اُترکنڑا میں زائد پرائمری ٹیچروں کا تبادلہ؛ اردو اسکولوں کے ساتھ ناانصافی۔نارتھ کینرا مسلم یونائیٹد فورم کو تشویش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th October 2018, 2:22 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کمٹہ 17؍اکتوبر (ایس او نیوز) محکمہ تعلیمات کی طرف سے پرائمری اسکولوں میں جہاں طلبہ کی تعداد مقررہ معیارسے کم ہے وہاں سے زائد ٹیچروں کا تبادلہ کرنے کی جو پالیسی اپنائی جارہی ہے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نارتھ کینرا مسلم یونائٹیڈ فورم کے جنرل سکریٹری جناب محسن قاضی نے کہا ہے کہ  اس سے اردو اسکولوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہورہی ہے۔

محکمہ تعلیمات کی پالیسی کے مطابق جس اسکول میں پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک 31سے کم طلبہ موجود ہیں وہاں پر دیگر زبانوں کے اسکولوں میں دو اساتذہ تعینات رہیں گے ، جبکہ اردو اسکولوں میں صرف ایک استاذ رہے گا۔ یعنی اردو اسکول میں صرف ایک ٹیچر کو اردو کے علاوہ سائنس، حساب، سماجی تعلیم ، ماحولیاتی سائنس وغیرہ سب کچھ اکیلے ہی پڑھانا ہوگا۔ یہ نہ صرف ایک مشکل کام ہے بلکہ ایک ناممکن سی بات ہے۔ اس سے لسانی اقلیت والے اسکولوں کے ساتھ بڑی ناانصافی ہورہی ہے۔ اقلیتی اسکولوں میں کنڑا ٹیچر جو ہوتے ہیں وہ صرف تین پیریڈ لیا کرتے ہیں۔ پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک ایک اردو ٹیچرکے لئے تمام مضامین پڑھانا ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اول تا سوم اگر ایک اردو ٹیچر بچوں کو پڑھاتا ہے تو چہارم اور پنجم جماعت کے لئے دوسرے اردو ٹیچر کا تقرر بہت ضروری ہے۔ ورنہ بچوں کی تعلیمی زندگی پر اس کا الٹا اثر ہوگا۔ 

محسن قاضی صاحب نے اپنے تحریری بیان میں سرکار سے درخواست کی ہے کہ صرف بچوں کی تعداد کو ہی بنیاد بناکرتبادلے کی جو پالیسی اپنائی گئی ہے اس سے ہٹ کر محکمہ تعلیمات کو چاہیے کہ وہ حقیقی صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے ہر اردو اسکول میں کم از کم دو اساتذہ کے تقرر کو یقینی بنائے۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

بھٹکل میں بی کے ہری پرساد کا بی جے پی اور مودی پر راست حملہ، کہا؛ پسماندہ طبقات کومزید کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی ہے

بی جے پی بھلے ہی اپنے آپ کو اقلیت مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرتی ہو، مگر  دیکھا جائے تو یہ پارٹی حقیقتاً پسماندہ طبقات، دلت اور ادیواسیوں کو  مزید  کمزور کرنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے اور صرف ایک طبقہ کو برسراقتدار پر لانے میں کوشاں ہے۔ یہ بات  آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی ...

اگر آپ عزت دار ماہی گیر ہیں تو آننت کمار ہیگڈے کو ہرگز ووٹ نہ دیں؛ بھٹکل میں ماہی گیروں سے پرمود مدھوراج کی اپیل

اگر آپ عزت دار ماہی گیر ہیں تو  آپ کو چاہئے کہ  ماہی گیروں کی پرواہ نہ کرنے والے بی جے پی اُمیدوار آننت کمار ہیگڈے  کو ہرگز ووٹ  نہ دیں۔ ملپے سے نکلی سات ماہی گیروں پر مشتمل بوٹ لاپتہ ہوکر  پانچ ماہ ہوچکے ہیں مگر مرکزی وزیر آننت کمار ہیگڈے کو ماہی گیروں کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ ...

منگلورو میں ایک عجیب سانحہ۔بوتھ کے آخری ووٹر نے ووٹ دینے کے بعد لی آخری سانس

پاجیرو گاؤں کے پانیلا میں ایک شخص نے پولنگ بوتھ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد گھر لوٹتے ہی دم توڑ دیا۔پانیلا کے رہنے والے والٹر ڈیسوزا(۴۰سال) گردے کی بیماری میں مبتلا تھاجس کے لئے وہ بہت عرصے سے زیرعلاج تھا۔

لوک سبھا انتخابات: اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر نے کمٹہ اوربھٹکل میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کا لیا جائزہ

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے ضلع شمالی کینرا کے حلقے میں واقع کمٹہ اور بھٹکل شہروں میں پارلیمانی الیکشن کے لئے انتظامیہ کی طرف سے کی گئی حتمی تیاریوں کا معائنہ کیا۔

دو مراحل میں ایس پی۔بی ایس پی اور کانگریس ’ صفر‘: یوگی

اتر پردیش کے وزیر یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے ووٹنگ کے اختتام پذیر ہو چکے دو مراحل میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس ’ صفر‘ رہی ہیں۔ یوگی نے سنبھل میں ایک جلسہ عام میں کہا کہ ووٹنگ کے دو مرحلے ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ انہوں نے ...

لوک سبھا انتخابات: کیا اُترکنڑا میں انکم ٹیکس کے مزید چھاپے پڑنے والے ہیں؟

پارلیمانی الیکشن کے پس منظر میں محکمہ انکم ٹیکس اور انتخابی نگراں اسکواڈ کی طرف سے مختلف ٹھکانوں پر جو چھاپے مارے جارہے ہیں، اس تعلق سے خبر ملی ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں مزیدکئی سیاسی لیڈروں اورتاجروں کے ٹھکانوں پر چھاپے پڑنے والے ہیں۔