کم ہورہی مسلم نمائندگی سے زیادہ تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ملک بھر میں ووٹرس فہرست سے کروڑوں مسلمانوں کے نام غائب ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 25 فیصد سے زائد اہل ووٹروں کے نام فہرست سے غائب ہیں۔ اس اہم مسئلے پر ماہر معاشیات و سچر کمیٹی کے ممبر ...