آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت چاہتے ہیں کہ رام مندر انتخابی ایشوبنے، وی ایچ پی نے کہا، وہ انتخابات تک منہ بند رکھیں گے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th February 2019, 8:35 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 6 فروری (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز)  ایودھیا میں بابری مسجدرام جنم بھومی تنازعہ 1950 سے عدالت میں چل رہا ہے۔ان دنوں رام مندر کی تعمیر کو لے کر ملک میں مختلف تنظیمیں اور فورم کئی طرح کی آوازیں اٹھا رہے ہیں۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی خواہش ہے کہ 2019کے لوک سبھا انتخابات میں رام مندر ایک بڑا مسئلہ بنے تو وہیں وی ایچ پی کے سر بدل گئے ہیں۔

رام مندر انتخابی ایشو نہ بنے اس کے لئے انہوں نے 4 ماہ تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے  کا فیصلہ کیا ہے۔وہیں سپریم کورٹ اس معاملے میں کوئی جلدی میں نہیں ہے، لیکن مودی حکومت نے بھی اپنا نظریہ صاف کر دیا۔اس طرح رام مندر پر جتنے منہ اتنی باتیں کی جا رہی ہیں۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس)کے سربراہ موہن بھاگوت 4دن کے دورے پر منگل کو اتراکھنڈ کے دہرادون پہنچے۔اس دوران انہوں نے کہا کہ 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے رام مندر کافی اہم مسئلہ ہے، 2014میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کے پاس رام مندر مسئلہ نہیں بھی ہوتا، تو بھی بی جے پی کی سرکار بنتی، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حق میں لہر تھی، لوگ رام مندر کی پرواہ نہیں کر رہے تھے،انہیں اس وقت متبادل کی تلاش تھی، لیکن اب رام مندر کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ایسے میں 2019کے لوک سبھا انتخابات میں رام مندر اہم مسئلہ رہے گا۔

اُدھر دوسری طرف  وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی)نے رام مندر پر آر ایس ایس سے الٹ فیصلہ لیا ہے۔وی ایچ پی نے رام مندر کی تعمیر مہم کو چار ماہ تک کے لئے روک دیا ہے۔وی ایچ پی کے بین الاقوامی متحدہ سکریٹری  جنرل سریندر جین نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات 2019کے مکمل ہونے تک تنظیم رام مندر مسئلے پر کسی طرح کا کوئی مہم نہیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتی ہے کہ رام مندر معاملہ انتخابی ایشو بنے۔انہوں نے کہا کہ اکثر ہمارے اوپر الزام لگتے ہیں کسی خاص پارٹی کو سیاسی فائدہ کے لئے رام مندر کی تعمیر کی مہم چلا رہے ہیں۔ایسے میں ہم اسے کسی سیاسی پارٹی میں مسئلہ نہیں پھنسانا چاہتے ہیں،یہ ایک مقدس مسئلہ ہے اسے ہم سیاست سے پرے رکھنا چاہتے ہیں۔رام مندر کی تعمیر کے لئے مودی حکومت نے بھی اپنا نظریہ سامنے رکھ دیا ہے،حکومت رام مندر کے لئے آرڈیننس لانے کی سمت میں کوئی قدم نہیں بڑھانا چاہتی ہے،اس کے بدلے حکومت نے ایودھیا تنازعہ معاملے میں متنازعہ زمین چھوڑ کر باقی زمین کو واپس اور اس پر جاری جمود ہٹانے کا مطالبہ کر کے بڑا قدم اٹھایا ہے۔حکومت نے جس 67ایکڑ زمین کو واپس لوٹانے کی بات کہی اس میں 2.67ایکڑ متنازع زمین کے ارد گرد واقع ہے۔

1993میں مرکزی حکومت نے ایودھیا حصول ایکٹ کے تحت متنازع مقام اور ارد گرد کی زمین حاصل کر لیا تھا۔رام مندر معاملے پر کانگریس شروع سے ایک بات کرتی رہی ہے کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اسے مانے گی۔کانگریس پارٹی کے کئی لیڈر کہہ چکے ہیں کہ کانگریس شروع سے کہتی آرہی ہے کہ متنازع مقام کا عدالت  کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہئے۔رندیپ سنگھ سرجیوالا نے حال ہی میں کہا کہ پارٹی کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ ایودھیا کا معاملہ سپریم کورٹ ہی طے کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورٹ نے راجیو سکسینہ کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے والے عدالت کے فیصلے پر روک لگائی

سپریم کورٹ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے میں سرکاری گواہ راجیو سکسینہ کو دیگر بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر بدھ کو روک لگا دی