مودی اور شاہ نے ملک میں ایمرجنسی لگادی ہے،اپنے دشمنوں کی زبان بند رکھنے تحقیقاتی اداروں کا استعمال ہورہاہے: یشونت سنہا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th August 2018, 9:22 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،29؍اگست(ایس او نیوز) سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے باغی لیڈر یشونت سنہانے کہا ہے کہ آج ملک میں ایمر جنسی جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ برسراقتدار طبقے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز دبانے کے لئے وزیراعظم مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ سرکاری ایجنسیوں کا کھلے عام غلط استعمال کررہے ہیں۔ موجودہ انتظامیہ میں سوائے مودی اور امت شا ہ کے کسی کو خاطر میں نہیں رکھا گیا ہے۔

آج شہر میں سابق وزیراعلیٰ آنجہانی رام کرشنا ہیگڈے کے جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں آمد کے بعد مخاطب ہوکر انہوں نے کہاکہ ملک کے جمہوری اداروں پر مودی اور امت شاہ نے جبراً قبضہ کررکھا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ایمرجنسی کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن حالات ایمرجنسی سے کچھ کم نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت کے خلاف جو بھی آواز اٹھاتا ہے اس کی آواز کو سختی سے دبایا جارہاہے، حیدرآباد میں کل انقلابی شاعر ورورا راؤ اور ان کے پانچ ساتھیوں کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان پر جھوٹے الزامات لگاکر گرفتار کرنے کی حرکت نے ثابت کردیا ہے کہ مرکزی حکومت ملک کو ایمرجنسی سے بدتر حالات میں مبتلا کرچکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان امکانات کے درمیان کہ اگلے انتخابات میں مودی کی ہار یقینی ہے، وزیراعظم مودی ملک کے اقتدار پرکسی بھی حالت میں قابض رہنے کی کوششوں میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں برسر اقتدار طبقہ اس قدر ظالم وجابر کبھی نہیں رہا، ملک میں جمہوری نظام کومضبوط کرنے کے لئے مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ نے ہم آہنگی سے کام کیا ہے، لیکن مودی حکومت نے ان تمام اداروں کی ساکھ کو متاثر کردیاہے۔عدلیہ ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان تال میل باقی نہیں رہا ، یہ صورتحال ملک کے لئے تشویشناک ہے، معاشی طور پر ملک کو تاراج کرنے میں مودی اور امت شاہ کو پیش پیش قرار دیتے ہوئے یشونت سنہا نے کہاکہ تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال مودی اپنے سیاسی مخالفوں کو دبانے کے لئے کررہے ہیں، انکم ٹیکس ، انفورسمنٹ، سی بی آئی وغیرہ مودی کے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

ملک کے عام آدمی کی صورتحال ایسی ہوگئی ہے کہ اگر اس نے مودی کے خلاف کچھ کہنے کی جرأت کی یا پھر ایسا کچھ کردیا جو مودی اور ان کے حواریوں کو پسند نہیں تو ایک بے قابو بھیڑ ایسے شخص کو ختم کردیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی اور امت شاہ کی سرپرستی میں ملک میں ایسی طاقتیں سراٹھارہی ہیں جو امن وامان کو تار تار کردینا چاہتی ہیں۔ رافیل طیارے کی خریداری کے سودے کا حوالہ دیتے ہوئے یشونت سنہا نے کہاکہ یہ ملک کا سب سے بڑا گھپلہ ہے اس کی سختی سے جانچ ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ایک جنگی طیارے کی خریداری کے معاملے میں ملک کی معتبر ترین کمپنی ایچ اے ایل پر بھروسہ کرنے کی بجائے مرکزی حکومت نے ایک ایسی نجی کمپنی پر بھروسہ کیا ہے جس کا وجود بھی اب تک ہو ا ہی نہیں ہے۔ جنگی طیاروں کو بنانے اور ان کی دیکھ بھال میں 60 سال کا تجربہ رکھنے والی ایچ اے ایل کمپنی کو نظر انداز کرکے ایک کاغذی کمپنی کو ان طیاروں کی فراہمی کا ٹھیکہ دینا اور وہ بھی ایچ اے ایل کی طے شدہ قیمتوں کے مقابل تین گنا زیادہ دے کر یہ مودی حکومت کی اقرباء پروری نہیں تو اور کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس گھپلے میں مودی کو کلیدی ملزم بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ رافیل کی خریداری کا جو معاہدہ ایچ اے ایل کمپنی سے ہٹ کر ریلائنس کمپنی سے کیا گیا ہے ، اس میں بدنیتی شامل ہے۔ ان طیاروں کی خریداری کی آڑ میں ملک کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رافیل سودے کی جانچ کی ذمہ داری کسی سرکاری ایجنسی کو بلکہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو دی جانی چاہئے۔ لوک سبھا کی میعاد چونکہ بہت کم رہ گئی ہے ، اسی لئے انہیں امیدہے کہ اگلی حکومت اس سودے کی جانچ ضرور کرائے گی۔

مرکزی حکومت پر جموں وکشمیر کے امن وامان کو تار تار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نہیں چاہتی کہ کشمیری عوام اپنے جمہوری حقوق کا کھل کر اظہار کریں۔ مرکز پر میڈیا کو اپنے کنٹرول میں لینے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میڈیا گھرانوں پر دباؤ ڈال کر یہ خیال رکھا جارہا ہے کہ مودی حکومت کا کوئی گھپلہ منظر عام پر آنے نہ پائے۔ ماضی میں جب بوفورس معاملہ سامنے آیا تو اسے عوام کے سامنے لانے میں میڈیا نے کلیدی رول ادا کیا، لیکن اب رافیل گھپلے پر میڈیا کی زبان پر تالا لگ چکا ہے۔ اس موقع پرریاستی جنتادل (متحدہ ) کے صدر ڈاکٹر ایم پی ناڈا گوڈا اور دیگر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

گوا میں بیرونی مچھلیوں کی درآمد پر لگی پابندی سے کاروار، ملپے میں مچھلیاں سستی تو منگلورو میں ہوگئیں مہنگی !

جب سے گوا کی حکومت نے فارمولین کے مسئلے پر بیرونی ریاستوں سے مچھلیوں کی درآمد پر پابندی رکھی ہے اور کچھ قانونی شرائط لاگو کی ہیں، تب سے ساحلی کرناٹکا کے شہروں میں اس کا کچھ ملا جلا اثر دکھائی دے رہا ہے۔

بیلگاوی میں احتجاج کے دوران کسان سورنا سودھا میں گھس گئے، وزیر اعلیٰ کی مداخلت کے بعد گرفتار شدہ افراد کی رہائی ، 20؍نومبر کو بنگلورو میں میٹنگ

شمالی کرناٹک کے بیلگاوی ضلع میں  گناہ اگانے والے کسانوں نے احتجاج کیا اور سوورنا سودھا کے احاطہ میں گنا سے لدی لاریوں کو زبردستی گھسا کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے ۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 10؍ کسان لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کےخلاف ایف آئی آر درج کردیا ۔

سنجے دت کے ہاتھوں19نومبرکواڈاپٹ فٹنس کا افتتاح، بنگلورو کا بین الاقوامی معیار پر مشتمل سب سے بڑا فٹنس سنٹر عوام کے لئے دستیاب

شہر کے فریزر ٹاؤن میں صحت اور فٹنس کو عام کرنے کے لئے عالمی معیار کی سہولتوں سے لیس ہندوستان کی سب سے بڑی اور خوبصورت جم اڈاپٹ فٹنس کا افتتاح 19نومبر کی شام منعقد کیا گیا ہے۔