اگر حزب اختلاف متحد رہا تو 2019میں مودی کاجانا طے ........از: عابد انور

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th June 2018, 2:12 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

اگر متحد ہیں تو کسی بھی ناقابل تسخیر کو مسخر کرسکتے ہیں،کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،مضبوط آہنی دیوار کو منہدم کرسکتے ہیں، جھوٹ اور ملمع سازی کوبے نقاب کرسکتے ہیں اور یہ اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں ثابت ہوگیا ہے۔ متحد ہوکر میدان میں اترے تو بی جے پی کو شکست سے  اے وی ایم بھی نہیں بچاسکی۔ جو لوگ ہندوستان میں ای وی ایم کی سچائی پر ایمان رکھتے ہیں وہ شوق سے رکھیں لیکن اس کے بارے میں بھی سوچیں کہ ترقی یافتہ ممالک جن میں سپر پاورامریکہ بھی شامل ہے، انہوں نے ای وی ایم کو آخر رد ی کی ٹوکری میں کیوں ڈال دیا۔ کوئی تو وجہ ہوگی جب کہ جمہوریت کے بانیوں میں سے ایک ہونے کا دعوی کرنے والے اور طرز جمہوریت بخشنے والا برطانیہ نے کبھی ای وی ایم کواپنایا ہی نہیں۔ ایٹمی طاقت کاحامل فرانس میں بھی کبھی ای وی ایم کا استعمال نہیں ہوا۔ تو آخر ہندوستان تیکنالوجی میں کون سا تیس مار خاں ہے جو ای وی ایم پر مصر اور بضد ہے۔ جب کہ یہاں ہر چیز ادھار کی ہے۔ ای وی ایم بھی باہر سے بن کر آتا ہے۔جہاں بے ایمانی انسانی خون کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ بے ایمانی کے طریقے پچپن سے ہی سکھائے جاتے ہیں، قانون کو توڑنا قابل فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں عام لوگوں سے زیادہ حکمراں پارٹی کے اراکین  شامل ہیں۔ ایسی صورت میں ای وی ایم پر بھروسہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔خاص طور پر اس صورت میں جب الیکشن کمیشن کسی خاص پارٹی کا غلام بن جائے،جمہوری ادارے حکمراں پارٹی کی چمچہ گیری میں زمین آسمان ایک کردے۔ حکمراں پارٹی کے مفاد کو پورا کرنے کے لئے تمام ایجنسیاں حکم کا غلام اور اردلی بن جائے تو ای وی ایم کیا چیز ہے اور اس کوچلانے والے ہی جب مودی کو بھگوان ماننے لگیں تو انصاف اور جانبداری کی امید رکھنا بے معنی اور احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔

یہ سب چیزیں کرنا اور بھی اس وقت آسان ہوجاتا ہے جب مد مقابل کے صفوں میں انتشارہوں، افتراق اور بات بات پرلڑنا جھگڑنا عام ہو۔ بی جے پی نے ہمیشہ اسی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ سیکولر صفوں میں پھوٹ ہی بی جے پی کی طاقت ہے۔ بی جے پی کو شکست دینا ہے تو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہی ہوگا۔ اگر اتحاد ہے تو بی جے پی کو نہ ہی ای وی ایم جتاسکتی ہے ، نہ ہی ہندو مسلم کے نام پر ووٹوں کی صف بندی ، نہ ہی جناح کی تصویر اور نہ ہی گائے کا گوبر اور نہ پاکستان میں پٹاخے چلنے کی بات ہی بی جے پی کو فتحیاب کرسکتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے کیرانہ لوک سبھا سیٹ اور نورپور اسمبلی سیٹ جیتنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ کیرانہ سے نقل مکانی کے مفروضہ موضوع کو پھر سے اٹھایا، ہندوؤں کو مسلمانوں کے نام پر اکٹھاکرنے کی کو بھرپور کوشش کی ۔ یوگی کو اپنے وزراء  اور اراکین اسمبلی کے ساتھ کیمپ کرنا پڑا،مرکزی وزراء   کو’ کھٹے‘ گاڑنے پڑے، ہمارے پردھان سیوک کو رڈ شو کرنا پڑا اور پولنگ سے ایک دن قبل کیرانہ کے بغل میں ریلی کرنی پڑی اور اس میں کسانوں کو سبز باغ دکھائے لیکن اتحاد کے سامنے بی جے پی کی محنت اور مودی یوگی کاڈراما کچھ کام نہ آیا۔ بی جے پی نے تو اسے ہندوؤں کی ہارتک قرار دے دیا۔ مظفر نگر شاملی فساد کی کھیتی پر اقتدار میں آنے والے مودی اور یوگی کو اس بار جاٹ نے بھی کافی مایوس کیا۔جاٹ میں پھوٹ ڈال کر ہی بی جے پی نے 2014 کے  لوک سبھا میں الیکشن مغربی اترپردیش میں جیتا تھااور اسی انتشار کافائدہ یوپی اسمبلی انتخاب میں بھی بی جے پی نے اٹھایا۔جاٹوں کی تقسیم کے بل پر بی جے پی نے اس علاقے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس وقت چودھری چرن سنگھ کے وارث اجیت سنگھ نے اس تقٖسیم کو ہونے دیا تھا جب کہ انہیں یہ معلوم تھا کہ جاٹ اتحاد ہی ان کی اصل طاقت ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باپ بیٹے دونوں ہی لوک سبھا انتخابات ہارگئے۔

اس الیکشن کی خاص بات یہ رہی ہے کہ جاٹ طبقہ کسی طرح کے بی جے پی کے فریب میں نہیں آیا۔بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ وہ مسلم بھائیوں کے لئے قربانی دینا چاہتے ہوں اور ان کو مظفر فسادات کا پچھتاوا تھا۔ اس لئے ان لوگوں نے رمضان میں پولنگ ہونے کی وجہ سے صبح پولنگ بوتھ خالی کردئے تھے تاکہ روزہ دار مسلمانوں کو ووٹ ڈالنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔بی جے پی چاہتی تو کرناٹک اسمبلی کے ساتھ کیرانہ کا ضمنی انتخاب کرواسکتی تھی لیکن اس نے ایسانہیں کیا بلکہ جان بوجھ رمضان کے مہینے کا انتخاب کیا۔ اس کو معلوم تھاکہ رمضان میں مسلمان اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے اور ووٹ ڈالنے کے لئے سارے مسلمان نہیں نکلیں گے جس کافائدہ بی جے پی کو ہوگا لیکن بی جے پی کی یہ حکمت عملی بھی کام نہ آئی۔ اپوزیشن اتحاد اس پر پوری متحد اور مستعد تھا۔ای وی ایم میں گڑبڑی کے خلاف ان لوگوں نے جم کر مخالفت کی اورنتائج نکلنے تک مستعد رہے اور نتائج کے بعد وہ جس طرح مستعد رہے اور بیان دیا ان کی سمجھ کی عکاس ہوتی تھی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیاہے کہ بی جے پی صرف لالی پاپ دکھاکر ہندو مسلم دنگا کرواسکتی ہے لیکن زمینی سطح پر کوئی کام نہیں کرسکتی۔بی جے پی نے اس میں. ہندو مسلم موضوع کو ہوا دینے کی بھرپورناکام کوشش کی اور اس سے جتنے بھی داؤ ہوسکتے تھے سب کھیلا، سام، دام،ڈنڈ ، بھید کو بھی اپنایا لیکن اتحاد کے بی جے پی کے سارے وار خالی گئے۔ 

چار لوک سبھا اور 11 اسمبلی کی نشستوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے 2019 کے عام انتخابات سے پہلے ایک بڑا دھچکا ہے، جبکہ یہ حزب اختلاف کے اتحاد کی علامت ہے۔ بی جے پی کو دو لوک سبھا کی نشستیں کھو نی پڑی اور وہ ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔اترپردیش میں کیرانہ لوک سبھا اور نورپر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سخت جھٹکا لگا ہے۔ کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن نے بی جے پی امیدوار مرگانکا سنگھ کو 46،618 ووٹوں سے شکست دی۔ نورپور اسمبلی سیٹ پر سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے نعیم الحسن نے بی جے پی کی اونی سنگھ کو 5678 ووٹوں سے شکست دی۔نعیم الحسن کو اس سیٹ پر کانگریس کے ساتھ بی ایس پی، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ لوک دل اور بائیں کی حمایت حاصل تھی۔گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے بعد کیرانہ اور نورپور سیٹوں پر بی جے پی کو ملنے والی شکست کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے لئے بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔ آر ایل ڈی کے امیدواروں نے 481182 ووٹ حاصل کیے اور بی جے پی کے امیدواروں نے 436564 ووٹ حاصل کیے۔کیرانہ سے بی جے پی نے سابق ایم پی حکم سنگھ کی بیٹی مرگانکا سنگھ کو انتخابی میدان میں اتارا تھا، وہیں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کی تبسم منور حسن میدان میں تھیں۔کیرانہ لوک سبھا ضمنی الیکشن میں فتح حاصل کرنے والی راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن نے کہا کہ سال2019میں ہونے والے لوک سبھا کے الیکشن میں ریاست سے بی جے پی کا پتہ صاف ہوجائے گا۔ اس الیکشن میں اپنی کامیابی کا سہرا چودھری چرن سنگھ کی پالیسیوں او ر راشٹریہ لوک دل کے صدر اجیت سنگھ اور جینت چودھری کو دیا۔اس الیکشن میں بی جے پی کی شکست اس پارٹی کے زوال کا آغاز ثابت ہوگا۔میابی کے لئے کیرانہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن اور پولنگ کے دوران بی جے پی نے فرقہ پرستی پھیلانے کی سیاست کی اور لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے ہندو مسلم کے درمیان پیدا ہوئی تلخی کو دور کرنے کی کوشش کریں گی اور بھائی چارہ کا ماحول بنائیں گی۔ مرگانکاسنگھ نے تبسم حسن کو مبارک باد دیتے ہوئے اور مضبوط اپوزیشن کا اعتراف کیا۔ اسی طرح بہار کے ارریہ ضلع میں جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے امیدوار شاہنواز عالم نے شاندار جیت حاصل کی ۔ شاہنواز عالم نے جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو) کے امیدوار مرشد عالم کو 41 ہزار 224 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ آر جے ڈی کے امیدوار کو 81240 اور جے ڈی یو امیدوار کو 40016 ووٹ ملے ہیں۔ آر جے ڈی نے یہ سیٹ جے ڈی یو سے چھین لی ہے۔۔قابل ذکر ہے کہ سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں جوکی ہاٹ سیٹ جے ڈی یو کے امیدوار اور شاہنواز عالم کے بڑے بھائی سرفراز عالم نے جیتی تھی لیکن ، ان کے والد اور رکن پارلیمنٹ محمد تسلیم الدین کے انتقال سے ارریہ لوک سبھا سیٹ خالی ہونے کے بعد سرفراز عالم نے جے ڈی یو ایم ایل اے کے عہدے سے استعفی دے کر آر جے ڈی کے ٹکٹ پر ضمنی انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔ سرفراز عالم کے استعفیکی وجہ سے جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ خالی ہوئی تھی۔

جھارکھنڈکے ضلع بوکاروکے گومیااسمبلی نشست کیلئے ضمنی انتخاب میں جھارکھنڈمکتی مورچہ(جیایم ایم)کی امیدوارببیتادیوی نے آل جھارکھنڈاسٹوڈنٹس یونین (آجسو) امیدوارلنبودرمہتو کو 1344ووٹوں سے شکست دی ۔ محترمہ ببیتادیوی نے60551ووٹ حاصل کراس نشست پرجے ایم ایم کا قبضے کوبرقراررکھا۔آجسوامیدوارکو59207ووٹ ملے۔بی جے پی کے امیدوارمادھولال سنگھ42037ووٹ لیکرتیسرے مقام پررہے۔ راجدھانی رانچی کے سلی اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ(جے ایم ایم)کی امیدوارسیمادیوی نے آل جھارکھنڈاسٹوڈنٹس یونین (آجسو) کے صدر اور امیدوار سدیش مہتو کو 13510 ووٹوں سیشکست دی ۔محترمہ سیماکو77129ووٹ ملے۔وہیں مسٹرسدیش مہتوکی جھولی میں 63619ووٹ گئے۔مہیش تلہ سے ترنمول کانگریس کے امیدورا اور مہیش تلہ میونسپلٹی کے چیرمین دولال داس نے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے اپنے قریبی حریف بی جے پی کے امیدوار سجیت گھوش کو 62324 ووٹوں سے ہرایا۔ ترنمول کانگریس نے 2016میں اس سیٹ پر فتح حاصل کی تھی۔ راجندر گاوت کانگریس چھوڑ کر حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور شری نواس چنتامن ونگا بی جے پی چھوڑ کر شیوسینا میں۔بی جے پی کے سابق رکن پارلیمانی چنتامن ونگا کا 30جنوری کو انتقال ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس سیٹ پر 28مئی کو الیکشن کرایا گیا تھا۔مسٹر چنتامن ونگا کے بیٹے شری نواس ونگا کو بی جے پی نے ٹکٹ نہیں دیا جس کی وجہ سے شیوسینا میں شامل ہوگئے تھے اور شیو سینا نے انہیں اپناامیدوار بنایا تھا۔ بی جے پی کے امیدوار راجندر گاوت کو 272780اور شیو سینا کے شری نواس کو 243206ووٹ ملے جبکہ بی وی اے پارٹی کے امیدوار کو 222837ووٹ ملے۔مہاراشٹر کی بھنڈارا۔ گوندیا لوک سبھا سیٹ پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے مدھوکر ککڑے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیمنت پٹولے کو 20,583ووٹوں سے شکست دے دی۔بی جے پی کے نانا پٹولے کے پارٹی اور لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دینے کے بعد ضمنی الیکشن کرایا گیا۔ 

بی جے پی کی بوکھلاہٹ سے واضح ہے کہ 2019 اس بار  آسان نہیں ہے۔ ملک کے عوام کو معلوم ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں ہندومسلم کے درمیان نفرت کی بیج بونے کے علاوہ  بی جے پی نے کچھ نہیں کیا ہے۔ تمام غیر ملکی ایجنسیوں نے ہندوستان کو ہر معاملے میں پست دکھایا ہے۔ اس سے بڑھ کر  ہندوستان کے لئے بے عزتی کیا ہوگی کہ ترقی پذیرملک کا رتبہ چھن گیاہے اوروہ نیپال اور بنگلہ دیش جیسے چھوٹے ملکوں سے بھی اس معاملے میں پچھڑ گیا ہے۔ہندوستان کی معاشی، تعلیمی،سیاسی اورسماجی حالت بدتر ہوگئی ہے ،سرمایہ دار ملک چھوڑکر جارہے ہیں۔ بدامنی کا دور دورہ ہے۔ ان سب  کے باوجود بھی اگر 2019 میں مودی کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ملک کی بدنصیبی ہوگی اور ہندوستان اپنی ناکامی کی تاریخ خود لکھے گا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

عام آدمی پارٹی اور مرکزی سرکار کی کھینچا تانی۔اپوزیشن کا تیسرامحاذ ہورہاہے مستحکم

دہلی میں حکومت چلانے کے لئے آئی اے ایس افسران کی طرف سے عدم تعاون کو مسئلہ بناکر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے لیفٹننٹ گورنرانیل بیجال کے دفتر میں جو دھرنا دے رکھا ہے اس کی حمایت میں چار غیر بی جے پی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے حمایت کا مظاہرہ کیا ہے۔

جموں کشمیر میں رمضان کے مقدس مہینے میں دہشت گردوں نے کیا اورنگ زیب کو شہید

رمضان کےمقدس مہینے میں جموں وکشمیر میں دہشت گردوں نے اغوا کرنے کے بعد فوج کے جوان اورنگ زیب کا قتل کردیا ۔ ہفتہ کو اورنگ زیب کی موت سے پہلے کا ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ، جس ویڈیو میں فوجی جوان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب، شیوراج نہیں ہوں گے چہرہ

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حالت خراب ہے، اقتدار مخالف لہر ہر طرف نظر آرہی ہے، لہذا اب انتخابی چہرہ شیوراج نہیں ہوں گے اور کم از کم 130 موجودہ بی جے پی ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹے جائیں گے، اتنا ہی نہیں کانگریس کو کمزور سمجھنے کی بھول کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی، یہ پیغام کسی ...

ممبئی میں عیدالفطر مذہبی جوش وخروش سے منائی گئی ، عروس البلاد میں جشن کا ماحول

 ممبئی میں چاند کی عام رویت ہونے کے بعد سے عروس البلاد میں جشن کا سماں بندھ گیا اورسنیچر کی صبح شہر بھر کی مساجد میں فرزندان توحید نے نماز دوگانہ اداکی اور اپنے رب کے حضور سجدہ شکر اداکیا کہ ماہ صیام کے دوران اُس نے روزہ رکھنے اور مختلف عبادات کی توفیق عطا کی ۔

عید الفطر کے پیش نظر بھٹکل رمضان بازار میں عوام کا ہجوم؛ پاس پڑوس کے علاقوں کے لوگوں کی بھی خاصی بڑی تعداد خریداری میں مصروف

عیدالفطر کے لئے بمشکل تین دن باقی رہ گئے ہیں اور بھٹکل رمضان بازار میں لوگوں  کی ریل پیل اتنی بڑھ گئی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ عید کی تیاری میں مشغول مسلمان ایک طرف کپڑے، جوتے اور  دیگر اشیاء  کی خریداری میں مصروف ہیں تو وہیں رمضان بازار میں گھریلو ضروریات کی ہر چیز ...

آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

اسمبلی انتخاب کے بعدبھٹکل حلقے میں کانگریس اور بی جے پی کے اندر بدلتا ہوا سیاسی ماحول؛ کیا برسات کا موسم ختم ہونے کے بعدپارٹیاں بدلنے کا موسم شروع ہو جائے گا ؟

حالیہ اسمبلی انتخاب میں کانگریسی امیدوار منکال وئیدیا کی شکست کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سیاسی ماحول ایک آتش فشاں میں بدلتا جارہا ہے ۔ انتخاب سے پہلے تک بظاہرکانگریس پارٹی کا جھنڈا اٹھائے پھرنے اور پیٹھ پیچھے بی جے پی کی حمایت کرنے والے بعض لیڈروں کو اب ...

ہندو نیشنلسٹ گروپ سے اقلیتی طبقہ خوفزدہ، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ

امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں 2017 کے دوران ہندو نیشنلسٹ گروپ کے تشدد کے سبب اقلیتی طبقہ نے خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کیا۔

مودی حکومت کے چار سال: بدعنوانی، لاقانونیت،فرقہ پرستی اور ظلم و جبر سے عبارت ......... از: عابد انور

ہندوستان میں حالات کتنے بدل گئے ہیں، الفاظ و استعارات میں کتنی تبدیلی آگئی ہے ، الفاظ کے معنی و مفاہیم اور اصطلاحات الٹ دئے گئے ہیں ،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہا جانے لگا ہے، قانون کی حکمرانی کا مطلب کمزور اور سہارا کو ستانا رہ گیا ہے، دھاندلی کو جیت کہا جانے لگا ہے، ملک سے ...