وڈالا ٹارچر معاملے میں ہائیکورٹ نے پولس ٹریبونل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا دو رکنی بینچ نے کمسن کے ساتھ ہونے والے تشدد کی تصدیق کی، جمعیۃ علماء پولس ٹریبونل سے رجوع ہوگی: گلزار اعظمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th September 2018, 1:25 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ممبئی،29؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز)ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں ایک با شرع نابالغ لڑکے محمد واجد خان کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسا کر اس کوپولس تحویل میں شدید زدوکوب کرنے کے علاوہ اس کے ساتھ بد فعلی کرنے والے معاملے میں پولس کے خلاف دائر کی گئی عرضداشت کی سماعت کے اس کمسن کے ساتھ ہونے والے تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے عرض گذار کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ پولس ٹریبونل میں مقدمہ دائر کرے جہاں اس طرح کے معاملات کی سماعت کی جاتی ہے ۔ 

ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس بھارتی ڈانگرے نے آج جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی عرضداشت پر کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ اور دیگر رپورٹوں کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہیکہ عرض گذار کے ساتھ تشدد کیا گیا تھا لہذا اس معاملے کی سماعت پولس ٹریبونل میں کی جانی چاہئے (پولس ٹریبونل میں پولس اہلکاروں کیخلاف داخل شکایتوں کا ازالہ کیا جاتا ہے)

واضح رہے کہ پولس اہلکاروں کی غیر انسانی حرکت کے خلاف جمعیۃ علماء کی جانب سے ایک عرضداشت داخل کی گئی تھی جس کی پیروی کرتے ہوئے گذشتہ سماعت پر ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ممبئی کے انٹاپ ہل نامی مقام پر چند پولس والے ایک نوجوان کو زدوکوب کر رہے تھے اس وقت عرض گذار بھی وہاں سے گذر رہا تھا نیز اس نے جب پولس والوں کو نوجوان کو مارتے دیکھا تو وہ بھی ایک کونے میں کھڑے ہوکر دیگر لوگوں کی طرح بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا ۔

ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتلایاتھا کہ پولس اسٹیشن لے جاکر نابالغ عرض گذار کے ساتھ پولس نے جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہ ناقابل بیان ہیں یہاں تک کے اس باشرع نوجوان کو برہنہ کر کے اس کے جیب میں موجودمسواک کا غلط جگہ پر استعمال کیا گیااور اس کے ساتھ مبینہ طور پر بد فعلی بھی کی گئی۔ 

عرضداشت میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ خاطی پولس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے خلاف بھی قانون کا غلط استعمال کرنے اور نابالغ لڑکے کے ساتھ بد فعلی کرنے نیزاسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر ان کے خلاف مقد مہ قائم کیا جائے ۔

آج کی سماعت مکمل ہونے کے بعدجمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ اب جبکہ دو رکنی بینچ نے تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے پولس ٹریبونل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا ہے، جمعیۃ علماء جلد ہی حصول انصاف کے لیئے پولس ٹریبونل سے رجوع ہوگی ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ایک جانب جہاں جمعیۃ علماء خاطی پولس افسران کے خلاف کارروائی کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی تھی اب پولس ٹریبونل سے بھی رجوع ہوگی نیز وہیں دوسری جانب پولس کی جانب سے واجد خان (نابالغ )کے خلاف بچوں کی عدالت (جونائل جسٹس بورڈ ) میں قائم مقدمہ میں اس کا دفاع کررہی ہے اور اس ضمن میں ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم کو ذمہ درائیاں سونپی گئی ہیں جو ہر تاریخ میں جنوبی ممبئی کے ڈونگری علاقے میں قائم بچوں کی عدالت میں ملزم کا دفاع کررہے ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

تلنگانہ میں 19فروری کو کابینہ کی توسیع

تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھر راؤ دوبارہ اقتدار میں آنے کے دو ماہ کے بعد اپنی کابینہ میں توسیع کرنے کی تیاری میں ہے اور ساری بحث اب اس بات پر ٹک گئی ہے کہ اس میں کن لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔

بھٹکل میں مجلس اصلاح وتنظیم کی جانب سے پلوامہ دہشت گردانہ حملہ کی کڑی مذمت: تحصیلدار کی معرفت وزیراعظم کو میمورنڈم ؛کڑی کارروائی کا مطالبہ

کشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کی کڑی مذمت کرتے ہوئے مجلس اصلاح وتنظیم بھٹکل نے تحصیلدار کی معرفت وزیر اعظم نریندر مودی کو اپیل سونپتے ہوئے دہشت گردی کا کرار ا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

بھٹکل: شرالی میں ہائی وے کی توسیع کے دوران ہنگامہ؛ پولس کی لی گئی مدد؛ عوامی مخالفت نظرانداز؛ 30میٹرکی ہی توسیع کے ساتھ کام شروع

شرالی میں قومی شاہراہ کی تعمیر 45میٹر کی توسیع کے ساتھ ہی کی جائے ، کسی حال میں بھی توسیع کو 30میٹر تک کم کرنے نہیں دیں گے۔  مقامی  عوام کی سخت مخالفت کے باوجود ضلع انتطامیہ بدھ کو 30 میٹر کی توسیع کے ساتھ شاہراہ تعمیری کام کی شروعات کی۔