مودی کے اے پی کے دورہ کے خلاف تیلگودیشم اور دیگر پارٹیوں کااحتجاج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th February 2019, 9:18 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد،10 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کادرجہ دینے سے انکار اور اے پی تنظیم نو قانون میں کئے گئے وعدوں کا احترام نہ کرنے کے باوجود وزیراعظم نریندرمودی کے اتوار کو دورہ اے پی کے خلاف حکمران جماعت تلگودیشم اور خصوصی درجہ کی حامی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے آج مختلف مقامات پر احتجاج، دھرنے اور مظاہرے کئے گئے۔

ریاست کے 13اضلاع میں یہ پروگرام منعقد کرتے ہوئے اے پی سے ہوئی شدید ناانصافی کا الزام لگایا گیا اور مودی کے دورہ کی مخالفت کی گئی۔وزیراعظم،بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کی جنوبی ہند کی اہم حلیف تلگودیشم کی اس محاذ سے علحدگی کے بعد پہلی مرتبہ ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔

قبل ازیں انہوں نے اے پی کے نئے دارالحکومت امراوتی کے سنگ بنیاد کے لئے اے پی کادورہ کیا تھا۔خصوصی درجہ کی حامی جماعتوں نے الزام لگایا کہ مودی نے ریاست کے عوا م کے ساتھ دغابازی کی ہے اور وعدہ کے باوجود ریاست کو خصوصی درجہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی ریاست سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا گیا۔حکمران جماعت تلگودیشم،کانگریس،بائیں بازو کی جماعتوں،دیگر سماجی تنظیموں اور طلبہ کی جانب سے آج بڑے پیمانہ پر بطور ناراضگی احتجاج کئے گئے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے وجئے واڑہ کے لینن سنٹر پر خالی گھڑوں اور سیاہ پرچموں کے ساتھ احتجاج کیا اور مودی کے دورہ کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔انہوں نے مودی واپس جاو کے نعرے بھی لگائے۔وجئے واڑہ کے بنز سرکل میں تلگودیشم کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔تلگو یووتا تنظیم کے صدر دیوی نینی اویناش کی زیرقیادت احتجاج کیاگیا۔احتجاجیوں نے سیاہ کپڑے پہن کر اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے اور احتجاج کیا۔ان پلے کارڈس پر مودی نمو، واپس جاو کے نعرے تھے۔

اویناش نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ چار برسوں میں مودی نے اے پی سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور اب وہ ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مودی نے دہلی کی طرز کا درالحکومت اے پی میں بنانے کے لئے تعاون کا پیشکش کیا تھا تاہم انہوں نے اپنے وعدہ سے انحراف کردیااور ریاست سے دغابازی کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حمایت وائی ایس آرکانگریس کر رہی ہے۔اس موقع پر سیاہ غبارے بھی فضا میں چھوڑے گئے۔ویزاگ میں بھی تلگودیشم کے لیڈروں اورکارکنوں نے احتجاج کیا۔ان کارکنوں نے مشعل کی ریلی آج صبح کی اولین ساعتوں میں نکالی۔انہوں نے مودی واپس جاو کے نعرے لگائے اور ان کے دورہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کڑپہ میں اسٹیل پلانٹ کے قیام کی اجازت مودی نے نہیں دی ہے، ان کو اے پی کے دورہ کا کوئی حق نہیں ہے۔ضلع گنٹور میں بھی تلگودیشم کی جانب سے بڑے پیمانہ پر سیاہ پرچموں اور سیاہ پلے کارڈس کے ساتھ احتجاج کیا گیا۔

اس موقع پر ان احتجاجیوں نے کہاکہ مودی نے اے پی سے دھوکہ کیا ہے، وہ کس صورت لے کر گنٹور کا دورہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وائی ایس آرکانگریس، بی جے پی کی ایجنٹ بن گئی ہے۔ضلع میں پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانہ پر فلکسی بورڈس لگائے گئے ہیں جس میں مودی واپس جاو کے نعرے تحریر ہیں۔گنٹور کے جناح ٹاور کے قریب بھی تلگودیشم نے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا۔ضلع میں ہی تلگودیشم کے لیڈروں نے آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کرہاتھوں میں چھوٹے خالی گھڑوں کے ساتھ انوکھا احتجاج کیا۔اس موقع پر تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ جیہ دیو نے کہاکہ پارلیمنٹ میں جب اے پی کے حقوق کے بارے میں سوال کئے گئے تو اس کو نظر انداز کردیاگیا۔ تلگوفلموں کے ہیرو شیواجی نے انوکھا احتجاج کیا۔انہوں نے وجئے واڑہ کی دریائے کرشنا میں اپنے حامیوں کے ساتھ اتر کر احتجاج کیا۔اس احتجاج کے دوران اداکار اور ان کے حامیوں کے جسم کا نصف حصہ پانی میں تھااور ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جس میں مودی کے دورہ کی مخالفت کے نعرے تحریر تھے۔اس موقع پرانہوں نے الزام لگایا کہ مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے اے پی تنظیم نو قانون کے مطابق ریاست سے انصاف نہیں کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے