پارلیمنٹ میں اپنے طور پر آئین میں ترمیم منظور نہیں کرا پائے گی مودی حکومت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th January 2019, 11:40 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی7جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکز کی نریندر مودی حکومت نے آج بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سرونوں میں اقتصادی طور پر پسماندہ طبقات کے لئے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 10 فیصد ریزرویشن کی منظوری دے دی۔

مودی حکومت منگل کو اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمی بل لائے گی۔توجہ رہے کہ یہ موجودہ 50 فیصد ریزرویشن سے الگ ہو جائے گا۔ 50 فیصد سے الگ ریزرویشن کے لیے حکومت کو آئینی ترمیم کی ضرورت پڑے گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مودی حکومت پارلیمنٹ میں اپنے طور پر آئینی ترمیمی بل پاس نہیں کرا پائے گی۔ یہ بل پاس کرانے کے لیے مودی حکومت کو اپوزیشن کا ساتھ ضروری ہوگا۔یہ ریزرویشن موجودہ 49.5 فیصد ریزرویشن کی حدکے اوپرہوگا۔اسی لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہوگی۔ اس کے لیے آئین کی دفعہ 15 اور 16 میں تبدیلی کرناہوگا۔ سیکشن15 کے تحت تعلیمی اداروں اور دفعہ 16 کے تحت روزگار میں ریزرویشن ملتاہے۔ اگرپارلیمنٹ سے یہ بل پاس ہو جاتا ہے تواس کا فائدہ برہمن، ٹھاکر، بھومیہار، کایستھ، بنیا، جاٹ اور گوجر وغیرہ کو ملے گا۔ اگرچہ آٹھ لاکھ سالانہ آمدنی اورپانچ ہیکٹر تک زمین والے غریب ہی اس کے دائرے میں آئیں گے۔ریزرویشن کو لے کر سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل صاف ہے۔ بھارت میں اب 49.5 فیصد ریزرویشن کا بندوبست ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، کوئی بھی ریاست 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دے سکتی۔ ( تمل ناڈو میں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن ہے)ریزرویشن کے موجودہ نظام کے تحت ملک میں ایس سی ایس ٹی کے لیے 15 فیصد، ایس ٹی کے لیے 7.5 فیصد، دیگر پسماندہ طبقات کے لیے 27 فیصد ریزرویشن ہے۔بھارت میں اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔ اسی لیے اب تک جن جن ریاستوں میں اس بنیاد پر ریزرویشن دینے کی کوشش کی گئی اس کورٹ نے مسترد کر دیا۔6 نومبر، 1992 کو سپریم کورٹ نے اندرا ساہنی اور دیگر بمقابلہ بھارت یونین اور دیگر (AIR 1993 SC 477) میں اپنا فیصلہ سنایا۔ جس میں مانا گیا ہے کہ آرٹیکل 16 (4) کے تحت کل ریزرویشن 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوناچاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

چوکیدارکا ٹھپہ نہیں چاہتی پرائیویٹ سیکورٹی انڈسٹریز

قریب 80 لاکھ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز والی انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے ’چوکیدار‘ مہم سے بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے، البتہ وہ اپنی بہت مشکلات کو لے کر خود مرکزی حکومت سے لڑ رہی ہے۔سیکورٹی سروسز پر 18فیصد جی ایس ٹی کے خلاف برسرپیکار رہی کمپنیاں اب حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا ...

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔