مودی حکومت نے طلاق ثلاثہ پر پھرلایا آرڈیننس، صدر نے دی منظوری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th January 2019, 11:14 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 13/جنوری (ایس او نیوز)  طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانے والے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے منظوری فراہم کر دی ہے۔

طلاق ثلاثہ کی روایت کو فوجداری کے تحت جرم قرار دینے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل 2018، میڈیکل کونسل آف انڈیا (ترمیمی) بل 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میں تو منظور ہو گئے تھے لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظوری نہیں مل سکی تھی۔ لہذا کابینہ نے گزشتہ 10 جنوری کو دوبارہ آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا۔

تین طلاق اور میڈیکل کونسل پر آرڈیننس گزشتہ سال ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ سال نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں زیادہ تر وقت کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔

واضح رہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد اگلے پارلیمنٹ سیشن کے شروع ہونے کے 42 دن کے اندر اس سے متعلق بل اگرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خود بہ خود خارج ہو جاتا ہے لہذا حکومت کو تینوں آرڈیننس دوبارہ لانے پڑے ہیں۔

تین طلاق سے متعلق آرڈیننس میں تحریری، زبانی یا کسی دوسرے ذریعے سے تین طلاق دینے کو غیر قانونی بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ذرائع سے دیئے گئے تین طلاق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تین طلاق دینے والے کو تین سال تک کی سزا اور جرمانے کی تجویز ہے۔آرڈیننس کے ذریعے اسے غیر ضمانتی جرم بنایا گیا ہے، حالانکہ مجسٹریٹ میاں بیوی کے درمیان صلح کرانے اور بیوی کی دلیل سننے کے بعد شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔کمپنی قانون میں ترمیم والے آرڈیننس کے ذریعے کمپنی قانون کی 16 دفعات میں ترمیم کی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔

سشیل کمارمودی کا شتروگھن سنہا کو مشورہ، انتخابات نہ لڑیں، پولنگ ایجنٹ تک نہیں ملے گا

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور بہار کے نائب وزیراعلیٰ سشیل کمارمودی نے پارٹی کے باغی لیڈر شتروگھن سنہاپرکراراحملہ بولاہے۔سشیل مودی نے کہا کہ شتروگھن سنہا کو پٹنہ صاحب لوک سبھا لوک سبھا میں پولنگ ایجنٹ ملنا مشکل ہو جائے گا۔